فوج سوات متاثرین کی بحفاظت واپسی یقینی بنائے گی ‘ صدر نے جامع منصوبہ کی منظوری دیدی

02 جولائی 2009
فوج سوات متاثرین کی بحفاظت واپسی یقینی بنائے گی ‘ صدر نے جامع منصوبہ کی منظوری دیدی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں متاثرین سوات ‘ مالاکنڈ کی بحفاظت واپسی کے لئے فوج کے جامع منصوبہ کی منظوری دے دی ہے‘ جس کے تحت پاک فوج متاثرین کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائے گی‘ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی‘ اس سے قبل جنرل کیانی نے صدر اور وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق ملاقات میں سیاسی و عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈال کر حکومت کی بالادستی قبول کرنا ہو گی۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی‘ اس میں واپسی کا کوئی آپشن نہیں‘ تینوں رہنماؤں نے شدت پسندوں کو اسلحہ کی فراہمی اور بیرونی فنڈنگ کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کی پشت پر ہے‘ یہ جنگ قومی بقاء اور سالمیت کے لئے لڑی جا رہی ہے‘ قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے فوج کی ہر ضرورت پوری کی جائے گی۔ وزیراعظم نے آرمی چیف کو ہرممکنہ حکومتی تعاون کا یقین دلایا۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کے ساتھ انجام کو پہنچے گی۔ ملاقات میں مالاکنڈ اور وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ آئی ڈی پیز کی امداد‘ بحالی اور خطے کی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ صدر نے کہا کہ اب حکومت نقل مکانی کرنے والے افراد کی ان کے گھروں میں محفوظ واپسی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ آرمی چیف نے مالاکنڈ اور وزیرستان آپریشن کی موجودہ صورتحال کے بارے میں صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ صدر کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران مالاکنڈ اور جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن‘ بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور سکیورٹی کی مجموعی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ ترجمان وزیر اعظم ہائوس کے مطابق ملاقات میں قومی سلامتی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا‘ آرمی چیف نے صدر اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو فرانس، جرمنی اور روس کے اپنے حالیہ دوروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں سوات اور مالاکنڈ میں جاری آپریشن راہ راست کے نتائج، وزیرستان میں جاری کارروائی، متاثرین کی واپسی ، بحالی اور تعمیر نو کے مجوزہ منصوبے سمیت پاک فوج کی پیشہ ورانہ ترقی اور تربیتی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آپریشن ’’راہ راست‘‘ کے اب تک کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالاکنڈ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے پاک فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دی ہیں جنہیں حکومت اور پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ حکومت کسی کو بھی ریاست کی عملداری چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی، دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں تو بہتر ہے ورنہ ان کے خلاف عسکری کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قومی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق جنرل کیانی نے وزیراعظم کو بتایا کہ آپریشن راہِ راست حتمی مراحل میں ہے جسے جلد مکمل کر لیا جائے گا‘ آپریشن میں اب تک 17سو سے زائد عسکریت پسند ہلاک جبکہ غیر ملکیوں سمیت 80 سے زائد دہشت گرد گرفتار ہو چکے ہیں۔ اب سکیورٹی فورسز علاقے کو محفوظ بنا رہی ہیں تاکہ متاثرین کی حفاظت کے ساتھ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو افواج پاکستان پر فخر ہے‘ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے عوام اور حکومت مسلح افواج کی ہر ممکن حمایت جاری رکھیں گے۔ جس طرح مشکل حالات میں افواج پاکستان نے شدت پسندوں کیخلاف جرأت مندانہ کارروائیاں کر کے کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ حوصلہ افزاء اور قابل تعریف ہیں۔ آرمی چیف نے محترمہ بینظیر بھٹو کی 56ویں سالگرہ کے موقع پر بطور عطیہ جمع کی جانے والی چھ ہزار خون کی بوتلوں کی مسلح افواج کو فراہمی پر پیپلز پارٹی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلح افواج ملکی استحکام کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریگی جب بھی ضرورت پڑی ہم اپنے فرائض کے مطابق ہراول دستہ ثابت ہوں گے اور کسی کو ملکی سلامتی چیلنج کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی خاطر جان کی قربانی دینے والوں پر فخر ہے۔ حکومت کسی کو بھی ریاست کی عمل داری چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ قومی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آپریشن راہ راست حتمی مراحل میں ہے اسے جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ اب اعلیٰ سطح کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مالاکنڈ و جنوبی وزیرستان فوجی آپریشن‘ متاثرین کی بحالی اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے حوالے سے صدر کو بریفنگ دی‘ آرمی چیف نے صدر اور وزیراعظم کو فوجی آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ شدت پسندوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ حکومت متاثرین کی مکمل اور باعزت واپسی پر توجہ دے۔ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر پائیدار امن قائم کریں گے۔ شدت پسندوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ صدر زرداری نے شدت پسندوں کے خلاف جاری سکیورٹی فورسز جانب سے آپریشن کے اب تک نتائج پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