ایران میں خیر و شر کا نیا معرکہ

02 جنوری 2018

تہران میں چہار سْو "لاشرقیہ لا غربیہ' اسلامیہ اسلامیہ" کے نعرے گونج رہے ہیں ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے منتخب وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کا تختہ الٹنے کی سازش کا دوسرا حصہ' نصف صدی بعد آج پھر بروئے کار ہے لیکن مقابل کوئی فرد واحد نہیں انقلاب ہے امام خمینی کا انقلاب ' جس بارے منفرد اسلوب نگار اور طرح دار نثر نگار مختار مسعود نے لکھا تھا "انقلاب خواہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو جائے اس کی داستان ہمیشہ تازہ رہتی ہے کہ خودشناسی' جنوں اور لہو کی داستان بھی بھلا کبھی پرانی ہوسکتی ہے ۔ سال نو کا پہلا دن' تہران کے گلی کوچوں میں نہ لبنان، نہ غزہ، میری زندگی ایران کے لیے‘ کا شور شرابہ دم توڑ رہا ہے ۔ تین روزہ حکومت مخالف مظاہروں کے بعد حکومت کے حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں جس کے بعد حکومت مخالف مظاہرین پسپا ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ایرانی شہروں میں فارسی نہیں عربی نعرہ "لاشرقیہ لا غربیہ' اسلامیہ اسلامیہ" گونج رہا ہے۔ سارا ایران سالِ گذشتہ کے آخری تین دن حکومت مظاہروں کی زد میں رہا نام نہاد روشن خیال اور مادرپدر آزادیاں چاہنے والے ایرانی قوم پرستی کے نام پر گھیراؤ جلاؤ کر رہے ہیں اس وقت تک 2 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ’دنیا دیکھ رہی ہے‘، ایران میں مظاہروں پر صدر ٹرمپ نے خبردار کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے چھ شہروں میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں تہران حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’دنیا دیکھ رہی ہے‘‘۔ جمعے کے روز ایران میں مہنگائی کے خلاف بڑے عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’بہت سی رپورٹس ہیں کہ پرامن ایرانی شہری، جو حکومت کی بدعنوانی اور ریاست کی جانب سے وسائل دوسرے ممالک میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں خرچ کئے جانے سے تنگ ہیں۔‘‘

