ہمارے ہیروز قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ‘ مادر ملت فاطمہ جناحؒ‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور مجید نظامی ہیں

02 جولائی 2009
لاہور (خصوصی رپورٹر) ہمارے ہیروز قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ‘ مادر ملت فاطمہ جناحؒ‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور مجید نظامی ہیں۔ ان لوگوں نے ڈٹ کر کفریہ طاقتوں کا مقابلہ کیا۔ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کفریہ طاقتوں سے ڈرنے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہی نظریہ پاکستان ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین اور ماہر اقبالیات علامہ احمد علی قصوری نے نظریہ پاکستان کے زیر اہتمام نظریاتی سمر سکول کے تیسرے روز طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں تلاوت کی سعادت حافظ علی انوار نے حاصل کی جبکہ مبین عباس نے اردو اور انعم ندیم نے انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ اذان ایثار نے نعت رسولؐ پیش کی۔ نظریاتی سمر سکول کے بچوں نے ترنم کے ساتھ موسیقی کی دھنوں پر کلام اقبالؒ اور ملی نغمہ پیش کیا سٹیج سیکرٹری کے فرائض طالبہ حفصہ شاہد نے سرانجام دیئے جبکہ اس موقع پر نظریاتی سمر سکول کے پرنسپل علامہ پروفیسر محمد مظفر مرزا‘ پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین مرزا‘ تحریک پاکستان کے کارکنان کرنل (ر) جمشید احمد ترین اور پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی بھی موجود تھے۔ علامہ احمد علی قصوری نے کہا کہ اس کائنات میں سب سے زیادہ عظیم ہستی ہمارے نبی کریمؐ ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے اور آنحضرتؐ کے امتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس آزاد پاکستان میں پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا طالب علم بننے کیلئے ضروری ہے کہ دن رات حصول تعلیم پر توجہ دی جائے۔ والدین اور اساتذہ کا کہا مانا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں سوات متاثرین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مجید نظامی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ان متاثرین کیلئے پچاس لاکھ روپے سے فنڈ قائم کیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم کفریہ طاقتوں سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھر پور انداز میں مقابلہ کریں کیونکہ زندگی اور اموت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور آنحضرتؐ کی تعلیمات بھی یہی ہیں۔ تحریک پاکستان کے کارکن کرنل (ر) جمشید احمد ترین نے کہا کہ میں نے قائداعظمؒ کو بہت قریب سے دیکھا ہے وہ انتہائی باحوصلہ‘ غیرت مند اور ایماندار انسان تھے۔ نظریاتی سمر سکول میں آج کے دن بہترین طالب علم کا انعام ایمان ایثار اور درنجف نے حاصل کیا اردو میں مضمون نویسی کے مقابلے میں مہک صابر‘ مریم ظفر‘ حافظ عدیل اشرف‘ مبین شاہ اور عثمان علی جبکہ انگریزی میں مضمون لکھنے کا انعام محمد اخلاص محمود نے حاصل کیا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے علامہ احمد علی قصوری اور کرنل (ر) جمشید احمد ترین کو یادگاری شیلڈز اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی مطبوعات کا سیٹ دیا۔