چیف جسٹس کا کراچی کےاسپتال پر چھاپہ،شرجیل میمن کےکمرے سے شراب اور منشیات برآمد

Sep 01, 2018 | 10:57

ویب ڈیسک

  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی کے تین ہسپتالوں کا دورہ کیا اور وہا زیر علاج سیاسی قیدیوں کے کمروں میں  گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتہ کے روز کراچی کے تین ہسپتالوں کا اچانک دورہ کیا اور وہاں  زیر علاج  سیاسی قیدیوں کے کمروں میں گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا ۔ کلفٹن کے علاقہ میں قائم ضیاء الدین ہسپتال میں سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کے کمرے میں گئے اور تین منٹ تک کمرے میں موجود رہے ۔ چھاپے کے دوران تین شراب کی بوتلیں ، سگریٹ کے پیکٹ اور دیگر سامان برآمد ہوا ۔ چیف جسٹس نے شراب کی بوتلوں کی تصاویر بھی بنائیں ۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے شراب کی بوتلیں اپنی گاڑی میں منتقل کروا دیں  جبکہ شرجیل میمن کے کمرے کے دورہ کے موقع پر کوئی نرس یا ڈاکٹر وہاں موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی علاج نام کی چیز موجود تھی ۔ چیف جسٹس   نے کہا   کہ یہاں پر علاج تو نہیں چل رہا اور ایسا لگ رہا ہے کہ وہ یہاں پر آرام کیلئے آئے ہیں جبکہ بعد ازاں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کراچی کے ادارہ امراض قلب پہنچے ۔ کارڈیو وسکیولر ہسپتال میں اومنی گروپ کے گرفتار سربراہ انور مجید زیر علاج تھے ۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر ڈاکٹروں سے انور مجید کے علاج کے حوالہ سے معلومات حاصل کیں۔ جبکہ بعد ازاں جناح ہسپتال میں سیاسی قیدیوں کے وارڈ میں گئے جہاں انور مجید کے بیٹے عبد الغنی مجید کی موجودگی کی اطلاع تھی تاہم ہسپتال عملے کو چیف جسٹس کے دورے کی اطلاع مل گئی اور وہ عبد الغنی مجید کو ایم آر آئی کروانے کے لیے لے گئے ۔ چیف جسٹس کے عملے نے عبد الغنی مجید کے کمرے کا جائزہ لیا اور کچھ دستاویزات لیں اور کچھ ممنوعہ چیزیں بھی لیں اور اس کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ کراچی رجسٹری پہنچ گئے ۔ جبکہ جناح ہسپتال کے دورے کے دوران مریضوں نے چیف جسٹس کو شکایات بھی کیں ۔ ایک مریض نے چیف جسٹس جو بتایا کہ ڈاکٹر کا وقت ساڑھے 7 بجے کا ہے تاہم وہ ساڑھے10 بجے اور 11بجے آتے ہیں ۔ اس پر چیف جسٹس متعلقہ ڈاکٹر کے کمرے میں گئے اور ڈاکٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاید آپ لیٹ آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے کوئی شکایت نہیں آپ نے مریضوں کی خدمت کرنی ہے جبکہ ایک بیڈ پر لیٹے مریض کے حوالہ سے چیف جسٹس نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی  کہ انہیں فوری طور پر آئی سی یو میں لے جائیں۔ 

مزیدخبریں