فریاد کیا ہوتا رہا … (۱)

02 جولائی 2009
عامرہ احسان (سابق ایم این اے)
...................کملائے ہوئے ستے چہرے پر بہتے آنسوئوں کیساتھ وہ اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ باجی ہم آپریشن کے باوجود اپنے علاقے میں دیر تک بیٹھے رہے۔ در بدردی کا خوف بھی تھا اور یہ آسرا بھی کہ ہم طالبان تو نہیں کہ ہمارا پیچھا کیا جاتا۔ لیکن پھر وہ دن بھی آیا جب بلا سبب ہمارے علاقے پر بھی جیٹ طیارے آنے لگے۔ پہاڑوں میں جہازوں کی گڑگڑاہٹ باجی بہت خوفناک ہوتی ہے۔ بچے‘ عورتیں خوف سے چیختے چلاتے کبھی کدھر بھاگتے کبھی کدھر‘ ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جن جہازوں کیلئے ہم دعائیں کرتے اور بھارت کیخلاف شاہین سمجھ کر انہیں دیکھ کر خوش ہوتے انکی تصویریں لگاتے تھے۔ وہ آج ہمیں ڈرانے دھمکانے آ جائینگے۔
پہلے تو خوفزدہ کیا۔ پھر انہوں نے بمباری بھی کر دی۔ کان کے پردے پھٹ رہے تھے۔ بچے چلا رہے تھے۔ ہم کلمہ پڑھ کر آنکھیں بند کئے شہادت کے تصور سے خوف کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اللہ ہی نے کوئی خاص کرم کیا کہ قیامت کے وہ لمحے گزر گئے میرے بوڑھے سسر اپنی کمزور ہڈیوں بھرے وجود کو سمیٹے ہمیں شفقت بھری تسلیاں اوردعائیں دیتے رہے۔
جب وہ کسمپرسی کے عالم میں آنکھ اٹھا کر غم سے چھلکتی بے بس نگاہوں سے جہاز کو بددعا دیتے تو میں حیران ہوتی کہ ہم پر یہ دن بھی آناتھا‘ ہم نے پیسہ زیور سمیٹا جلدی جلدی گھروں کو ضرورت کی چند چیزیں لے کر تالے لگائے اور وہاں سے نکلنے کی فکر کی کہ نجانے دوبارہ کب ہم پر پھر یہ حملہ ہو جائے کیمپ‘ جھلستی گرمی اور دربدری اس جان لیوا خوف سے تو بہتر ہی تھی جس سے ہم گزرے‘ پہاڑی راستوں کی خطرناک ڈھلوانوں سے جابجا بچے عورتیں بوڑھے بمباری کے خوف سے پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے لیکن ہماری مصیبت ابھی ٹلی نہ تھی۔ ٹرانسپورٹر منہ مانگے دام وصول کر رہے تھے۔ لوٹ رہے تھے۔
گاڑی میں سوار ہو کر جب ہم بڑی سڑک پر آئے اندھیرا پھیل چکا تھا۔ اچانک ہم نے دیکھا آگے سڑک پر گاڑیاں رکی ہوئی ہیں اور پھر ہمارے ڈرائیور کی آہستہ ہوئی گاڑی پر ایک پستول تانے شخص نے گاڑی رکوا دی اور کہا خاموش کھڑے ہو جائو ہلنا مت۔ ہم طالبان ہیں۔ ٹریفک رکی ہوئی تھی منہ پر ڈھاٹے باندھے درشت نوجوان کلاشنکوفیں لئے گاڑیاں روک رہے تھے۔ بہت جلد سمجھ آ گئی کہ یہ طالبان نہیں ڈاکو ہیں۔ یعنی ہم آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گئے تھے۔ ہم نے بیگ چھپانے کی فکر کی یہ جمع پونجی بھی لٹ گئی تو کہاں جائیں گے۔ خوف کی ایک نئی قسم کا ذائقہ چکھ رہے تھے۔ رکی ٹریفک میں ہمارے پاس سے ایک گاڑی نکل کر آگے بڑھی‘ حیران ہو کر دیکھا۔ ہمارے پاس سے گزری تو ہمارے ڈرائیور نے چلا کر کہا تم اصلی طالبان ہو دیکھو تمہارے ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ پتہ یہ چلا کہ چھ سات حقیقی طالبان کھلے منہ‘ داڑھیوں‘ عماموں‘ کلاشنکوفوں کیساتھ اس گاڑی میں سوار تھے۔ جنہیں شاید ڈاکوئوں نے گزر جانے کی اجازت دیدی تھی‘ امید کی ایک کرن ابھری اور بجھ گئی لیکن کچھ ہی آگے جا کر اصلی طالبان نے گاڑی روکی ہوائی فائرنگ کی ڈاکوئوں کو للکارا‘ انکے پیچھے لپکے اور حیرت انگیز طور پر یہ ہمارے لئے فرشتے ثابت ہوئے۔ ڈاکوئوں نے بھاگ جانے میں عافیت سمجھی‘ گاڑیوں کی لمبی لائن پر یہ چند فرشتے محافظ بن کر اتر آئے ٹریفک کھلی اور ہم نے سکھ کا سانس لیا نقلی طالبان کو اصلی طالبان نے بھگا دیا۔ میں حیرت زدہ یہ داستان سن رہی تھی۔ مگر حکومت‘ سکیورٹی اہلکار‘ سرکاری محافظ سب کہاں تھے۔ وہ سوات پر حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے گولہ باری کر رہے تھے۔ وہ تلخ ہوتے ہوئے بولی۔’’ بے شمار دکھ بھری داستانوں میں ایک اور نے میرے اندر تک دکھ کے کانٹے بھر دئیے۔‘‘
راقمہ کے ہاتھ میں قلم دیکھ کر بسااوقات لوگ آ کر‘ خطوط کے ذریعے اپنے غم میری جھولی میں ڈال جاتے ہیں۔ چہار جانب پکڑ دھکڑ کے اس موسم میں جاو بیجا ہم امریکہ کے دشمن تلاش کرتے ہر باریش کے درپے ہیں۔ قوم لوط پر انسانی شکل میں اترنے والے فرشتوں کی مانند‘ اگر آج ہم پر فرشتے باریش انسانی صورت میں اترے تو ہمارے اہلکار انہیں پکڑنے باندھنے کے بھی اس طرح درپے ہونگے ایک خاتون نے بتایا کہ انکے دو بھائی حکومت مختلف مواقع پر شہبے میں پکڑ کر لے جا چکی ہے۔ (جاری ہے)