کُچھ ’بارھویں منزل سے چھلانگ‘ پر

02 جولائی 2009
ایک نوجوان بارہویں منزل پر ایک دفتر میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ ایک شخص ہانپتا کانپتا اُس کے دفتر میں داخل ہوا اور چھوٹتے ہی چلایا‘ ’گل محمد تیری بیٹی بھاگ گئی!‘ گل محمد خالی خالی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہا تھا کہ وہ دوبارہ چیخا‘ ’تیری بیٹی بھاگ گئی!‘ گُل محمد نے اِدھر اُدھر دیکھا اور ایک کھڑکی کھلی پا کر اُدھر لپکا اور‘ ’میرے مولا! یہ کیا ہو گیا!‘ کہہ کر کھڑکی سے چھلانگ لگا دی! ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے دوش پر ابھی اُس نے دسویں منزل تک کا سفر طے کیا تھا کہ اُسے یاد آیا کہ اُس کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں‘ ساتویں منزل تک پہنچتے پہنچتے اُسے اچانک یاد آ گیا کہ ابھی تو اُس کی شادی ہی نہیں ہوئی اور تیسری منزل سے نیچے دوسری منزل سے پہلے پہلے اُس پر یہ بھی کھُل گیا کہ وہ گل محمد نام کے کسی شخص سے واقف نہیں‘ اور پہلی منزل کے قریب اُسے اپنا نام بھی یاد آ چکا تھا‘ جو ’گُل محمد‘ ہرگز نہیں تھا! لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا‘ کسی خواہش کے بغیر ایک دھماکے ساتھ ایک لہولہان ’خبر‘ جنم لے چکی تھی!تیرھویں منزل پر جنابِ گُل محمد کے دفتر میں اُن کی بیٹی کی ’خواہش‘ ’خبر‘ بن کے پہنچی تو انہوں نے یہ ’صدمہ‘ بہت آرام کے ساتھ سہہ لیا اور بارہویں منزل سے ’نامعلوم وجوہ‘ کی بنا پر ’خودکشی‘ کر لینے والے نوجوان کے لواحقین سے افسوس کرنے چل دیا!
ہم سے کہا گیا‘ ’تم خطرے میں ہو!‘ اور ہم نے ’ریڈ زون‘ میں پناہ لے لی‘ ہمیں یاد ہی نہیں رہا کہ ہم تو ’قومی آزادی‘ کی علامت ہیں‘ تینوں مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں‘ ہمیں برف پوش پہاڑوں‘ سنگلاخ کوہساروں‘ صحرائوں کی تپاں وسعتوں‘ دریائوں کے شاداب میدانوں‘ کھیتوں اور کھلیانوں تک ’قومی آزادی کے تحفظ‘ کے لئے سینہ سپر رہنے کی تربیت دی گئی تھی! اور ہم اُسی ’قوت‘ کے بل پر زبردستی ’صدارتی محل‘ میں آن دھمکے تھے‘ جہاں صرف ایک ’فون کال‘ سنتے ہوئے ہمارے ’اوسان‘ کے ساتھ ساتھ تمام ’اوزان‘ بھی خطا ہو گئے اور ہم ڈولتے ڈگمگاتے اُن کی جھولی میں آن گرے!
