متحدہ قومی موومنٹ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی/ باتیں نوازشریف نے پھیلا رکھی ہیں : زرداری

01 جون 2012
کراچی (سٹاف رپورٹر + اے این این) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی باتیں نوازشریف نے پھیلا رکھی ہیں، اتحادیوں کے ساتھ مل کر سازشیں ناکام بنائیں گے، متحدہ قومی موومنٹ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتی، آئندہ انتخابات میں بھی مفاہمتی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا، صوبے کی سیاسی شخصیات کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول ہا¶س کراچی میں ارکان سندھ اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر زرداری نے کہا ایم کیو ایم والے ہمارے دوست ہیں اور سندھ کے حوالے سے ان کا م¶قف واضح ہے۔ انہوں نے کہا جب جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی تب سے سازش کے تحت سندھ میں تقسیم کا شوشا چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا سندھ کی تقسیم کے حوالے سے وہ قوتیں سرگرم ہیں جن کا مفاد پنجاب میں متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا بجٹ میں توانائی کا مسئلہ حل کرنے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ توانائی کا بحران آئندہ چند ماہ میں ختم ہو جائے گا، انتخابات سے قبل لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا آئندہ آٹھ ماہ تک عوام کو بھرپور ریلیف ملتا نظر آئے گا۔ قومیت پرستوں کے پاس سیاست کے لئے اب کوئی ایشو نہیں رہا۔ صدر کا کہنا تھا لیاری کے عوام کے دکھ اور درد میں ساتھ رہیں گے، لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور رہے گا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سندھ کے ارکان اسمبلی نے صدر کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ صدر نے ارکان اسمبلی کے مسائل کے حل کے لئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی نے بیوروکریسی کے رویے کے خلاف شکایات کیں۔ ارکان کا کہنا تھا ہمارے جائز کام نہیں ہوتے، بیوروکریسی رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے جبکہ منتخب ارکان سے صوبائی وزرا کا رویہ ٹھیک نہیں ہوتا، ہمارے وزرا ہی ہمارے کاموں میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ سٹاف رپورٹر کے مطابق صدر کا کہنا ہے پیپلز پارٹی نے پنجاب میں نئے صوبے کا اعلان کر کے جنوبی پنجاب کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا، نئے صوبے کے اعلان سے (ن) لیگ کو صدمہ پہنچا، اس لئے وہ سندھ کے خلاف سازش کر رہی ہے ہم اسے ناکام بنا دیں گے۔ متحدہ کا مہاجر صوبہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں آئندہ برس انتخابات اتحادیوں سے مل کر لڑیں گے۔ اے این این کے مطابق صدر زرداری نے کہا آج پیش کیا جانے والا وفاقی بجٹ عوام دوست ہو گا جو عام آدمی کو ریلیف دے گا، موجودہ حکومت اپنا پانچواں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے جو جمہوری حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا یہ اجلاس تین گھنٹے تک جاری رہا جس میں صدر نے ارکان اسمبلی کو کئی قومی معاملات پر اعتماد میں لیا۔ صدر کا کہنا ہے حکومت کو بجلی کے مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے، غرض نہیں سیاسی میدان میں اور صوبائی خودمختاری سے کیا حاصل کرتے ہیں، مہاجر صوبے کی بات کر کے ہم سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ عوام کی دادرسی کے لئے ان کے پاس جائیں۔ صدر زرداری نے کہا عالمی برادری سے قطع تعلق جمہوری آپشن نہیں سلالہ حملے نے عالمی برادری سے تعلقات پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ دفاعی کمیٹی نے نیٹو سپلائی پر مذاکرات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ شریک نہیں ہوئے۔ وقت نیوز کے مطابق وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی، ملاقات میں دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ریں اثناء پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کے درمیان انتخابی اتحاد ہو گیا جس کے تحت دونوں جماعتیں آئندہ انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے نہیں کریں گی اور آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گی۔ صدر آصف علی زرداری اور پیر پگارو کے درمیان ملاقات میں دونوں جماعتوں کے اتحاد کو موثر بنانے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کو بلاول ہاﺅس میں پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراءاور ارکان اسمبلی کے اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ نے امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی۔