حکومت‘ اپوزیشن متحد‘ امریکی سفیر کی طلبی ‘ وزیراعظم ‘آرمی چیف میں بھی رابطہ

02 جنوری 2018

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ عترت جعفری+نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے دھمکی آمیز ”ٹویٹ“ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سیاسی جماعتوں کو معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں منعقد ہونیوالے متعدد اجلاسوں میں سے ایک اجلاس میں شریک تین اعلیٰ افسروں کے مطابق حکومت نے جماعت الدعوة کیخلاف کریک ڈا¶ن کا پروگرام بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر قومی سلامتی کمیٹی کا غیرمعمولی اجلاس بدھ کو طلب کر لیا گیا۔ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ”نوائے وقت“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی دھمکی کا مناسب جواب دینے کیلئے مشاورت کی جا رہی ہے اس کے بعد بیان جاری کیا جائیگا۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کریں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔ سیاسی رابطوں کے دوران سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور اگر مناسب سمجھا گیا تو جماعتوں کا اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی بلایا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان بھی رابطہ ہوا اور صدر ٹرمپ کے بیان پر بات ہوئی۔ پاکستان میں متعین امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل کو پیر کے روز دفتر خارجہ طلب کر کے ڈونلد ٹرمپ کے بیان پر وضاحت طلب کی گئی۔ دفتر خارجہ کے ذرائع نے امریکی سفیر کی دفتر خارجہ آمد کی تصدیق کرتے ہوئے اس معاملہ کی شدت کم کرنے کیلئے اصرار کیا کہ یہ طلبی نہیں تھی بلکہ انہیں ملاقات کی خاطر آنے کیلئے کہا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے کہا کہ وہ امریکی محکمہ خارجہ سے ہدایات لیکر ٹرمپ کے اس ٹویت کی وضاحت کریں گے۔ اس ذریعہ کے مطابق امریکی سفیر بھی اپنے صدر کے اس ٹویٹ پر سٹپٹائے ہوئے تھے۔ امریکی سفیر کو باور کرایا گیا کہ ایسا طرزعمل دوطرفہ مفاد میں نہیں۔ امریکہ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو تعلقات شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اندھا دھند تعاون فراہم نہیں کر سکتا۔ امریکہ افغانستان میں وہ کرے جس کا پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا رہا‘ پاکستان نے دہشت گردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی اور یہاں ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ امریکہ کا افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا دوہرا معیار ہے۔ ادھر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف ٹویٹ پر ردعمل میں کہا ہے کہ ہم امریکہ کو پہلے ہی نومور کہہ چکے ہیں، ٹرمپ کے نومور کی کوئی اہمیت نہیں۔ امریکہ کو ایک ایک پائی کا سرعام حساب دینے کیلئے تیار ہیں۔ ٹرمپ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہئے افغانستان میں فوجی طاقت کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ پچھلے 15 سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کو بہت سی سروسز مہیا کیں جن میں پاکستانی فضائی حدود کا استعمال، نیٹو کو سپلائی اور پاکستان کے فوجی اڈے بھی استعمال ہوتے رہے ان سروسز کا معاوضہ جو امریکہ نے پاکستان کو دیا، اس معاوضے کو بھی ٹرمپ نے اس 33 ارب ڈالرز میں شامل کرلیا ہے جو کہ بددیانتی ہے، اس سوال پر کہ اگر فرسٹریشن میں امریکہ نے پاکستان کے شہری علاقوں میں ڈرون سے حملے کئے تو خواجہ آصف نے کہا کہ اگر امریکہ نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم نہ صرف پاکستان کا دفاع کریں گے بلکہ ان کو منہ توڑ جواب بھی دیں گے۔ پاکستان کی طرف سے دھوکہ دینے کے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکی صدر کے ٹویٹ کا جلد جواب دیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی جس میں امریکی صدر کے بیان پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ٹرمپ کے نئے بیان کا جواب دینے پر غور کیا گیا۔ دونوں رہنماﺅں نے ٹرمپ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم دنیا کو بتائیں گے حقیقت اور افسانے میں کیا فرق ہے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ کے بیان پر وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کر لیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہو گا۔ کابینہ کے اجلاس میں ملکی سلامتی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر غور ہوگا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے نئے بیان سمیت جنوبی ایشیا پالیسی کے امور بھی زیر غور آئیں گے۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے ردعمل میں کہا کہ اس کا تعلق صرف پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات سے نہیں بلکہ خطہ کی صورتحال سے بھی ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ امریکہ ایسے بیانات دیکر زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے۔وزیردفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی رہا۔ امریکہ کو فوجی اڈے، زمینی و ہوائی مواصلات فراہم کیں پاکستان کی مدد سے امریکہ 16 سال سے القاعدہ کو تباہ کررہا ہے۔ امریکہ نے جواب میں پاکستان کو نفرت اور بداعتمادی دی۔ امریکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستانیوں کا قتل کرتے ہیں۔

