پاکستان بہر صورت لبنان تو نہیں

02 جنوری 2018

شہباز شریف صاحب کے لئے سعودی عرب سے ایک طیارہ لاہور آیا۔ اس میں سوار ہوتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تصاویر بنائی گئیں۔انہیں سوشل میڈیا پر پھیلادینے کے بعد ٹیلی وژن سکرینوں پر سیاست کی گتھیاں سلجھانے والے چند نامی گرامی اینکرز کو متحرک کیا گیا۔ ان کی SPINبنیادی طورپر یہ پیغام دیتی رہی کہ سعودی حکمران خاندان سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار پائے نواز شریف کے چھوٹے بھائی کو اب پاکستان کے متوقع وزیر اعظم کے طورپر Treatکررہی ہے۔ چونکہ ہاتھی کے پاﺅں میں سب کے پاﺅں آجاتے ہیں لہذا پاکستان کے عوام اور اشرافیہ کو بھی اب شہباز شریف صاحب کو آئندہ کا وزیر اعظم مان لینا چاہیے۔

میرا جھکی ذہن اس Spinکو ایک بچگانہ لطیفے کی طرح سن کر نظرانداز کرتا رہا۔ اس کی تکرار نے مگر یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ انتخابات ہونے میں ابھی کم از کم سات ماہ باقی ہیں۔ سیاست میں ایک دن بھی کبھی کبھار صدیوں کے فیصلے کرسکتاہے۔ اس بات کی کیاضمانت کہ آئندہ انتخاب کے روز ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت سدھائے جانوروں کی طرح پولنگ اسٹیشن پر جائے اور شیر کے نشان پر ٹھپے لگاکر گھر لوٹنے کے بعد ٹیلی وژن کے ذریعے انتخابی نتائج کاانتظار شروع کردے۔ نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کو اکثریت ملنے کا اعلان ہوبھی جائے تو کس بنیاد پر آپ پورے اعتماد سے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ نو منتخب اراکینِ قومی اسمبلی شہباز شریف ہی کو اپنا وزیر اعظم دیکھناچاہئیں گے۔یہ سوالات مگر کسی نے ٹی وی سکرینوں پر اٹھانے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی۔ NROکے ورد شروع ہوگئے۔
ممکنہ NROکے خلاف ”مذمتی“ بیانات دیتے ہوئے عمران خان صاحب جیسے قدآور رہ نماﺅں نے ایک لمحے کو بھی یہ بات یاد دلانے کا تردد نہ کیا کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں تو عوام کی رائے بہت صراحت کے ساتھ لوگوںکے سامنے آتی ہے۔ لوگ اپنی رائے بنانے میں وقت لیتے ہیں۔بہت غور کے بعد مگر جس رہ نما کوچن لیں تو اس کے ساتھ دیوانگی کی حد تک کھڑے ہوجاتے ہیں۔ فرض کریں وہ آئندہ انتخابات کے ذریعے ”عمران خان کو بھی ایک چانس“ دینے کا فیصلہ کرلیں تو شہباز صاحب کو وزیر اعظم کے منصب پر کیسے بٹھایا جائے گا؟
نواز شریف صاحب اپنے خلاف آئے فیصلے کے بعد سے مستقلاََ ”ووٹ کے تقدس“ کی گردان جاری رکھے ہوئے ہیں۔سعودی حکمران خاندان کے ذریعے شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم ”تعیناتی“ ووٹ کا تقدس کیسے یقینی بناسکتی ہے۔ یہ عقدہ کم از کم میرا کندذہن سلجھانے سے قاصر ہے۔
یقینا سعودی عرب پاکستانیوں کے لئے بہت محترم ہے۔حرمین شریف سے جڑی عقیدت کے علاوہ اور شاید اس سے کہیں بالاتر چند ٹھوس اقتصادی وجوہات بھی ہیں جو ہماری اشرافیہ کو ریاض سے آئے مشوروں کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور کرتی ہیں۔
پاکستان مگر ایک بہت بڑا ملک بھی ہے۔ آبادی ہماری 22کروڑ ہوچکی ہے۔ عالمِ اسلام کی ہم واحد ایٹمی قوت ہیں اور دفاعی نظام ہمارا بھارت کی مسلسل مزاحمت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ تیاری بسا اوقات ہمیں امریکہ جیسی سپرطاقت کو آنکھیں دکھانے کی قوت بھی عطا کرتی ہے۔ سعودی عرب سے آئے ہر فرمان کی فوری تعمیل لہذا ممکن ہی نہیں۔ خاص کر اس صورت میں جب پاکستان کا وزیر اعظم صاف،شفاف اور منصفانہ انداز میں ہوئے انتخابات کے ذریعے چنے جانے کا عمل بھی اپنی جگہ موجود ہو۔
