پنجاب لیکویڈیشن بورڈ کی کارکردگی

02 جولائی 2009
پنجاب کی سرزمین صدیوں سے فراڈیوں کے لئے آئیڈیل رہی ہے۔ ہر چند سال بعد فراڈئیے کوئی نہ کوئی نیا کھیل لے کر سامنے آ جاتے ہیں۔ عوام کو لوٹتے ہیں۔ قانون حرکت میں آتا ہے‘ کچھ پکڑے جاتے ہیں اور اصل مجرم چند سالوں کے لئے غائب ہو جاتے ہیں اور پھر ایک نیا آئیڈیا لے کر حرکت میں آ جاتے ہیں اور حکومت مستقل مزاج ہے جب تک فراڈئیے معقول رقم ہتھیانے میں کامیاب نہیں ہو جاتے‘ قانون حرکت میں نہیں آتا‘ کوآپریٹو سکینڈل اور فاریکس فراڈ کے متاثرین بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی سنی گئی اور حکومت نے موثر منصوبہ بندی سے ان کی اشک شوئی کا انتظام کیا۔
پنجاب لیکویڈیشن بورڈ کے چیئرمین نذیر ایم چوہان نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے دلچسپ واقعات سنائے جس سے احساس ہوتا ہے کہ عوام کو مستقبل میں بھی مالیاتی SCAM سے بچانے کے لئے ایک مضبوط ادارہ پنجاب میں مستقل بنیادوں پر بنانا ضروری ہے۔
نذرچوہان نے بتایا 1997ء میں شہبازشریف کی حکومت نے جائیدادوں کے N.O.C بند کردئیے اور اربوں روپے کی کواپریٹو اراضی واگزار کرائی جس میں دو ہزار کنال کی بچہ گارڈن اراضی بھی شامل ہے۔ 2002 ء سے 2008ء میں شہبازشریف نے پھر اس طرف توجہ دی اور صرف میری ایمانداری اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت کی وجہ سے مجھے چیئرمین بنایا گیا‘ اب ایک روز پہلے تک جتنے بھی مزید کلیم آئے ہیں ان کی چھان بین کے بعد رقوم ادا کرنے کے ساتھ بیس فیصد منافع بھی ادا کر دیا جائے گا۔ نئے بجٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایکٹ ون مجریہ 1993ء میں ترمیم کر کے ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے مطابق باقی بچنے والی رقوم کو سوشل سیکٹر پنجاب کی اصلاح کیلئے قائم فنڈ میں مستقل کر دیا جائے گا۔ ‘‘