A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ..................مہنگائی کے نئے طوفان کا پیش خیمہ

02 جولائی 2009
اوگرا کی سفارش پر حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں دس سے بارہ فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کیلئے اوگرا کی جانب سے بھجوائی گئی سفارشات کی من و عن منظوری دے دی چنانچہ گزشتہ روز سے ہی پٹرول 5.92 روپے فی لیٹر‘ ڈیزل 6.94 روپے فی لیٹر اور مٹی کا تیل 7.48 روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخوں کے بعد ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخ پٹرول کے نرخوں سے پچاس پیسے زیادہ ہو گئے ہیں جبکہ مٹی کا تیل 59 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اس شتربے مہار اضافے سے عوام کی عملاً چیخیں نکل گئی ہیں اور اسکے ساتھ ہی مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہو گیا ہے جس کے باعث لوگوں کا زندگی بسر کرنا پہلے سے بھی زیادہ دشوار ہو گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین‘ تاجر تنظیموں‘ کسانوں اور دیگر مکاتب زندگی کے لوگوں نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کو حکومت کی جانب سے عوام پر ڈرون اور خودکش حملہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری سے اس حکومتی اقدام کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
اس وقت جبکہ بجلی کی طویل دورانیوں کی لوڈشیڈنگ کیخلاف لوگ پہلے ہی سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں‘ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کرکے حکومت کیخلاف عوامی تحریک کی بنیاد خود ہی مضبوط کر دی گئی ہے۔ اس اضافے سے لازمی طور پر اب پبلک ٹرانسپورٹ‘ ریلوے اور پی آئی اے کے کرایوں میں من مانے اضافے کا جواز بھی نکل آئیگا جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء چینی‘ گھی‘ چائے‘ دالوں‘ سبزیوں اور پھل فروٹ کے نرخ بھی آسمان تک جا پہنچیں گے۔ ٹرانسپورٹروں نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ اب ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پچاس فیصد تک اضافے پر مجبور ہونگے جس کیلئے ان کے پاس بالخصوص ڈیزل کے نرخوں میں پٹرول کے نرخوں سے بھی زیادہ اضافے کی صورت میں اپنا پیداکردہ جواز موجود ہے کیونکہ ڈیزل زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اب بے قابو ہوئے بجلی کے نرخ مزید شتربے مہار ہو جائیں گے اور گیس‘ پانی کے نرخوں میں بھی مزید اضافہ کو خارج از امکان قرارنہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ اوگرا کی سفارشات پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کیا گیا اضافہ درحقیقت اس معاشرے کو مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار کرکے تباہ کرنے کی جانب پیش رفت ہے جو آئی ایم ایف کے قرضوں کے عوض کی قبول کی گئی شرائط کا حصہ نظر آتی ہے۔
عوام بالخصوص غریب اور متوسط طبقات پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں عاجز آئے ہیں اور اپنے ان مسائل کے حل کے معاملہ میں حکمرانوں اور اپنے منتخب نمائندوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اب پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ سے مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہو گا تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام اپنے حکمرانوں کیخلاف سول نافرمانی کی تحریک کا راستہ اختیار کرنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے اسلام آباد کی جانب اپنے لانگ مارچ کی کامیابی کے بعد اعلان کیا تھا کہ اب مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے بھی عوام کو ایسا ہی لانگ مارچ کرنا پڑیگا‘ حکمرانوں کی بے تدبیریوں کے نتیجہ میں یقیناً اب عوام کیلئے ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ وہ مہنگائی‘ غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کیلئے میاں نواز شریف اور اپوزیشن کے دیگر قائدین کو لانگ مارچ پر مجبور کریں اور اگر اس معاملہ میں ان قائدین نے کسی مصلحت کیشی سے کام لیا تو عوامی احتجاجی تحریک کنٹرول سے باہر بھی ہو سکتی ہے جو اہل اقتدار کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔
عوام کو جب بنیادی سہولتیں بھی میسر نہ ہوں‘ انکی ضروریات زندگی بھی پوری نہ ہو رہی ہوں‘ بجلی کی بے انتہاء لوڈشیڈنگ سے ان کیلئے سکھ کا سانس لینا ہی دوبھر نہ ہوا ہو‘ گرمی کی شدت کی وجہ سے اموات واقع ہو رہی ہوں‘ ہر قسم کا کاروبار بھی تباہ ہو چکا ہو‘ نتیجتاً بے روزگاری کا سیلاب آچکا ہو تو اپنی اس کسمپرسی اور لاچارگی کو وہ کب تک برداشت کئے بیٹھے رہیں گے؟ عوام نے مشرف آمریت کے دور میں اپنے گوناںگوں مسائل سے عاجز آکر اور ان کا حل نہ پاکر ہی 18 فروری 2008ء کو اپنے ووٹ کے ذریعے خاموش انقلاب برپا کیا تھا اور مشرف اور انکے حامیوں کو انکی پالیسیوں سمیت مسترد کر دیا تھا۔ اگر اب پالیسیاں بھی مشرف آمریت والی برقرار رکھی جائیں گی اور مہنگائی کے عفریت سے عوام کی کمر بھی دہری کی جاتی رہے گی‘ ان کیلئے اچھے مستقبل کی امید بھی ختم ہو جائیگی تو وہ ساری مراعات اور سہولتیں اپنے دامن میں سمیٹنے والے مراعات یافتہ طبقات کی اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی پر کیوں اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کریں گے؟ پہلے تو خاموش انقلاب برپا ہوا تھا‘ سخت گیر عوامی ردعمل اب پرجوش انقلاب کی بنیاد بن سکتا ہے اس لئے حکمران طبقات کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور عوام دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ادھر وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دی اور ادھر ارکان قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز میں سو فیصد اضافہ کر دیا جبکہ یہ فنڈز عوام کی نہیں‘ زیادہ تر انکی اپنی ترقی کیلئے استعمال ہوتے ہیں جس سے انکے قلعہ نما ڈیروں کی مزید تزئین و آرائش ہوجاتی ہے۔ حکمران طبقات کی اس باہمی خیرسگالی اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار پر اتحاد و اتفاق پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندگی بسر کرنے والے محروم و مجبور طبقات میں سخت ردعمل پیدا ہونا فطری امر ہے اور پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافہ اس ردعمل کی بنیاد بن سکتا ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ جس طرح عوامی احتجاج کو بھانپ کر حکومت کو قومی بجٹ میں ردوبدل پر مجبور ہونا پڑا‘ اس عوامی احتجاج کی نوبت آنے سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ واپس لے لیا جائے‘ بصورت دیگر حکومت کیلئے سخت گیر عوامی احتجاجی تحریک پر قابو پانا مشکل ہو گا۔
صوبوں کی تقسیم‘ صدر وزیراعظم کا اطمینان بخش موقف
