چھانٹا

02 جولائی 2009
پوپلے لہجے میں گڑگڑا کر‘ منت سماجت کرتے اور مائی باپ پکارتے امریکہ بہادر سے رحم کی اپیل کے لئے غالباً مشیر خزانہ شوکت ترین ہی موزوں شخصیت قرار پائی ہیں۔ ان کی منت سماجت کا انداز ملاحظہ فرمائیے ’’امریکہ بجلی کی سبسڈی کی مہلت چھ ماہ تک بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف کو آمادہ کرے۔‘‘ اسے شانِ بے نیازی کہا جائے یا رعایا کے نخرے‘ شوکت ترین اپنے ملک کے عوام کی آنکھوں میں تو دھول جھونک سکتے ہیں۔ گذشتہ چھ ماہ سے پوری ڈھٹائی کے ساتھ جھونک بھی رہے ہیں‘ مگر اپنے آقا امریکہ بہادر کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے قرض کے حقیر ٹکڑوں کے عوض ایسی ایسی شرائط تسلیم کر لیں کہ ان کی موجودگی میں ملک کی آزادی و خودمختاری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور ان کے ہوتے ہوئے ملک کا کوئی شہری آبرومندی کے ساتھ سر اٹھا کر چلنے کا نہیں سوچ سکتا۔ ہر وہ جکڑبندی راضی بہ امریکہ تسلیم کر لی گئی جس کے بعد خودداری کا بھرم بھی قائم نہیں رکھا جا سکتا بجلی کے نرخوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ کے ساتھ ساتھ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ بھی انہی شرائط کا حصہ ہے اور ان شرائط کے لاگو ہوتے ہی بجاآوری بھی کر دی گئی تھی یعنی اس سال کے آغاز میں ہی بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی گئی اور صارفین بجلی کو ماہ فروری میں جو بل وصول ہوئے ان میں سبسڈی والا خانہ خالی تھا۔ چنانچہ یہ چھوٹ ختم ہونے کا بوجھ گذشتہ چھ ماہ سے صارفین بجلی پر پڑ چکا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جنرل سیلز ٹیکس بھی صارفین بجلی کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔
اس کھلے عام ڈکیتی کے باوجود مشیر خزانہ قوم کو چکمہ دئیے جا رہے ہیں کہ بجلی کے بلوں میں سبسڈی بتدریج ختم کی جائے گی۔ حد تو یہ ہے کہ اس چکمے کو پوری ڈھٹائی کے ساتھ وفاقی بجٹ کا بھی حصہ بنا دیا گیا چنانچہ اس حقیقت کے باوجود کہ بجلی پر سبسڈی گذشتہ چھ ماہ سے ختم ہو چکی ہے‘ خزانہ کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے اپنی بجٹ تقریر میں یہ لکھا لکھایا فقرہ قومی اسمبلی کے منتخب فورم پر بھی پڑھ دیا کہ بجلی پر سبسڈی بتدریج ختم کی جائے گی۔ اس چکمے کے ساتھ ہی وفاقی بجٹ کی منظوری ہو چکی ہے اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان بھی اس چکمے میں آ چکے ہیں چنانچہ انہوں نے بھی گذشتہ روز یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا کہ حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ تک سبسڈی سے دستبردار نہیں ہو گی۔
حکومت تو سبسڈی سے ہی نہیں‘ آئی ایم ایف کے حضور قومی غیرت اور خودداری سے بھی دستبردار ہو چکی ہے چنانچہ آئی ایم ایف کا چھانٹا ہوا میں لہرانے سے پہلے ہی اس کے ہر حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے۔ بجلی کی سبسڈی نے تو آئی ایم ایف کی شرائط کی منظوری کے ساتھ ہی گھٹنے ٹیک دئیے تھے۔ پھر اب وہ کون سی سبسڈی ہے جسے چھ ماہ تک برقرار رکھوانے کے لئے امریکہ کے ذریعے آئی ایم ایف سے مہلت طلب کی جا رہی ہے؟ یہ ہوئی ناں آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات اور وہ بھی اس امریکہ کی آنکھوں میں جس نے خود آئی ایم ایف سے قرضوں کے عوض اس سے شرائط رکھوائی اور ہم سے تسلیم کرائی ہیں۔ کیا امریکہ تک اب تک اتنی بھی خبر نہیں پہنچی ہو گی کہ ہمارے فدوی حکمرانوں نے تو بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی شرط اسی وقت تعمیل کے مراحل سے گزا ر دی تھی جب اس شرط کے عوض قرضے کی ابھی پہلی قسط وصول بھی نہیں ہوئی تھی۔ اب یہ سبسڈی کے نام پر کوئی اور چھانٹا پڑا ہوا لگتا ہے جیسے پٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس کو بجٹ کا حصہ بنا کر پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں شتر بے مہار اضافے کا جواز نکالا گیا ہے اور یہ سارے جواز درحقیقت اس غریب مار مہم کا حصہ ہیں جس کی بنیاد پر ملک میں غربت کے خاتمہ کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ جب ملک میں اپنے گوناں گوں مسائل سے عاجز آئے بے وسیلہ انسان اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھونے لگیں گے تو غربت کا لیبل بھلا کیسے برقرار رہ سکے گا‘ چنانچہ امریکہ کے ذریعے آئی ایم ایف کے لئے قدیم ترین شوکت ترین کی اپیل قبرستان کو وسعت دینے تک مزید چھانٹا نہ مارنے کی لجاجت بھری اپیل ہے؎
گر قبول افتد زہے عز و شرف