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کیخلاف حکومت اور اپوزیشن متحد ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان حقائق کے منافی اور ناپختہ سیاسی سوچ کا مظہر ہے۔ امریکہ نے اپنے مفاد کی جنگ ہم پر تھوپی جس سے ہمیں 130 ارب ڈالر کا نقصان ہوا حکومت ٹرمپ کے بیان پر ملکی سلامتی سے متعلق قوم کو اعتماد میں لے ٹرمپ اپنے بیانات اور اقدامات سے دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ٹرمپ امریکہ کی اخلاقی پوزیشن کو بیھ پستی سے دوچار کر رہے ہیں۔ امریکہ نے نقصان کے بدلے ہمیں لالی پاپ اور مونگ پھلی دیکر بہلایا افغان جنگ اور نائن الیون کے بعد ہم کو امریکی مفادات کی جنگوں میں گھسیٹا گیا ہمارے بار بار اصرار کے باوجود حکومت نے وزیر خارجہ مقرر نہ کیا، وزیر خارجہ نہ ہونے سے ہم خارجہ محاذ پر تنہائی کا شکار ہوگئے۔ حکومت فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے اور قوم کو اعتماد میں لے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ اپنی امداد اپنے پاس رکھے پاکستان بھی حساب کیلئے تیار ہے۔ امریکہ پاکستان کی بہت توہین کر چکا ہے امریکہ اپنی پالیسی میں ابہام کا نشانہ پاکستان کو بنا رہا ہے۔ الفاظ کی جنگ کی بجائے صاف بات کریں۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بے وقوفوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ شاید بھارت کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اس وقت کنفیوژن کا شکار ہے ٹرمپ کے ٹویٹ کا پاکستان کو جواب دینا چاہئے۔ امریکہ افغانستان میں شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے۔ پی ٹی آئی کے عارف علوی نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں امریکی سفیر کو طلب کرکے معافی کا کہا جائے ٹرمپ نے پاکستانیوں کو جھوٹا کہا ہے۔ بھرپور ردعمل دیا جائے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ طاقتور ترین فوجی طاقت 16 سال بعد بھی افغانستان میں ناکام ہے۔ طاقتور ترین فوجی طاقت کے پاس باعزت واپسی کا بھی راستہ نہیں۔ پاکستان نے مقابلے میں کامیاب ترین انسداد دہشت گردی آپریشن کئے۔ امریکہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے، اپنی ناکامی کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرانے کی کوشش ختم کی جائے جہاں تک امدادی ڈالرز کا تعلق ہے امریکہ کا ساتھ دیکر پاکستان نے بیوقوفی کی۔ پاکستان کی معیشت کو بھاری نقصان ہوا۔ امریکی امداد اس کا آدھا بھی نہیں۔ پاکستان نے امریکہ کو شیخی بگھارنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک بات پر ٹرمپ اور ہم متفق ہیں ”نو مور“ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے کہا ہے کہ ٹرمپ جیسے 10 اور بھی آ جائیں پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہمارا ایمان ہے کہ سپر پاور صرف اللہ کی ذات ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان امریکہ کی قومی سوچ کا عکاس ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں افراد نے جانیں دیں، قوم کا مرنا اور جینا پاکستان اور اسلام کیلئے ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی مصدق ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو سوچ سمجھ کر امریکہ کو بیان دینا پڑے گا۔ خواجہ آصف نے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔ اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن ایک ہیں۔ عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ پاکستان کا نقصان امریکی امداد سے زیادہ ہوا۔ پاکستان نے ڈور مور کے مقابلے میں نومور کا جواب دیا۔ امریکہ 15 سال میں افغانستان میں اپنی کارکردگی بتائے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ امریکی دھمکیوں کی پرواہ نہیں پاکستان آزاد ملک ہے اور ہمیشہ آزاد رہے گا۔ حکومت جرات اور بہادری سے صورتحال کا سامنا کرے ٹرمپ حکومت پاگل پن اور منفی سوچ کا شکار ہے۔تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے اپنے مفاد کی خاطر آگے بڑھنا ہے، امریکی مفاد ملے نہ ملے۔ ٹرمپ کا بیان نامناسب اور بے وقعت ہے۔ ٹرمپ کا ٹویٹ رواج خطرناک ہوسکتا ہے۔