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق کی علامت اور صوبوں کی تقسیم کی سخت مخالف ہے۔ دی نیشن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صدر اور ان کے درمیان اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے اور انکے خیال میں ایسے وقت میں جب ملک سخت مشکل حالات سے گزر رہا ہے‘ اس معاملے کو اٹھانا نامناسب ہے۔ انہوں نے صوبوں کی تقسیم کی بات کرنے والوں سے کہا کہ وہ اس معاملے پر اپنی پارٹیوں میں بات کریں‘ وہی اس سلسلے میں صحیح فورم ہے۔
انتظامی حوالے سے صوبوں یا کسی ایک صوبے کی تقسیم میں کوئی امر مانع نہیں لیکن لسانی بنیادوں پر تقسیم کی تجاویز سے مسائل کا ایسا پنڈورا باکس کھل جائیگا‘ جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ آج سرائیکی صوبے کی بات ہو رہی ہے تو کل سرحد میں ہندکو اور ہزارہ صوبے کی بات ہو گی۔ بلوچستان میں پشتون اور براہوی زبانیں بولنے والے بھی الگ الگ صوبوں کی بات کریں گے‘ سندھ میں تو پہلے ہی ایسی ہوائیں چل رہی ہیں۔ کراچی الگ صوبہ بند سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں جب ملک شدید مسائل کا شکار ہے۔ قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے‘ نہ کہ اسے مزید منتشر کر دیا جائے۔ جہاں تک ترقی اور عدم ترقی کی بات ہے تو لاہور میں کونسی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں جن سے جنوبی پنجاب محروم ہے۔ اگر محرومی کی بات ہے تو یہ اس دور میں دور ہونی چاہئے‘ جب جہاں کے لوگوں کو بطور صدر‘ وزیراعظم گورنر اور وزیراعلیٰ خدمت کا موقع ملا لیکن بدقسمتی سے سب نے نہیں اکثر نے ذاتی اور اپنی اولاد کے مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دی۔ علاقے کی حالت زار کی طرف دھیان نہ گیا تاہم کچھ نے علاقے کے مسائل بھی ضرور حل کئے۔ آج کے وزیراعظم کو تو ایسے ہی مسائل حل کرنے کی پاداش میں 5 سال جیل میں گزارنا پڑے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملات ٹی وی چینلز پر اٹھانا درست نہیں اس کے سرخیل بقول وزیراعظم گیلانی اپنے پارٹی فورمز پر بات کریں۔ وہ مناسب سمجھیں تو اتفاق رائے سے اس پر پیشرفت کی جائے۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری کی طرف سے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت اطمینان بخش ہے۔ صوبوں کی تقسیم کی بات ایک انتہائی حساس اور نازک معاملہ ہے۔ اس کی تحریک سے وفاق عدم استحکام سے دوچار ہو سکتا ہے‘ اس لئے تحریک کے روح رواں رہنماؤں کو علاقائی مفاد سے زیادہ قومی مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا۔
قومی بچت سکیمیں … منافع میں کمی
حکومت نے نیشنل سیونگز (قومی بچت) کی سکیموں کی شرح منافع میں 0.5 سے 1.9 فیصد کمی کر دی ہے جس کے تحت اب ریگولر انکم سرٹیفکیٹس پر شرح منافع 12 فیصد ہو گی جبکہ سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس پر 11.62 فیصد ہو گی‘ سیونگز سرٹیفکیٹس پر شرح منافع 9 فیصد کم کرکے 8.5 فیصد کر دی گئی۔ نئی شرح کا اطلاق یکم جولائی 2009ء سے کردیا گیا ہے۔
قومی بچت سیکموں سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت پیشنرز‘ بیوائیں اور بوڑھے لوگ ہیں۔ چند سال قبل تک بچت سکیموں پر 15 فیصد منافع دیا جاتا تھا۔ دنیا کی ہر چیز ترقی کی جانب گامزن ہے‘ جبکہ مرکز قومی بچت اپنے مستقل کھاتہ داروں کو تنزلی کی طرف لے جا رہا ہے۔ 15 فیصد منافع میں کمی ہوتے ہوتے اب 8.5 پر آگئی ہے۔ 12 فیصد منافع تو عام بنک بھی دے رہے ہیں‘ کیا قومی بچت والے اپنے کھاتہ داروں کو بھگا کر صرف انعامی بانڈ ہی بیچنا چاہتے ہیں؟ مرکزی قومی بچت کے کرتا دھرتا اپنے کھاتہ داروں پر ظلم نہ ڈھائیں‘ اگر ان کے منافع میں اضافہ نہیں کر سکتے تو کمی بھی نہ کریں۔ بنک 12 فیصد منافع دے رہے ہیں‘ آپ کیا کر رہے ہیں؟