امریکی لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر سامنے آگئے ہیں اور مظاہروں کو منظم کرنے کیلئے تمام وسائل اندھا دھند جھونک رہے ہیں۔ ایران کو مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام اور امریکہ مخالف حکمت عملی کی سزا دی جارہی ہے ۔ خاص طور پر شام میں شکست کے تازہ زخم امریکہ اور حواریوں کے لئے داغ رسوائی بن چکے ہیں۔ پاسداران امن نیاباب رقم کررہے ہیں۔ عالمی سازشیں دنیا کے امن واستحکام کو تہس نہس کر رہی ہیں۔ تباہ کن چالوں سے اسلامی دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بکھررہی ہے۔ گلی کوچوں میں بہتا ارزاں خون کسی اور کا نہیں مسلمانوں کا ہے۔ ایسے خونیں منظرنامہ میں ظلم سے لرزتے خطوں میں استحکام اور امن کی نئی علامتیں سامنے آرہی ہیں گذشتہ 5 برس سے فتح دمشق ان کا ہدف تھا ساری دنیا سے کرائے کے قاتل بشارالاسد کی حکومت گرانے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں شام کے مختلف محاذوں پر پہنچائے گئے تھے جن میں سب سے سفاک گروہ قاتلان داعش کا تھا جو بشارالاسد کی ثابت قدمی اور پیوٹن کی غیر مشروط مدد سے تتر بتر ہو چکے ہیں جبکہ اس سازش کے تانے بانے بننے والے مرکزی کردار امریکی حواری قطر اور سعودی عرب باہم دست و گریبان ہو چکے ہیں جہاں انہونی کا 'ہونا' دیکھ کر اسلام دشمنوں کے سینے جل رہے ہیں ۔
مسلم تحریک مزاحمت کے اس سفر میں شام کی فوج، مزاحمتی قوتوں اور روس کے تعاون سے تخلیق پانے والے اتحاد نے طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی سونڈ میں چیونٹی گھس جانے والی کہاوت تازہ کی ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں بھڑکائے گئے الائو کو ٹھنڈا کرنے کا باعث بنا ہے۔ عالمی سیاست کا بنیادی محور بنے مشرق وسطی میں امن واستحکام کی واپسی کے بارے میں غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ کا بہت اہم مرحلہ ہے۔ امریکہ کی سابق وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن،صدر ٹرمپ کے مشیر مائکل فلن اور کئی دیگر امریکی عہدیدار اس راز سے خود پردہ اٹھاچکے اور اعتراف کرچکے ہیں کہ سپاہ فساد' داعش، القاعدہ جیسے دہشت گروہوں کی پیدائش امریکہ نے کی تھی۔ اسی نے ان کو سنوارا، پالا پوسا اور جوان کرکے لہوپینے والا درندہ بنا ڈالا۔ اعترافی بیان میں بڑی ڈھٹائی سے انکشاف کیا گیا کہ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین) روس کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ مقصد حاصل ہوجانے کے بعد وہ ان خونیں گروہوں کو لاوارث چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اب بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے وہ جان چھڑانے کی کوشش میں ہیں۔ حیلے بہانوں سے خود کو بری الذمہ قرار دلوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ روس کے خلاف جنگ کے بعد امریکہ کی دست کشی نے ان گروہوں کو اور بھی خطرناک بنادیا۔ ان کی نگہداشت ہوئی، یہ پھلے پھولے اور ایک مہیب خطرہ بن کر عفریت کے پیکر میں ڈھل گئے۔ امریکی رویہ کو اس کی غیرذمہ دارانہ خارجہ پالیسی کامظہر مانا جارہا ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ، وزیرخارجہ اور پھر صدر کے منصب کے لئے امریکی عوام کے سامنے امیدوار کے طورپر ابھرنے والی ہیلری کلنٹن سے اس اعتراف کا آغاز ہوا۔ 1981ء سے 2014ء تک تینتیس سال امریکی فوج کو دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) اورمختصر مدت کے لئے صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر مائکل فلن نے زیادہ کھدرے اور کھلے انداز میں اس حقیقت کا اعتراف کیا۔
مائکل فلن نے انکشاف کیا کہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ گروہ مشرقی شام اور عراق میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کررہے ہیں۔ لیکن امریکہ نے ان خون آشام گروہوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ انسداد دہشت گردی کی امریکی پالیسی کی شکل وصورت بنانے میں بنیادی کردار ادا کرنے والے مائیکل فلن نے یہاں تک کہہ دیا کہ بستیاں اجاڑنے والے ان جتھوں کے بارے میں باضابطہ رپورٹ مرتب کرکے اس وقت کے صدر بارک اباما کو بھجوائی گئی لیکن اس پر کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ مشہور امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے مطابق امریکی اتحادی سعودی عرب، قطر اور ترکی خطہ میں اس گندگی کو پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔
تجزیہ نگار صرف امریکہ کو ہی نہیں بلکہ اس کے فوجی اتحادی نیٹو رکن ممالک پر بھی خطہ کے عدم استحکام اور اس برائی کے پھیلائو کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے پابندیوں کے باوجود عالمی دہشت گردی کے خلاف مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ایران پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران نے مشکل ترین حالات میں دہشت گردی کیخلاف موثر کردار ادا کیا ہے یہ کوئی عام دہشت گرد نہ تھے بلکہ انہیں سفاک اور ظالم ترین دہشت گرد گروہ قرار دیاگیاہے۔ ان کے مظالم کے قصے انسانی روح میں جھرجھری پیدا کردیتے۔ یہ وہی داعش ہے جو امریکہ، یورپ سمیت پوری دنیا میں قتل وغارت گری میں ملوث تھی جس نے بے گناہ یورپیوں کا خون بہایا۔ مسلمانوں کا خون تو ارزاں ہوہی گیا۔ یورپ کے شہریوں کے خون کی امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے کیا قیمت لگائی۔ یہ ایران اس کے اتحادی تھے جواس دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے میدان عمل میں اترے' ڈٹ کر ان گروہوں کا مقابلہ کیا اور ان پر فتح پائی۔ اس خطہ میں امن اوراستحکام لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کو خام تیل اور خوراک کی ترسیل انہیں سمندروں سے ہوتی ہے ۔ … (جاری)