وزیرخزانہ نے قوم کو معیشت کی اصل صورتحال نہیں بتائی: اقتصادی، زرعی ماہرین

01 جون 2012
لاہور(کامرس رپورٹر) وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ روز جاری کئے جانے والے اکنامک سروے پاکستان برائے 2011-12ءپر تبصرہ کرتے ہوئے اقتصادی اور زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے قوم کو معیشت کے بارے میں اصل صورتحال بتانے سے اجتناب کیا ہے موجودہ مالی سال میں تمام معاشی اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے بچتوں کی شرح میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی، لاہور ایوان صنعت و تجارت کے سابق سینئر نائب صدر شیخ محمد ارشد اور ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ابراہیم مغل اور آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے اپنے ردعمل میں کیا۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.8 ارب ڈالر کی کمی ہوئی حکومت نے مرکزی بنک اور تجارتی بنکوں سے 1100 ارب روپے کے قرصے لئے ہیں ایک اور پریشان کن بات یہ ہے کہ اکنامک سروے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نقصانات کا باب ہی نکال دیا گیا ہے۔ شیخ محمد ارشد نے کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی، روزگار میں کمی قومی بچتوں میں کمی ہوئی کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بڑھا ملک میں اندرونی اوربیرونی سرمایہ کاری میں خطرناک حد تک کمی ہوئی۔ ابراہیم مغل نے کہا کہ 9 شعبوں زراعت، خدمات، تھریڈ، مہنگائی، صنعت، افراط زر، جی ڈی پی گروتھ، بچتوں کی شرح میں سے کسی ایک کا بھی ہدف حاصل نہیں ہوسکا ایسی معاشی ابتری کی مثال کسی افریقی ملک میں بھی نہیں ملتی۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت گزشتہ 3سالوں کی طرح رواں سال بھی اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