بدترین لوڈ شیڈنگ کیخلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری

01 جون 2012
لاہور+ فیصل آباد + اسلام آباد (نیوز رپورٹر+نامہ نگاران+نمائندہ خصوصی+نوائے وقت نیوز) ملک میں بجلی کی پیداوار میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث شارٹ فال 8000 میگاواٹ رہا جس کے باعث شہروں میں 15 اور دیہی علاقوں میں 20 گھنٹے کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی گئی جس کیخلاف لاہور سمیت کئی شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری رہے۔ واپڈا دفاتر پر حملے اور توڑ پھوڑ کی گئی اور ریلیاں نکالی گئیں۔ فیصل آباد میں زبردست توڑ پھوڑ اور فیسکو آفس سمیت عمارتوں پر حملے کئے گئے احتجاجی مظاہروں کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ فیصل آباد کی مختلف تاجر تنظیموں نے آج سے 3 جون تک شٹر ڈاﺅن ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔ چونیاں، شرقپور میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی۔ فیصل آباد میں کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا کوتوالی روڈ پر پیپلزپارٹی کے دفتر اور ایک بنک میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ کئی بینرز اور فلیکس نذر آتش کر دیئے گئے۔ لاہور کے علاقے شاہدرہ میں شہریوں نے طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ٹائرجلا کر ٹریفک بلاک کر دی اور لیسکو دفتر اور راوی ٹول پلازہ میں توڑ پھوڑ کرکے املاک کو نقصان پہنچایا۔ شاہدرہ چوک میں لوڈ شیڈنگ کیخلاف یہ احتجاج دو گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مشتعل مظاہرین نے راوی ٹول پلازہ کے شیشے توڑ دیئے اور پیپلزپارٹی کے بینرز جلا دیئے۔ بعد میں مظاہرین لیسکو کے مقامی دفتر میں گھس گئے جہاں انہوں نے فرنیچر کی توڑ پھوڑ کے علاوہ ریکارڈ جلا دیا۔ فیصل آباد کے علاقے مدینہ ٹاﺅن کے سوساں روڈ پر لوڈ شیڈنگ کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایک گاڑی کو روکا تو انہوں نے مسلح افراد کو بلایا جنہوں نے فائرنگ کردی جس کے باعث دو افراد زخمی ہوگئے بعدازاں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔صدر بازار غلام محمد آباد میں دکان کے سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے دو مظاہرین زخمی ہو گئے جبکہ فائرنگ کے بعد مظاہرین نے دکان بھی لوٹ لی۔ علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے وزارت پانی و بجلی کو بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت پانی و بجلی نے 18ارب روپے آئی پی پیز کو فراہم نہیں کئے جس سے پیداواری گنجائش کم ہوگئی۔ پیپکو ترجمان کے مطابق بجلی کی پیداوار10842 اور ڈیمانڈ 18242 میگاواٹ ہے اس میں ہائیڈل پیداوار کا حصہ 4054، تھرمل1549 اورآئی پی پیزکا حصہ 6239 میگاواٹ ہے۔کراچی کو 690 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے بجلی کے شارٹ فال کی وجہ سے لاہور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 15گھنٹے سے بڑھ گیا ہے اور ہر گھنٹے بعد دو سے تین گھنٹے کیلئے بجلی بندکی جارہی ہے۔ چونیاں سے نامہ نگار کے مطابق مرکزی انجمن تاجران کی اپیل پر شہر میں مکمل شٹر ڈاﺅن رہا اور ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی مظاہرین نے واپڈا کمپلیکس میں ایکسیئن آفس اور واپڈا شکایات سیل پر دھاوا بول کر فرنیچر اور شیشے کے دروازے توڑ دیئے۔ سانگلہ ہل میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے تجاوز کر گیا اور محنت کش فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے جبکہ پانی کی بھی شدید قلت رہی۔ حافظ آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاءنے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف مکمل ہڑتال کی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق گرمی کی شدت سے نڈھال دو طلباءسمیت تین افراد بیہوش ہوگئے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق شدید گرمی کے باعث نذیراں بی بی اور بابا لال دم توڑ گئے علی پور چٹھہ سے نامہ نگار کے مطابق رسولنگر میں لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق پرانا شہر، ضلع کچہری اور پریس کلب کے سامنے دن بھر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے۔ شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے سکولوں میں ایک درجن سے زائد بچے بیہوش ہوگئے۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار اور نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سینکڑوں ڈنڈا بردار افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی جو شہر بھر کا چکر لگا کر واپڈا آفس کے باہر اختتام پذیر ہوئی مظاہرین نے ٹائر جلا کر 3 گھنٹے تک ٹریفک بلاک رکھی علاوہ ازیں شدید گرمی کے باعث مختلف سکولوں میں 5 طلبہ بیہوش ہوگئے۔ شرقپور شریف سے نامہ نگار کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی شہریوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو پورے شہر کا چکر لگانے کے بعد بڑا اڈا لاریاں پر ٹائر جلا کر لاہور جڑانوالہ روڈ کو بلاک کر دیا جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کامرس رپورٹر کے مطابق صدر آل پاکستان انجمن تاجران محمد اشرف بھٹی نے فیصل آباد تاجروں کی طرف سے بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کردیا۔ فیروز والا سے نامہ نگار کے مطابق فیروز والا رچنا ٹاﺅن اور غلہ منڈی شاہدرہ کے شہریوں نے واپڈا کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردیں۔ زبردست نعرہ بازی کی، مظاہرین نے واپڈا آفس جی ٹی روڈ پر گھس کر توڑ پھوڑ کی، راوی پل پر مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کرکے شیشے توڑ دیئے گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ علاوہ ازیں تربیلا ڈیم کے پاور ہاﺅسز ٹرپ کرگئے نیشنل گرڈ سٹیشن کو 1800 میگاواٹ بجلی کم ہوگئی۔تربیلا کی پہاڑیوں میں لگنے والی آگ نے ہائی ٹرانسمشن لائن کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کے باعث پاور ہا¶س ٹرپ کر گئے جس سے وزارت پانی و بجلی کے مطابق تربیلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار صفر ہو گئی۔ نامہ نگار کے مطابق تربیلا انتظامیہ نے تربیلا پاور سٹیشن سے نیشنل گرڈ سٹیشن کو بجلی کی فراہمی بند کر دی۔