پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ ہی آٹا‘ دالیں اور دیگر اشیاء بھی مہنگی

02 جولائی 2009
لاہور (کامرس رپورٹر) نئے مالی سال کے آغاز پر پٹرول‘ ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ اشیاء خوردونوش سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافہ ہو گیا ہے۔ بیشتر فلور ملوں نے 20کلو آٹے کے تھیلے میں 10روپے اضافہ کر دیا جس سے اسکا ایکس مل ریٹ 495سے 505روپے اور پرچون ریٹ 500سے 510روپے ہو گیا اسی طرح تھوک مارکیٹ میں 100کلو بوری دال مونگ دھلی ہوئی 300روپے اضافے کیساتھ 4400سے 4700روپے‘ 100کلو بوری دال ماش دھلی ہوئی 990روپے کے اضافے کیساتھ 10000 سے بڑھ کر 10990روپے‘ 100کلو امپورٹڈ مسر 450روپے اضافہ کیساتھ 8800سے 9250‘ 100کلو دال چنا کی بوری کی قیمت 450روپے اضافہ کے ساتھ 3500سے بڑھکر 3950روپے ہو گئی۔ علاوہ ازیں یکم جولائی سے سیگریٹوں‘ بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا جبکہ ملٹی نیشنل کمپنی کے جوس کی بوتل کی قیمتوں میں 5روپے اضافہ سے 40روپے کی ہو گئی۔ شہری حلقوں نے مہنگائی کی حالیہ لہر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ہمارا معاشی قتل کر دیا ہے۔ دریں اثناء کاشتکاروں نے بتایا ہے کہ 670روپے والی یوریا کھاد کی بوری بلیک میں بھی 950روپے کی ہو گئی ہے۔
اشیا مہنگی