آئی ٹی یونیورسٹی! ایک تاریخی سوفٹ اوپننگ

01 جون 2012
آئیڈیا کی پاور کا سب سے شاندار اظہار آئی ٹی کے شعبہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسرے کسی شعبہ میں آئیڈیے کی وہ قیمت نہیں ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں موجود ہے۔ کل تک ملائشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ کی مجموعی ایکسپورٹ پاکستان کی ایکسپورٹ سے کم تھی لیکن آج صرف آئی ٹی میں ترقی کی وجہ سے تینوں ملکوں کی الگ الگ ایکسپورٹ پاکستان سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں جانے کی ضرورت نہیں ہے صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ انڈیا نے پچاس سال پہلے جب انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی تھی تو اگر پاکستان میں کوئی باہوش قیادت ہوتی تو یقیناً مسابقت کے جذبے کا اظہار کرتی اور آج پاکستان صرف اس ایک شعبہ میں ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔ لوڈ شیڈنگ اور دوسرے معاشی مسائل کا وجود بھی نہیں ہوتا۔
دیر آید درست آید کے مصداق جمعرات کو عرفہ سوفٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے تیسرے فلور میں ایک باوقار تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا سوفٹ افتتاح کیا۔
پنجاب کے وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا وقتی طور پر کیمپس یہاں قائم کیا جا رہا ہے لیکن بعد میں اسے ڈیرہ اکوچند میں (ڈیفنس (7 میں 705 ایکڑ پر قائم ہونے والی نالج سٹی میں شفٹ کر دیا جائے گا۔ نالج سٹی میں مختلف یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کو ترجیحی بنیاد پر فنڈز فراہم کئے جائیں گے اور چند روز بعد پنجاب کے نئے بجٹ میں اس کے لئے باقاعدہ رقم مختص کی گئی ہے۔
ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید لغاری نے تفصیل سے بتایا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی بھی قوم معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام سے پنجاب میں ترقی کا نیا دروازہ کھل جائے گا۔ یہاں پر کوالٹی ایجوکیشن دینے کے تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس وقت دنیا میں دماغ کے ذریعے فتوحات کی جنگ جاری ہے اور اس اہم ترین یونیورسٹی کے قیام سے لاہور اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والے آئی ٹی کے طلبہ کے لئے ترقی کے نئے دروازے کھل جائیں گے اور پھر ان کے ذریعہ معاشی ترقی کا عمل تیزی سے شروع ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے بہت دلچسپ تقریر کی اور کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی بہت خواہش تھی کہ جی او آر میں قائم وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں آئی ٹی یونیورسٹی قائم کی جائے لیکن بعد میں بہت سے ناقدین نے منصوبہ ملتوی کرا دیا آج مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ اگر اس وقت آئی ٹی یونیورسٹی قائم کرتا تو صرف چار پانچ سو طالبات کو پڑھنے کا موقع ملتا۔ لیکن ہم تو یہاں سٹارٹ ہی ایک ہزار طلبہ سے لے رہے ہیں ستمبر میں داخلے شروع ہو جائیں گے۔ اور مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آئی ٹی یونیورسٹی میں مستحق، غریب لیکن ذہین طلبہ کے لئے داخلہ بالکل فری ہے اور پانچ سو طلبہ کے تعلیمی اخراجات پنجاب حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے ایجوکیشن انڈونمنٹ فنڈ سے ادا کئے جائیں گے۔ ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین نے پیشکش کی ہے کہ ذہین طلبہ کو آئی ٹی کے شعبہ میں ڈاکٹریٹ کرنے کے لئے سکالر شپ بھی فراہم کئے جائیں گے۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف نے بہت اچھی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئی ٹی یونیورسٹی کے سوفٹ افتتاح سے محمد شہباز شریف نے پنجاب کی ترقی کا ایک نیا سنگ میل نصب کر دیا ہے۔