طلال چوہدری توہین عدالت کےمرتکب قرار،5 سال کے لیےنااہل

Aug 02, 2018 | 09:46

ویب ڈیسک

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا سناتے ہوئے ان پر ایک لاکھ جرمانہ بھی عائد کردیا جس کے بعد وہ 5 سال کے لیے نااہل ہوگئے۔جمعرات کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا، جسے 11 جولائی کو محفوظ کیا گیا تھا۔ طلال چوہدری کو آئین کے آرٹیکل 63 (1) جی کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا سنائی گئی اور ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ طلال چوہدری 5سال کے لیے ناصرف الیکشن لڑنے کے لیے نااہل ہوئے ہیں بلکہ وہ کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار پائے ہیں۔ عدالت عظمی نے ان کو حکم دیا کہ جب تک عدالت برخاست نہیں ہوجاتی آپ عدالت میں ہی موجود رہیں گے۔واضح رہے کہ یکم فروری کو عدلیہ مخالف تقریر پر آرٹیکل 184 (3) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ طلال چوہدری نے جڑانوالہ کے جلسے میں مبینہ طور پر ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، وہ اس سے قبل بھی پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اور عدلیہ پر تنقید کرچکے ہیں۔

مزیدخبریں