فضا سے داغے جانے والے کروز میزائل حتف آٹھ ”رعد“ کا کامیاب تجربہ

01 جون 2012
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ایجنسیاں) پاکستان نے فضا سے داغے جانے والے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل ساڑھے تین سو کلو میٹر رینج کا حامل ہے اور ایٹمی و روایتی وار ہیڈ سے ہدف کو تباہ کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل حتف آٹھ ”رعد“ کہلاتا ہے۔ رعد کی بدولت پاکستان کو سمندر اور زمین پر سرٹیجک سٹینڈ آف استعداد حاصل ہو گئی ہے۔ کروز ٹیکنالوجی انتہائی پیچیدہ ہے اور دنیا کے صرف چند ملکوں کو ہی اس ٹیکنالوجی پرعبور ہے۔ رعد سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل میزائل ہے جو سطح زمین کے ساتھ کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف پر ایٹمی اور روایتی وار ہیڈ گرا سکتا ہے۔ رعد کی ایک نئی خوبی یہ ہے اس میزائل کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مکمل خود کار نظام سٹرٹیجک کمانڈ اینڈ کنٹرول سپورٹ سسٹم کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ یہ نظام کمانڈ سنٹرز میں متعین فیصلہ سازوں کو سٹرٹیجک اثاثوں کی حقیقی صورتحال کے بارے میں ہمہ وقت مطلع کرتا رہتا ہے۔ اہم بات یہ ہے اس سپورٹ سسٹم کی مدد سے داغے جانے کے بعد میزائل کی پرواز کی مسلسل نگرانی کی جا سکتی ہے۔ اس کامیاب تجربے پر صدر، وزیراعظم اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے تمام سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارک باد دی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق رعد کروز میزائل کی بدولت اب پاکستان دشمن کے بری و بحری دونوں اقسام کے ٹھکانوں کو تباہ کرسکتا ہے۔ رعد کے ذریعے طیارہ بردار اور بڑے جنگی بحری جہازوں کو بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی وسائل سے تیار کئے گئے اس میزائل کی مدد سے پاکستان کو زمین اور سمندر پر دفاع کرنے کی سٹرٹیجک صلاحیت ملے گی۔ کروز میزائل رعد ہدف کو زمین اور سمندر میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ میزائل نظروں سے اوجھل رہنے کی ٹیکنالوجی (اسٹیلتھ) سے لیس ہے اور راڈار پر نظر نہیں آسکتا۔ میزائل تجربے کے وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں اور سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے سربراہ جنرل (ر) خالد قدوائی اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...