نئے بلدیاتی نظام میں اداروں کا دورانیہ 4 سال تجویز/پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012ءکے مسودہ قانون کی منظوری

01 جون 2012
لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلی شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012ءکے مسودہ قانون کی منظوری دی گئی۔ اجلاس نے صوبے میں خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کے حادثات سے محفوظ رہنے کے لئے ڈویژن کی سطح پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیوں کے قیام کی بھی منظوری دی۔ ان اتھارٹیوں کے تحصیل و ضلع کی سطح پر بھی دفاتر بنائے جائیں گے۔ پنجاب پبلک سروس کمشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ برائے مالی سال 2010-11ءاور پنجاب پنشن فنڈ کی سالانہ رپورٹ پر بھی غور کیا گیا۔ شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسریاں تصور ہوتے ہیں، صوبائی حکومت ایسا بلدیاتی نظام متعارف کرائے گی جو عصر حاضر کے تقاضوں اور عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہوگا اور یہ جمہوری عمل کو مزید آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیا بلدیاتی نظام عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے گا جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو فیصلہ سازی میں بھرپور نمائندگی دینے کی پالیسی کے تحت نئے بلدیاتی نظام میں نوجوانوں کے لئے 5 فیصد کوٹہ ہو گا جبکہ خواتین کے لئے 33 فیصد نشستیں مختص ہوں گی۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں میں اقلیتی برادری، کسانوں اور محنت کشوں کے لئے بھی مخصوص نشستیں رکھی جائیں گی تاکہ تمام طبقات زندگی کی نمائندگی ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب پہلا صوبہ ہوگا جہاں نوجوانوں کے لئے بلدیاتی اداروں میں کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ نئے بلدیاتی نظام میں احتساب کا موثر نظام اپنایا جائے گا تاکہ عوام کی ایک ایک پائی کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں بلدیاتی اداروں کا دورانیہ 4 سال تجویز کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کو بلدیاتی اداروں کے خصوصی آڈٹ کا حق بھی حاصل ہے۔ وزیراعلی نے پبلک سروس کمشن کی نئی عمارت کی تعمیر کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے میرٹ پالیسی پر عملدرآمدکے حوالے سے قابل ستائش کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ نے پرویز مشرف دور کے بلدیاتی نظام کو ختم کرکے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ اور ناظمین کی جگہ لارڈ میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین کے عہدے بحال کر دئیے۔ تاہم اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کروانے کیلئے کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ رورل اور اربن کی پرانی تقسیم بھی بحال کر دی گئی ہے۔ لاہور کو میٹروپولس سٹی قراردیا گیا ہے۔ چیئرمین کا انتخاب یونین کونسلز کریں گی۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب کابینہ کے اجلاس میں بلدیاتی الیکشن جماعتی یا غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن جماعتی یا غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ اسمبلی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