نعمت اورمصیبت میں مومن کا رویہ

مئی 01, 2013

رضا الدین صدیقی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادہ کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا :اے ابو رافع تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم فقیر ہوجاﺅ گے۔ میں نے عرض کیا میں اس وقت قدرے تو نگر ہوں کیا اپنا مال صدقہ نہ کردوں اوراپنی آخرت کیلئے زادراہ آگے بھیج دوں(کیونکہ آپ کا فرمان تو بہر صورت پورا ہونا ہے ،اور میں اس وقت نیکی حاصل نہیں کرسکوں گا)۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا اس وقت تمہارے پاس کتنا مال ہے ۔عرض کیا:۴۰ہزار درھم اورمیں چاہتا ہوں کہ تمام اللہ کی راہ میں خرچ کردوں آپ نے ارشادفرمایا:تمام نہیں،کچھ صدقہ کردو،کچھ اپنے لیے پس انداز کرلو، اور اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ میں نے عرض کیا:کیا ان کا بھی ہم پر اسی طرح حق ہے جس طرح ہمارا ان پر حق ہے۔ ارشادفرمایا : ہاں والد پر بچے کا حق یہ ہے کہ وہ اسے قرآن مجید کی تعلیم دے، تیراندازی اورپیراکی سکھائے اورجب دنیا سے رخصت ہوتوا ن کیلئے حلال اور پاکیزہ مال چھوڑ کر جائے۔میںنے پوچھا: میں کس زمانے میں نادار ہوجاﺅں گا۔آپ نے فرمایا :میرے بعد۔ابوسلیم ؒ (راوی)کہتے ہیں میں نے انھیں دیکھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اتنے فقیرہوگئے کہ و ہ بیٹھے ہوئے کہاکرتے تھے کہ کوئی ہے جو اس نابینا بوڑھے کا پرسان حال ہو،کوئی ہے جو اس آدمی کا خیال کرے۔ جسے حضور نے مطلع کیاتھا کہ وہ انکے بعد فقیر ہوجائیگا۔ اور کوئی ہے جو میری اعانت کرے کیونکہ اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر،دینے والے کا ہاتھ درمیان میں ، اور لینے والے کا سب سے نیچے ہوتاہے۔جو مالدار ہوتے ہوئے بغیر ضرورت کے سوال کریگا توا سکے جسم پر ایک بدنماداغ ہوگا جس سے وہ قیامت کے دن پہچاناجائیگا۔مالدار اورایک ایسے شخص کو صدقہ لینا جائز نہیںجسکے تمام اعضاءطاقت ور اوردرست ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے انھیں چار درھم دیے تو انھوں نے اس میں سے ایک درھم اسے واپس کردیا۔ اس آدمی نے کہا :اے اللہ کے بندے میرا ھدیہءخلوص واپس نہ کرو،انھوں نے فرمایا:میںنے ایک درھم اس لیے واپس کردیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ضرورت سے زیادہ مال رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ابو سلیم کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وقت نے پھر پلٹا کھایااوروہ دوبارہ اتنے امیر ہوگئے کہ عشر وصول کرنیوالا انکے پاس بھی آنے لگا۔ لیکن وہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش ابورافع فقیری کی حالت میں مرجاتا۔انھوں نے حالتِ تونگری میں آخرت کا خیال رکھا،حالتِ فقیری میں صبر اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا اور دوبارہ تونگر ہوئے توان کا خلق یہ تھا کہ غلام خریدتے اوراسے زرِ خرید پر ہی مکاتب بنادیتے یعنی اسے کہتے کہ رقم مجھے کماکرادا کردواورآزاد ہوجاﺅ، مجھے اسکے منافع کی ضرورت نہیں ہے۔ (ابونعیم)۔

مزیدخبریں