بڑے ڈیم نہ بنانے سے پاکستان کو سالانہ 580 ارب روپے کا نقصان

01 جون 2012
لاہور ( ندیم بسرا) وفاقی حکومت کی عدم توجہ سے بڑے ڈیمز خصوصاً کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں مسلسل تاخیر سے پاکستان کو ہر برس580 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت نے امریکہ کی آشیر باد سے دریائے چناب، جہلم اور دریائے سندھ پر35 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے ڈیمزکی رفتارکو تیز کردیا ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے کالاباغ ڈیم کا منصوبہ مکمل ختم کرنے کے بعد واپڈا نے وہاں کا تمام عملہ دوسرے شعبوں میں ٹرانسفر کر چکا ہے۔گزشتہ 3دہائیوںسے کالاباغ ڈیم کی فزیبلٹی،واپڈا ملازمین کی تنخواہوں، سڑکوںکی تعمیر پر 80 ارب روپے خرچ ہو چکے ہےں۔ کالاباغ ڈیم کو 6 سے 7 برس میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ساٹھ سے نوے پیسے تک فی یونٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم 3800 میگاواٹ کا میگا منصوبہ ہے۔ اس کی تعمیر سے تقریباً 65 لاکھ ایکڑ فٹ پانی فصلوں کے لئے ملے گا ۔ فی ایکڑ پیداوار میں بھی 25 فیصد تک اضافہ ہو گا اور مجموعی طور پر 70لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بناکر اربوں روپے سالانہ کمائے جا سکتے ہیں۔ 25 سے 30 ہزار افراد کو روزگار بھی حاصل ہوگا ۔سندھ کی 30لاکھ ایکڑ بنجر زمین دوبارہ قابل کاشت ہو سکے گی۔ ششماہی نہریں سارا سال بہیں گی اور سندھ میں ہی 100ارب روپے کی اضافی فصلیں حاصل ہونگی۔ منچھر جھیل مچھیروں کا برسوں سے بندکاروبار بھی دوبارہ شروع ہوسکے گا۔ سرحد میں ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، نوشہرہ اور دیگر اضلاع میں آٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت ہو سکے گی۔ پنجاب میں راجن پور، مظفر گڑھ، ڈی جی خان، لیہ ، بھکر اور دیگر اضلاع میں بنجر زمین زیرکاشت آسکے گی اور پینے کے لیے صاف پانی بھی دستیاب ہو گا۔ صوبہ بلوچستان کی ساڑھے تین لاکھ ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت ہو سکے گی۔دوسری جانب وزرات پانی وبجلی ، پیپکو اور این ٹی ڈی سی حکام کے تمام تر دعوﺅں کے برعکس گزشتہ 4 برسوں میں صرف 800 میگاواٹ بجلی حاصل ہو سکی جبکہ 3220 میگاواٹ کے 19 نئے پراجیکٹ بجلی کی پیدا وارشروع نہیں کر سکے۔ اس دوران بجلی کی ڈیمانڈ میں7 ہزار میگاواٹ اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں پانی کے بڑے ذخائرکی گنجائش کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ بڑےڈیمز میں سالانہ 200 ملین ایکڑ فٹ مٹی آنے سے بجلی بنانے کی صلاحیت میں کئی گنا کمی ہو چکی ہے ۔ منگلا، تربیلا اور چشمہ ہائیڈرو پراجیکٹس پر 10 برس یہی صورتحال رہی تو پن بجلی بنانے کی صلاحیت آدھی رہ جائے گی۔ ادھر بھارت 2021ءتک چناب، جہلم اور سندھ کے پانی پر مکمل کنٹرول کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ جس کے بعد ان بڑے پاکستانی دریاﺅں میں بھی محض ریت ہی رہ جائیگی۔
ڈیمز