سوات آپریشن جلد مکمل ہوگا قوم خوشخبری سنے گی‘ کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا : وزیراعظم

02 جولائی 2009
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ہدایت کی ہے کہ تمام وزراء اور سیکرٹری اپنی اپنی وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ کا جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مختص بجٹ قواعد وضوابط اور بہتر مالیاتی نظم وضبط کے تحت ضروریات پر خرچ کیا جائے ۔ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی گڈگورننس کی پالیسی کے تحت تمام وفاقی سیکرٹریوں کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں وہ اکاؤنٹس کی ماہانہ بنیاد پر اکاؤنٹینٹ جنرل کے دفاتر سے پڑتال کرائیں کھاتوں کو مرتب کرنے کا مناسب نظام بنائیں۔ وزیراعظم نے بعض سرکاری ملازمین کی طرف سے اپنی ملازمت کے امور میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے رابطے قائم کر کے سیاسی اثرورسوخ استعمال کرنے کا سختی سے نوٹس لیا اور کہا کہ سرکاری ملازمین کو قواعد وضوابط کے تحت ارکان پارلیمنٹ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں اب ایسے افسروں کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی پر ملازمت سے برطرفی اور کنڈکٹ رولز کے تحت اقدام کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان سے کہا کہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اعلیٰ کارکردگی کے حامل سرکاری ملازمین کو انعامات دینے کے لئے نظام وضع کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدامنی کا شکار علاقوں میں آپریشن مناسب انداز میں جاری ہے۔ مسلح افواج کا حوصلہ بلند ہے انہیں محب وطن پاکستانیوں کی حمایت حاصل ہے۔ قوم مقدس فریضہ کی ادائیگی میں جان قربان کرنے والے فوجی افسروں اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی 27 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 17 ویں ترمیم کا جائزہ لے گی تاکہ پارلیمانی جمہوریت کو مستحکم بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کپ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کامیابی کی تعریف کی اور کہا کہ حکومت اور عوام کو اپنے ہیروز پر فخر ہے جنہوں نے ملک کے لئے نیک نام کمایا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کابینہ کے ارکان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی سابقہ قیمتیں بحال کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ وفاقی کابینہ میں اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں‘ بیشتر ارکان نے اس اہم فیصلے پر اعتماد میں نہ لینے پر احتجاج کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلہ پر کابینہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک گروپ کا مطالبہ تھا کہ قیمتوں میں اضافہ سے ملک میں مہنگائی کی ایک اور لہر اٹھے گی جو عوام کے شدید ردعمل کا بھی سبب بن سکتی ہے، حکومت نے بجٹ پیش کرتے ہوئے غربت کے خاتمہ کے لئے جن اقدامات خاص کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے جن مقاصد کے حصول کا ٹارگٹ رکھا تھا وہ اس ایک فیصلہ سے ضائع ہو جائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ اس فیصلہ کو کرنے سے قبل کابینہ کو اعتماد میں لیا جاتا، اعتماد میں نہ لینے پر ارکان نے احتجاج بھی کیا۔ تاہم وزیراعظم نے اس احتجاج و مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اضافہ بجٹ اور مالیاتی بل میں دیئے گئے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے جس کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ گو یہ ایک سخت فیصلہ تھا مگر پٹرولیم کی پاکستان میں قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک کئے جانے کے بعد قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ درست اقدام ہے۔صحافیوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے یقین دلایا کہ قوم کی توقعات کے مطابق مالاکنڈ میں جاری فوجی آپریشن جلد کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گا۔ متاثرین کو جلد اپنے گھروں میں واپس بھیج دیا جائے گا، قوم اس حوالے سے خوشخبری سنے گی، عوام کے مینڈیٹ کا احترام اور لوڈشیڈنگ جیسے دیگر مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہیں، بجلی اگر پیسوں سے خریدنی پڑے تو ہم فوراً خرید لیںلیکن اس کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو کی جاچکی ہے، دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور فوج کا مورال انتہائی بلند ہے، متاثرین کی واپسی اور تعمیر نو کے حوالے سے تین نکاتی ایجنڈے پر مشتمل پالیسی بنائی گئی ہے جس کو شفاف طریقے سے چلائیں گے، تعمیر نو کے حوالے سے بھی سروے ہو رہا ہے اس پالیسی کو بھی آرگنائز کردیاگیا ہے، فوجی آپریشن آخری حل نہیں ہمیں مالاکنڈ اور سوات میں قیام امن اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے مستقل حل تلاش کرنا ہوگا ،حکومت نے عزم کر رکھا ہے کہ فاٹا اور قبائلی علاقوں میں گڈ گورننس فنڈ قائم کیا جائیگا، دہشتگردی ایک ایسا کینسر بن چکا ہے جس کا علاج انتہائی ناگزیر ہوگیا ہے اور پوری قوم کی نظریں دہشتگردی کے خلاف جاری اس کوشش پر لگی ہوئی ہیں، ہماری معیشت کی ترقی میں بھی یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جب دہشتگردی کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی یقیناً درست ہوگی جس سے ہماری معاشی حالت درست سمت پر گامزن ہوجائیگی، لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو کابینہ کے اجلاس میں خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا، وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ گرمی کے موسم میں لوڈشیڈنگ سے عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں جلد رد و بدل ہو گا وزیراعلی سندھ کی تبدیلی کا فیصلہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کرینگے۔ سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل حاصل کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کافی احساس محرومی ہے اسے دور کرنے کیلئے پوری توجہ دینگے۔ کیری لوگر بل پیش ہونے کے بعد ملنے والی رقم شورش زدہ علاقوں پر خرچ کرینگے۔ بجٹ پر اپوزیشن کے مثبت کردار پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پولیس میں سابقہ فوجیوں کو بھی بھرتی کیا جائے گا۔