جمعرات 2 جولائی 2009 ء

02 جولائی 2009
وزیراعظم نے کہا ہے‘ پیپلز پارٹی صوبوں کی تقسیم کے سخت خلاف ہے‘ موجودہ حالات میں ایسے معاملات کو اٹھانا مناسب نہیں ہوگا۔
صد شکر کہ وزیراعظم نے صوبوں کی تقسیم پر اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کر دیا۔ وزیراعظم نے مناسب موقع پا کر مناسب اعلان کیا جس سے انکی حب الوطنی کا ثبوت ملتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم موم کے بنے ہوئے نہیں کہ ذرا سی گرمی ٔ حالات سے پگھل جائیں گے۔
پاکستان میں چار صوبے خودمختار ہیں‘ جہاں کامیابی سے کاروبار حکومت چل رہا ہے۔ ان کو چھیڑنا جبکہ ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے‘ بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ چاروں صوبے کنگھی کے دندانوں کی طرح برابر و بااختیار ہیں‘ اسکے بارے میں مزید تقسیم کی بات کرنا پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہو گا۔
یہ تو اچھا ہوا کہ وزیراعظم نے دوٹوک وضاحت کر دی‘ وگرنہ شرپسندوں نے ایک اور موضوع سے چپک جانا تھا اور یوں وطن عزیز کے حصے بخرے کرنے سے بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہو جائیگا۔
لبھورام بغلیں بجاتے ہوئے انکل سام سے بغل گیر ہوجائیں گے اور خدانخواستہ اغیار کے دل کی کلی کھل جائیگی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ درپردہ روس بھی یہ چاہتا ہے کہ پاکستان چھوٹی چھوٹی کئی ریاستوں میں تقسیم ہو جائے جس طرح اسکے ہاں ہوا ہے۔
حکمران اس وقت وائٹ ہائوس کی دریوزہ گری سے خوب مانوس ہو چکے ہیں اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ ایک تو ملک پہلے ہی قلاش ہو چکا ہے‘ دوسرے اس پر مزید صوبائی حکومتوں کا بوجھ لادا جائیگا۔
دھیرے دھیرے انکل سام اس ملک کو اپنے پروگرام کے مطابق 2010ء کی متعین منزل تک لے جارہا ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا بھی اسکے قبضے میں ہے‘ وہ جیسے چاہیں‘ خبریں بنا کر سرکولیٹ کر دیں‘ پاکستان سے متعلق منصوبے کے خدوخال اب تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے‘ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے کب تک غلطیاں کرتے رہیں گے؟
گھنٹی بجنے لگی ہے‘ پیریڈ شروع ہو چکا ہے‘ جج صاحب خاطر جمع رکھیں کہ غلطیاں اسی طرح ہوتی رہیں گی اور وہ اسی طرح انکو ٹھیک بھی کرتے رہیں گے۔ الف ‘ ب شروع ہو چکی ہے‘ جلد ہی ’’ے‘‘ کا نمبر بھی آجائیگا۔ بکرے کی والدہ کب تک بکرے بیٹے کی خیر منائے گی؟
لوگوں کو احساس ہو چکا ہے کہ پاکستان میں انقلاب آزاد عدلیہ کی کوششوں ہی سے برپا ہو گا۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے قانون پر چڑھ کر اسے نافذ کر رہے ہیں۔ مگر سب جانتے ہیں کہ عدلیہ کو قوت عوام نے دی ہے اور اب اسی قوت سے وہ لوگ پریشان ہیں جو عدلیہ کو اپنی مرضی سے چلاتے تھے۔
جسٹس افتخار محمد چودھری عدل کے فرشتے کی خاطر اچانک اٹھے اور پورے ملک کے عوام نے انہیں بانہوں میں لے لیا۔ غیرقانونی کام کرنیوالوں کے بھی کان کھڑے اور آنکھیں کھلی ہیں‘ دیکھتے ہیں کہ آگے چل کر ان کو کیا کیا مشکلات پیش آنے والی ہیں۔
٭…٭…٭…٭
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دل کے امراض کیلئے ٹماٹر کا استعمال مفید ہے۔
یہ ٹماٹر کی عزت افزائی ہے کہ انسانوں کے دل اسے چاہنے لگے ہیں۔ ٹماٹر کی ساخت کچھ کچھ انسانی دل سے ملتی ہے‘ ٹماٹر کے اور بھی کئی استعمالات نہایت مفید ہیں‘ مثلاً وہ بھی ٹماٹر ہوتے ہیں جو سیاست دانوں‘ لیڈروں کے منہ پر مارے جاتے ہیں‘ ظاہر ہے کہ ایک گندے ٹماٹر کیلئے کونسی مناسب جگہ تلاش کی جا سکتی ہے۔
ٹماٹر ہمارے ملک میں بہت پیدا ہوتا ہے مگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا مطالبہ کرتے کرتے پکوان کی نذر ہو جاتا ہے۔
مغرب نے تو ٹماٹر سے دوائیاں بنانی بھی شروع کر دی ہیں‘ جب سے حکمرانوں اور لیڈرز کو جوتے پڑنے شروع ہوئے ہیں‘ گندے ٹماٹروں کی مارکیٹ کچھ ڈائون سی ہونے لگی ہے۔ اگر کسی کو صحت مند ٹماٹر مارا جائے تو اسے فی الفور کھانا شروع کر دے تاکہ مخالفین کے پریشر سے دل کا متوقع دورہ فشوں ہو جائے گا۔
٭…٭…٭…٭
بچپن کی چوٹیں جوانی میں مختلف امراض کا باعث بنتی ہیں۔ بچپن کی چوٹیں بدن پر آئیں تو بھول جاتی ہیں اور بچپن کی چوٹیں دل پر لگیں تو مٹتی نہیں‘ حضرت علیؓ کا ایک شعر ہے…؎
جراحات السنان لھا الالتسیام
ولا یلتام ماجرح اللسان
(نیزے کی نوک سے لگنے والے زخم مندمل ہو جاتے ہیں‘ مگر وہ زخم ٹھیک نہیں ہوتے جو زبان کی نوک سے لگے ہوں)
یہ نئی تحقیق جو سامنے آئی ہے‘ خالص طور پر والدین کیلئے ہے کہ وہ اپنے بچے کے بچپن سے نہ کھیلیں‘ گرنے اور چوٹ آنے سے بچانے کیلئے خاص اہتمام کریں اور اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ بچوں کو چوٹ نہ آئے اگر چوٹ لگ جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔
جب بچے جوان ہو جاتے ہیں‘ تو ان کو کئی طرح کے امراض لگ جاتے ہیں‘ خصوصاً سر پر چوٹ آنے سے جو اندر ہی اندر زخم لگ جاتا ہے‘ وہ جوانی میں کسی انداز سے بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ پڑھے لکھے دانشمند ماں باپ اپنے بچوں کو مانیٹر کرتے رہتے ہیں اور ان میں کسی چیز کی کمی بیشی کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہیں۔