A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نہیں مانتے/ مستعفی نہ ہونے پر وکلاءاسمبلی کا گھیرا و کرینگے : وکلا کنونشن

01 جون 2012
ملتان (سپیشل رپورٹر) ہائیکورٹ بار ملتان کے زیر اہتمام کنونشن میں وکلاءنے متفقہ طور پر 14 قراردادیں منظور کیں جن میں کہا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے آئین سے انحراف کرتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف ریفرنس نہ بھجوا کر توہین عدالت کی۔ حکومت سوچی سمجھی سازش کے تحت سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے اداروں کا ٹکرا¶ کرا رہی ہے وکلاءقانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں وہ متحد ہیں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کے بعد وزیراعظم اپنے عہدہ اور قومی اسمبلی کی نشست دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ وکلاءکا مطالبہ ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں وکلاءکا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں عدلیہ کے فیصلوں سے انحراف آئین سے غداری ہے وکلاءکا اگلا ٹارگٹ لاہور کنونشن ہے جس کے بعد مستعفی نہ ہونے پر وکلاءاسمبلی کا گھیراو کرینگے وکلاءیوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نہیں مانتے ان کے مستعفی ہونے تک تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہیں حکومتی کرپشن کے باعث ملک کی جغرافیائی حدود کا وجود خطرات میں گھر چکا ہے۔ سانحہ 12 مئی اور 9 اپریل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گمشدہ افراد کے معاملہ کو حل کیا جائے۔ اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے ممبر پاکستان بار کونسل حامد خان نے کہا سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کے خلاف ریفرنس نہ بھجوا کر تاریخی بددیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے 7رکنی بنچ کے فیصلہ کی توہین کی حکومت سپریم کورٹ پر حملہ آور ہے۔ وکلاءآئین کے سپاہی ہیں مشرف کی کھال نما وردی کو کھینچ لیا۔ اب ان کی کچی کرسیوں کی باری ہے بارز کو پیسوں سے خریدا نہیں جا سکتا ہے۔ زرداری‘ گیلانی نے مل کر چوروں اور اچکوں کا جو گینگ بنایا ہے اس کو غیور وکلاءاپنی مستقل مزاجی سے مٹا دیں گے۔ مجرم وزیراعظم کو قوم مسترد کر چکی اگر وزیراعظم نے خود استعفیٰ نہ دیا تو وکلاءاسلام آباد میں دھرنا دے کر کرپٹ حکومت کا دھڑن تختہ کر دینگے۔ اگلا وکلاءکنونشن جو لاہور میں ہو رہا ہے کے بعد اسلام آباد میں وکلاءکنونشن کا انعقاد ہو گا جو حکومتی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ وکلاءآئین کے سپاہی ہیں۔ کم ظرف حکمرانوں نے آئین و قانون کو تہہ و بالا کر دیا۔ آزادی عدلیہ پر قدغن لگائی۔ میں نے آج تک اس سے کرپٹ حکومت نہیں دیکھی جو ہر وقت صرف اپنے اقتدار کے حصول کے لئے ملکی مفاد کو داﺅ پر لگا رہی ہے۔ میرا حکمران جماعت کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ وزیراعظم کے حق میں ایک بھی وکلاءکی ریلی نکال کر دکھائیں۔ وکلاءکنونشن میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا محض اعلان نہیں بلکہ کچھ ہی عرصہ میں دمادم مست قلندر ہو گا۔ سینئر نائب صدر سپریم کورٹ بار عمرانہ بلوچ نے کہا کہ مفاد پرست ٹولہ اس وقت برسراقتدار ہے یہ جمہوریت کے چیمپئن دراصل جمہوریت کے قاتل ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے یہ غیرقانونی اور غیرآئینی حکم جاری کیا ہے۔ صدر ہائیکورٹ بار محمود اشرف خان نے کہا کہ کالاکوٹ اور کالی ٹائی اب گیلانی کی شامت لانے والے ہیں۔ وکلاءنے سروں پر کفن باندھ لئے ہیں۔ 7ججز کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا دراصل توہین عدالت ہے۔ وکلاءحکمرانوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ باز آجائیں وگرنہ وکلا خود اسلام آباد آرہے ہیں۔ صدر ڈسٹرکٹ بار لاہور چودھری ذوالفقار نے کہا کہ سپیکر نے چودھری اعتزاز کے کہنے اور وزیراعظم کے خلاف ریفرنس بھجوانے سے انکار کر دیا جو توہین عدالت ہے۔ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن سید محمود الحسن نے کہا کہ تحریک بحالی عدلیہ کے بعد آج دفاع عدلیہ کا وقت آ گیا ہے۔ مجرم وزیراعظم کا دفاع کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے بھی توہین عدالت کر دی ہے صدر ڈسٹرکٹ بار گجرات بار قاضی ظفر اﷲ نے کہا کہ اب لانگ مارچ اور دھرنا دینا ہو گا۔ صدر ہائیکورٹ بار شیخ احسن الدین نے کہا کہ یہ ضمیر فروشوں اور ضمیر والوں کے درمیان جنگ ہے نائب صدر ہائیکورٹ بار لاہور چودھری حفیظ الرحمن نے کہا وکلاءآج بھی متحد ہیں اگر اب بھی مستعفی نہ ہوئے تو اب وکلاءان کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر لائیں گے صدر ہائیکورٹ بار بہاولپور بار یحییٰ خان نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے سزا یافتہ شخص کو بچانے کے لئے آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار سید جعفر طیار بخاری صدر بار کہروڑ لعل عیسن ذوالفقار علی صدر تونسہ بار محمد اطہر خان صدر جتوئی بار سردار وشوکت جتوئی صدر میلسی بار چودھری محمد اسلم‘ صدر جلالپور بار ایم آر فخر بلوچ صدر شجاع آباد بار صفدر حسین لنگاہ صدر ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی راحیل اصغر‘ صدر سکھر بار قربان علی ملانہ صدر ملتان بار حافظ اﷲ دتہ کاشف بوسن ممبر سپریم کورٹ بار خان محمد افضل خان صدر سانگھڑ بار انور خان ممبر سندھ بار کونسل عبدالستار قاضی صدر ڈسٹرکٹ بار نارووال عبدالقیوم نے بھی خطاب کیا۔