اب‘ ہمیں آہستہ آہستہ یاد آ رہا ہے کہ ’قومی آزادی‘ اور ’قومی خودمختاری‘ کا تحفظ تو ہمارا مسئلہ سرے سے تھا ہی نہیں! مختاری تو بے چاری مدت ہوئی گاتے گاتے گلا بیٹھ جانے کے بعد اللہ کو پیاری ہو چکی۔ ابھی تو ہم ’قوم‘ بنے ہی نہیں تھے اور پھر ہمیں یاد آ گیا‘ وہ نجانے کس سے بات کر رہا تھا‘ ہم تو اُس کے مخاطب تھے ہی نہیں مگر ’وقت‘ ہاتھ سے نکل چکا تھا!اب‘ امریکی ادارے ہمارے پیچھے ہیں‘ اسرائیلی ادارے اُن کا کام آسان کرنے کے راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں اور بھارتی قونصل خانے منزل در منزل بلند ہوتے چلے جا رہے ہیں! مگر اب پچھتاوے کیا ہوت؟ جب چڑیاں چگ گئیں کھوت!ابھی ایک حضرت نے قوم سے ’کالاغ ڈیم‘ مکمل کرنے کی ’درخواست‘ کی ہے جبکہ وہ آٹھ سال تک جناب پرویز مشرف کی ناک کے بال رہ چکے تھے! حالانکہ ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ اُن کے ’کان کے بال‘ ہوتے تو بھی وہ انہیں ’کالاباغ ڈیم‘ کا منصوبہ یاد بھی نہ کروا پاتے! لہٰذا اب اُن کا ’ضمیر‘ جاگ اُٹھا ہے اور وہ ’قوم‘ سے وہ بات کہہ رہے ہیں جسے وہ اپنے ’قائد‘ سے نہ کہہ سکے!جناب محمد علی درانی اور جناب سلمان شاہ قوم کے آگے ’معافی تلافی‘ کے لئے گڑگڑا رہے ہیں مگر حیران کن بات یہ ہے کہ وہ یہ کام اپنے لئے نہیں کر رہے بلکہ درحقیقت جناب پرویز مشرف کے ’مٹی پائو‘ ’جان دیو!‘ کی اپیل کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے مرحلے پر جبکہ درمیان میں وہ ساڑھے آٹھ منزلیں طے کر چکے ہیں اور ’لہولہان دھماکے‘ میں صرف ڈیڑھ منزل باقی ہے کیونکہ انہوں نے یہ چھلانگ دسویں منزل سے لگائی تھی!
یہ بات طے ہے کہ ’امریکی‘ اب اُن لوگوں کی راہ پر لگ گئے ہیں جنہوں نے اُنہیں ’ڈبل کراس‘ کیا اور صرف ’پیسے بٹورتے رہے‘ جناب صدام حسین نے بھی یہی غلطی کی تھی‘ وہ امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا تو رہے مگر اُسے ’مکمل‘ نہ کر سکے! جناب پرویز مشرف پر بھی اب یہی ’الزام‘ ہے اور جناب حمید گُل نے اسی ’الزام‘ کے تحت اُنہیں ’دفعہ 6‘ کے تحت ’مقدمے کا سامنا‘ کرنے کے لئے ’پارلیمان کے سامنے‘ لا کھڑا کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا ہے! شہید بگٹی کے پوتے نے بھی بتایا ہے کہ نوازشریف بھی انہیں کٹہرے میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں یعنی پختہ ارادہ جنابِ درانی پنجاب کے پانچ ٹکڑے کرنے پر مصر ہیں۔ ایک ٹکڑا بہاولپور وہ درانی ہونے کے باوجود اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ہز ہائی نس کے والی وارث ختم ہو چکے ہیں؟ درانی جی کابل کی راہ پکڑئیے۔ جناب سلمان شاہ کالاباغ‘ منصوبہ مکمل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں اور جناب حمید گل جنابِ پرویز مشرف کا ’دھاگا‘ کھینچ لینے پر اُکسا رہے ہیں!
ہمیں تو یُوں لگ رہا ہے کہ جناب پرویز مشرف اور اُن کی پوری ٹیم مل جل کر ’قوم کا دھاگا‘ کھینچ لینے کے لئے‘ اُسے بارہویں منزل سے چھلانگ لگا دینے پر مجبور کر دینے والے ’غیرت انگیخت‘ بیانات کا جال بچھاتے چلے جا رہے ہیں تاکہ ’قوم‘ آخری لمحات میں‘ یہ‘ یاد آ جانے پر کہ وہ تو ’اُن کی مخاطب‘ تھی‘ نہیں‘ کچھ کرنے کے لائق ہی نہ رہ جائے! اور یہ ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہیں:
ہاتھ لا اُستاد! کیوں؟ کیسی کہی؟