A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

متبادل توانائی منصوبوں پر کام کیا لیکن وفاق کی رکاوٹوں کی بنا پر انہیں آگے نہیں بڑھایاجا سکا : شہبازشریف

01 جون 2012
لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلی شہبازشریف نے کہاہے کہ صوبائی دارلحکومت میں ملک کی پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاجارہاہے، اس مقصد کے لئے آئندہ بجٹ میں خصوصی فنڈز رکھے جائیں گے، پنجاب ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کے لئے صوبائی حکومت قطعہ اراضی مفت فراہم کرے گی۔ پہلا کیمپس ارفع کریم سافٹ وئر ٹیکنالوجی پارک کے چھٹے فلور پر قائم کردیاگیا ہے جہاں اس سال ستمبر سے کلاسوں کا اجراءہوجائے گا۔ وہ ارفع کریم سافٹ ویر ٹیکنالوجی پارک میں پنجاب ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے منصوبے کی سافٹ اوپننگ کے بعد تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ شہبازشریف نے کہاکہ 2008ءکے انتخابات کے موقع پرانہوںنے اعلان کیاتھا کہ وہ 8کلب کے محل نما دفتر کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کردیں گے لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ سرخ فیتہ کی نذرہوگیا۔ آج تک 8کلب کی محل نما عمارت میں داخل نہیں ہوا لیکن میں نے انتخابی مہم کے موقع پر جو وعدہ کیاتھا وہ پورا کردیاہے۔ ستمبر میں پنجاب ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں ایک ہزار طلبا و طالبات کے لئے کمپیوٹر سائنسز کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، ان میں سے پانچ سو مستحق و ذہین طلبا وطالبات کے تعلیمی اخراجات پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈکے ذریعے ادا کئے جائیں گے۔ پنجاب ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا مستقل کیمپس ترکی کی مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے بنایا جائے گا۔ لاہور میں پنجاب ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا قیام ملک کو قائد اور اقبال کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔شہبازشریف نے بجلی بحران پر کہاکہ آج پاکستان میں اندھیروں کے بادل چھائے ہوئے ہیں،لوڈشیڈنگ کی ستائے عوام کی آنکھوں میں حکمرانوں کے خلاف نفرت اور خون اتراہواہے۔ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پنجاب کے عوام کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہوں لیکن ان سے اپیل کرتاہوں کہ قومی املاک کو ہرگز نقصان نہ پہنچایا جائے، لوڈشیڈنگ کا عذاب حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کاشاخسانہ ہے، جب تک ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لائی جاتی، کرپشن بند نہیں کی جاتی،بجلی چوری کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے جاتے تو عوام یونہی اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے لیکن اس صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیاجا سکتا۔وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ کرپٹ حکمران ملک کی لوٹی ہوئی دولت، پنجاب بنک، این آئی سی ایل اور حاجیوں کی جیبوں پر ڈالے ہوئے ڈاکے اور سیاسی بنیادوں پر معاف کرائے گئے قرضے واپس لے آئیں تو پنجاب سب سے پہلے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لئے اپنا حصہ ڈالے گا۔ جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے صنعتیں بند ہوں، کرپشن نے پنچے گاڑ رکھے ہوں اور نااہل حکمران غلط پالیسیوں پرعمل پیرا ہوں تو وہاں بیروزگاری ہی ہوگی۔صوبوں کو بجلی پیداکرنے کے اختیارات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ میں نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اس بارے میں تجویز پیش کی تھی جس کی دوسرے صوبوں نے بھی تائید کی، پنجاب حکومت نے متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کے منصوبوں پر کام کیا لیکن وفاقی حکومت کی رکاوٹوں کی بنا پر انہیں آگے نہیں بڑھایاجا سکا۔ انہوں نے کہاکہ اجتماعی بصیرت،ایثار کے جذبے اور مشترکہ کاوشوں سے ہی ملک کو مسائل کے بھنور سے نکالا جا سکتاہے، انہوں نے کہاکہ وہ پنجاب ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے دوسرے صوبوں میں کیمپسز کے قیام کے لئے تیار ہیں تاکہ اس منصوبے سے پورے ملک کو فائدہ پہنچے۔ دریں اثنا شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ، خوشحال اور جدید پاکستان کی تعمیر تعلیمی نظام کی ترقی سے مشروط ہے۔ صوبائی حکومت سکول ایجوکیشن کی جدید خطوط پر ترقی کے لئے آئندہ مالی سال میں خصوصی فنڈز مہیا کرے گی تاکہ صوبے کے 60 ہزار سرکاری سکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ سکولوں کا درجہ بڑھانے کے لئے منطقی طریقہ کار وضع کیا جائے اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کے مسئلے پر قابو پایا جائے۔ وزیراعلی نے ڈپٹی کمپٹرولر ایوان وزیراعلی پنجاب امین ڈوگر کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