وفاقی وزیر تعلیم کے نام خط

02 جولائی 2009
انتہائی قابل احترم میر ہزار خان بجرانی صاحب اسلام علیکم۔
سائیں آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک اگرچہ ہر حکومت نے شعبہ تعلیم کو اور بالخصوص شرح خواندگی 100 فیصد حاصل کرنا اپنی اولین ترجیح قرار دیا لیکن ہر حکومت کے عملی سطح پر اٹھائے گئے اقدامات ان زبانی کلامی دعوئوں کی قلعی کھولنے کے لئے اظہر من الشمش ہیں۔ مثال کے طور پر خواندگی کے فروغ کے لئے درآمدات پر اربوں روپے اقراء فنڈز میں وصول کردہ رقوم کا حشر ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔
کسی بھی حکومت کے فروغ تعلیم کے بارے میں بلند و بانگ دعوئوں کا پیمانہ شعبہ تعلیم کے لئے وفاقی بجٹ میں فنڈز کی ایلوکیشن سے کیا جاتا ہے۔ یعنی جی ڈی پی یا قومی آمدن کا کتنا فیصد کس شعبہ کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ ا س سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔ حکومت کے شائع کردہ اکنامک سروے اور وزارت فنانس کے سرکاری اعلانات کے علاوہ عالمی سطح پر گلوبل مانیٹرنگ رپورٹس 2008-2009کے 1995ء سے لیکر 2009 ء تک گزشتہ 14برسوں میں شعبہ تعلیم کے لئے GDPکی شرح فیصد حسب ذیل ہے۔
سائیں گستاخی نہ ہو تو عرض کروں کہ فنانس بل یعنی بجٹ پیش کرنے سے قبل مشیر خزانہ جناب شوکت ترین صاحب دی نیشن کے ایڈیٹر جناب عارف نظامی کی دعوت پر لاہور تشریف لائے تو میں نے انکی خدمت میں ماضی کا مایوس کن حکومتی ریکارڈ پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو موجودہ سنگین بحرانوں سے نجات دلانا مقصود ہے تو شعبہ تعلیم کو جی ڈی پی کا کم از کم 4فیصد عطا فرمائیے جس کا 10فیصد اگلے 10سال کیلئے خواندگی کے شعبہ کیلئے مختص فرمائیے۔ میں نے عرض کیا اگر وسائل کی کمی ہے تو زرعی آمدنی پر مناسب ٹیکس لگا کر یہ مسلہ حل ہو جائے گا۔ جناب شوکت ترین نے خاکسارکو یقین دلایا کہ میری خواہش سے بڑھ کر قوم کو بجٹ میں خوشخبری ملے گی ، لیکن جب بجٹ کے بعد شوکت ترین نے اعلان کیا کہ زرعی ٹیکس لگانے سے ان کی جان کو خطرہ تھا تو میرا ماتھا ٹھنکا اور سائیں میں نے آ پ کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 18جون کو چیف جسٹس میاں محبوب احمد کی صدارت میں تعلیمی ماہرین کی متفقہ رائے میں آپ کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مالی وسائل کی کمی کو عوامی تائید اور سرسید احمد خان کی طرح محب وطن عوام کے تعاون سے ایک موومنٹ، تحریک چلانے کی اپیل کی گئی۔ سائیں آپکی قیادت میں عوامی تعاون سے ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
سال GDPکی شرح فیصد
1995-96
2.00
2002-2003
1.7
1996-97
2.62
2003-2004
2.20
1997-98
2.34
2004-2005
2.12
1998-99
2.40
2005-2006
2.40
1999-2000
1.7
2006-2007
2.42
2000-2001
1.6
2007-2008
2.49
2001-2002
1.9
2008-2009
1.25