’’فرینڈز‘‘ سے امیدیں

02 جولائی 2009
موجودہ سال میں ترقی کے لئے مختص رقم میں 130 ارب کی کمی کی گئی لیکن نئے بجٹ میں ترقی کے لئے 646 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں امریکی اتحادی ہونے کے بعد بجٹ مایوس کن ہے فرینڈز آف پاکستان سے قرضے ملیں گے خیرات ملے گی اور کچھ بھی نہ ملا تو ہمارا کشکول ہوگا اور آئی ایم ایف کا در۔ بجٹ سازوں کی ہوشیاری یہی ہے کہ وہ خرچے کم بتاتے ہیں اور متوقع آمدنی زیادہ ظاہر کرتے ہیں قوم کے سامنے اس کا مقصد کوئی واضح منزل اور ویژن نہیں آئے صدر کے دورے نہ جانے قوم کی کیا مدد کر رہے ہیں۔ حکومت اپنے خرچے کم کرنے کا سوچنے کی بجائے دوسروں کی جیبوں کو دوربین سے دیکھ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے 41 ڈویژن ہیں جبکہ امریکہ جس کی معیشت کا سائز ہم سے 130 گنا بڑا ہے اسکے محکموں کی تعداد 16 سے زیادہ نہیں مجموعی طور پر ہمارے ملک میں 500 سرکاری محکمے ہیں جن کے زیادہ تر اخراجات غیر ترقیاتی اور فضول خرچی پر مبنی ہیں سیکورٹی کے نام پر بھی اللے تللے خوب جاری ہیں۔ نام نہاد فرینڈز آف پاکستان حکومت کا ایک ایسا بت ہے جس کی پرستش شروع کر دی گئی ہے شوکت ترین کا فوکس پاکستان کے اپنے وسائل کی طرف ہونا چاہیے تھا۔
بجٹ میں کوئی انوکھی بات سامنے نہیں آئی ہر سال بجٹ کا سائز بڑا کر دیا جاتا ہے خرچے بڑھنے کے ساتھ آمدنی بھی بڑھ جاتی ہے مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے افراط زر کا ہدف 7.5 فیصد مقرر ہوا ہے اگر یہ 20 فیصد تک رہتا تو بھی اسے غنیمت سمجھا جائے گا روپے کی ویلیو پر دبائو بڑھ رہا ہے گندم کی قیمت بڑھنے سے آٹے کی قیمت 4 روپے کلو تک تو ضرور بڑھے گی حکومت کب تک سب سڈی کا بوجھ برداشت کرے گی۔ بجلی اور گیس کے نرخ بڑھنے والے ہیں خوردنی تیل دودھ چینی اور سیمنٹ کے تیار کنندگان نے مضبوط کارٹل بنا رکھے ہیں ٹیکسوں کا سارا بوجھ بالآخر صارفین کے کندھوں پر ہی ڈالا جاتا ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ افراط زر کی موجودہ شرح سے نصف ہے خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے 90 لاکھ پاکستانیوں کے حصے کچھ نہیں آیا وہ رو دھو کر ہی زندگی گزاریں گے۔