مارچ 1977کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نوستاروں والی تحریک چلی تو ان دنوں اسلام آباد میں مقیم سعودی سفیر ریاض الخطیب نے بہت کوشش کی کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہوجائے۔ ان کی بھرپور کوشش کے باوجود انجام اس تحریک کا لیکن جنرل ضیاءکے مارشل لاءکی صورت برآمد ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے 1974میں اسلامی سربراہان کی ایک عظیم الشان کانفرنس لاہور میں منعقد کروائی تھی۔ اس سے ایک سال قبل ہوئی عرب-اسرائیل جنگ کے دوران ان کے حکم پر ہماری فضائیہ نے شام کے تحفظ کا بندوبست کیا تھا۔ شاہ ایران کے ساتھ بھٹو کے دیرینہ مراسم تھے۔ امریکہ نے اسے ہمارے خطے میں علاقائی تھانے دار بھی بنارکھا تھا۔ عربوں کی محبت میں بھٹو صاحب نے مگر اسے ناراض کیا۔ لیبیا سے دوستی بڑھائی۔ ابوظہبی کے مرحوم سلطان زید بن النہان کی تمام تر کاوشوں کے باوجود جنرل ضیاءبھٹو کو مگر پھانسی دینے سے باز نہ رہا۔ سعودی عرب بھی ”عرب کاز“ کے لئے بھٹو صاحب کے کردار کو بھلاکر ”افغان جہاد“ میں جنرل ضیاءکا بھرپور ساتھ دیتا رہا۔
شریف خاندان کسی بھی صورت سعودی عرب کے لئے اتنا اہم نہیں ہے کہ وہ شہباز شریف کو ہر صورت پاکستان کا وزیر اعظم بنوانے کے لئے کھل کر سامنے آجائے۔پاکستان کی کوئی بھی حکومت یا وزیر اعظم سعودی عرب کی اہمیت کو نظرانداز کرہی نہیں سکتی۔ شہباز صاحب کے لئے سعودی شاہی خاندان کو لہذا انگریزی والے Extra Mileجانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ شہبازصاحب کی سرپرستی میں چلائی Spin Factoryکو مگر یہ بنیادی حقائق کون سمجھائے۔ یہ فیکٹری ایک Feel Goodکہانی پھیلائے چلے جارہی ہے۔
دو ٹکے کے مجھ ایسے رپورٹر کو اس ضمن میں بنیادی دُکھ صرف یہ جان کر ہوتا ہے کہ شہباز صاحب کی پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر سعودی عرب کی سرپرستی میں ”تعیناتی“ والی بات کو پھیلاتے ہوئے میرے کئی ساتھی صحافت کے بنیادی اصولوں کو جانے کیوں فراموش کربیٹھے ہیں۔
پاکستان کے مقابلے میں لبنان ایک چھوٹا اور کمزور ملک ہے۔مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوئے اس ملک کا حریری خاندان سعودی عرب کا بہت چہیتا رہا ہے۔ چند ماہ قبل اس خاندان کے سعد کو شاہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب طلب کیا۔ اسے ٹیلی وژن پر نمودار ہوکر اپنا استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ سعد حریری نے ہر حکم کی تعمیل کی۔ لبنان کے عوام، حتیٰ کہ سعد حریری کے بدترین سیاسی دشمنوں نے بھی لیکن اس کا ”استعفیٰ“ قبول نہیں کیا۔ بالآخر فرانسیسی صدر کو مداخلت کرنا پڑی۔ سعد حریری اب اپنے وطن لوٹ کر دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے پر بیٹھا ہوا ہے۔
لبنان جیسے چھوٹے اور کمزورملک میں بھی سعودی عرب اپنی پسند کا سیاسی منظرنامہ نہیں بناپایا۔ پاکستان اس کے مقابلے میں بہت پیچیدہ اور وسیع تر ملک ہے۔ شہباز صاحب کو بطور وزیر اعظم اس پر ”مسلط‘ نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلہ ووٹ کے ذریعے ہوگا۔ کاش اس کے ”تقدس“ کی گردان میں مشغول شریف خاندان کے Spin Doctorsاس حقیقت کو یاد رکھتے۔
٭٭٭٭٭

بہر و پیا

پولیس کی نئی وردی پنجاب میں متعارف کرا دی گئی مجاز حکام نے اس کی خوبیوں ، ...