مہنگائی کا علم ہے / راتوں رات ختم نہیں کر سکتے : وزیر خزانہ

01 جون 2012
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے رواں مالی سال میں معاشی کارکردگی کے جائزہ پر مشتمل 2011-12ءکے لئے اقتصادی سروے جاری کر دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جی ڈی پی گروتھ، قومی بچت، زراعت، خدمات، کرنٹ اکاونٹس اور بجٹ خسارہ کے حوالے سے مقررہ معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ہوئی۔ پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 3.4 فیصد کم ہوئی، سرکاری قرضوں کی کل مالیت 12,024 ارب روپے ہو گئی۔ داخلی قرضوں میں 19.8 فیصد اضافہ ہوا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے لوڈ شیڈنگ کم کرنے میں حکومتی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام مہنگی بجلی کے لئے تیار ہیں تو ہم لوڈ شیڈنگ ختم کر سکتے ہیں جبکہ مسئلہ بجلی دینے کا نہیں بلکہ سستی بجلی دینے کا ہے۔ باہر سے بجلی منگوا سکتے ہیں مگر قیمت کون دے گا، عوام کو مہنگی بجلی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا علم ہے مگر اسے راتوں رات ختم نہیں کر سکتے۔ وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے کے نمایاں خدوخال بتائے، اس موقع پر سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر ممتاز حیدر رضوی اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ مہنگائی کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھے تو کسی بھی حکومت کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار نہیں کہ وہ مہنگائی کم کر سکے، پاکستان بھی اس کا نشانہ بنتا ہے۔ چار سال میں بجلی پر ایک ہزار 200 ارب روپے جھونک چکے ہیں، بجلی چوری اور لیکج کا علم ہے، صوبائی حکومتوں نے بجلی کمپنیوں کے 300 ارب روپے دینے ہیں، تیل کی عالمی قیمتیں ہمارے کنٹرول میں نہیں، حکومتی قرضوں میں کمی اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، طاقتور لوگ ٹیکس نہیں دیتے، 1450 ارب کی ٹیکس وصولیاں کر لی ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زائد ایک ریکارڈ ہے۔ دفاعی بجٹ میں کمی نہیں کر سکتے، ترقیاتی پروگرام کا سارا پیسہ ریلیز کر دیا ہے، کھاد پر 50 ارب کی سبسڈی دی، گندم اور چینی برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں، برآمدات 25 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 11 ارب ڈالر ہو چکی ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 20.23 فیصد زیادہ رہیں۔ بجٹ میں نوکریوں کے حوالے سے بڑا اعلان کیا جائے گا، مالیاتی خسارہ پانچ فیصد پر لے آئے ہیں، 4 لاکھ 63 ہزار نئے ٹیکس دہندگان کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔ وزیر خزانہ نے موجودہ اقتصادی جائزے میں بھی غربت سے متعلق اعداد و شمار غائب کر دئیے۔ انہوں نے بتایا کہ چاول اور گنا کی پیداوار میں اضافہ ہوا جبکہ گندم کی پیداوار میں کمی ہوئی، حکومت کی اولین ترجیح مہنگائی میں کمی کرنا ہے، سویلین حکومت نے اخراجات میں 10 فیصد کمی کی ہے۔ کھاد پر سبسڈی میں 50 بلین روپے خرچ کئے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں اس سال شرح نمو 3.7 فیصد رہی، ہماری معاشی ترقی کی شرح گذشتہ سال 3 فیصد تھی، ہمارے لوگوں اور افواج نے اس سال بھی قربانیاں دیں، سندھ اور بلوچستان میں بارشوں سے 3.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ معاشی طور پر کئی لحاظ سے یہ سال اچھا اور کئی لحاظ سے برا رہا، اس سال غیر ملکی سرمایہ کاری کم رہی، 2012ءپاکستان کے لئے اچھا ثابت ہوا، ہم نے بھی مہنگائی کو سہا ہے، کوئی حکومت نہیں چاہتی کہ مہنگائی بڑھے، یہ ہماری مجبوری ہے۔ فیول اور انرجی کی قیمتوں میں جو پھونچال آیا ہوا تھا اس میں کمی آئی، بجٹ میں بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔ اس سال کنزیومر پرائس انڈیکس 10.8 فیصد رہا، مہنگائی کی شرح 10.8 فیصد رہی جبکہ گذشتہ سال اس کی شرح 13.82 فیصد تھی۔ مہنگائی کم کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ قرض کم سے کم لیا جائے۔ سویلین حکومت کے اخراجات گذشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کم رہے، مہنگائی سے عوام پریشان ہیں جس کے لئے حکومت نے اقدامات کئے، سیلاب اور معاشی مشکلات نہ ہوتیں تو ترقی کی شرح 4 فیصد ہوتی۔ مہنگائی سیاسی ایشو نہیں حکومت سمیت تمام جماعتیں پریشان ہیں، مہنگائی کم کرنے کے لئے حکومت اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، سٹیٹ بنک نے مہنگائی کم کرنے کے لئے سخت مانیٹری پالیسی اپنائی، حکومت عوام کو اس کے اثرات سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے، حکومت نہیں چاہے گی کہ بجلی، گیس و دیگر چیزوں کی قیمتیں بڑھیں۔ وزیر خزانہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ گذشتہ 3 سال سے مہنگائی کی شرح کم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2011ءسے اپریل 2012ءتک بجٹ خسارہ 5 فیصد تھا۔ ٹیکس کی وصولی شاندار طور پر 25 فیصد زائد رہی۔ پاکستان کو 5 سے 6 فیصد تک گروتھ ریٹ درکار ہے۔ مشکلات کے باوجود ملکی معیشت مستحکم رہی۔ مہنگائی سے عوام پریشان ہیں جس کے لئے حکومت نے اقدامات کئے۔ اس سال 10 مہینے میں 1450 ارب ٹیکس جمع ہوا۔ پچھلے سال اسی عرصے میں 1200 ارب ٹیکس جمع ہوا تھا۔ ٹیکس اکٹھا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ٹیکس اکٹھا کرنے میں ہر حکومت کو مشکلات رہیں۔ پچھلے سال کی نسبت ٹیکس میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ کھانے پینے کی بنیادی اشیا کو سیلز ٹیکس سے باہر کیا ہے۔ ٹیکس کلیکشن 1449 ارب روپے رہی۔ ٹیکس ریکوری ٹارگٹ 1952 ارب روپے ہے۔ مہنگائی کے تینوں انڈیکس گذشتہ سال سے بہتر ہیں، مزید بہتری آنی چاہئے۔ زرعی پیداوار میں رواں سال 3.1 فیصد اور فی کس آمدنی میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 666.8 ملین ڈالر رہی۔ چاول کی پیداوار میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا۔ رواں سال 25517 ٹن چاول پیدا ہوا۔ گندم کی پیداوار میں 6.7 فیصد کمی ہوئی۔ رواں سال 23,517 ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی۔ زرعی پیداوار میں رواں سال 3.1 فیصد اضافہ ہوا۔ گذشتہ سال زرعی پیداوار میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ مصنوعات کے شعبے میں اضافے کا تخمینہ 3.56 فیصد ہے۔ 2008ءکے بحران سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ چوتھی سہ ماہی میں سٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔ رواں سال گنے کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ چنے کی پیداوار میں 41.3 فیصد کمی، مکئی کی پیداوار میں 12.2 فیصد اضافہ، مرچ کی پیداوار میں 78.3 فیصد، دال مسور کی پیداوار میں 12.8 فیصد کمی ہوئی۔ ربیع کی فصل کے لئے ڈی اے پی کی فراہمی 758 ہزار ٹن ہو گی۔ 271 ہزار ٹن کھاد درآمد کرنا پڑے گی۔ فی کس آمدن میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا۔ اشیائے خورد و نوش کی پیداواری شرح 3.3 فیصد رہی۔ زرعی شعبے کی شرح نمو 3.1 فیصد رہی۔ چھوٹی فصلوں کی پیداوار میں 1.26 فیصد کمی جبکہ بڑی اچناس کی پیداوار میں 31.8 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا لیکن سرمایہ کاری میں 10.9 فیصد کمی آئی۔ پہلی ششماہی میں سٹاک مارکیٹ میں 9.2 فیصد کمی اور چوتھی سہ ماہی میں اضافہ دیکھا گیا۔ سروے میں تسلیم کیا گیا کہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کہا گیا کہ اس کی وجہ گیس اور بجلی کا بحران ہے۔ 10 ماہ میں برآمدات 20 ہزار 474 ملین ڈالر رہیں جبکہ درآمدات میں 14.5 فیصد اضافہ ہوا۔ سرکاری قرضوں میں ایک ہزار 315 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ داخلی قرضوں میں 11 ہزار 90.5 ارب روپے کا اضافہ ہوا ارو ان کا حجم 7 ہزار 206 ارب روپے تک ہو گیا۔ ملکی دفاع کو کمزور کرنے کا رسک نہیں لے سکتے، عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ اپنی آمدنی پر ٹیکس دے رہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر سے کہیں گے کہ ان کے گوشوارے کو عوام کے ساتھ شیئر کریں۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر ممتاز حیدر رضوی نے کہا کہ انکم ٹیکس میں اضافہ کے لئے ساڑھے 4 لاکھ افراد کو نوٹس جاری کریں گے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + اے پی اے + نوائے وقت نیوز) سینٹ اور قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس آج شام الگ الگ طلب کئے گئے ہیں۔ سینٹ کے اجلاس کی صدارت چیئرمین نیئر حسین بخاری جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر فہمیدہ مرزا کی صدارت میں ہو گا۔ امکان ہے کہ یہ اجلاس ایک ماہ تک جاری رہیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے اور سپیکر کی وزیراعظم کے حق میں رولنگ کے خلاف احتجاج جاری رکھے گی۔ دوسری جانب حکومت نے بھی اپنی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ وزیر خزانہ آج 3 ہزار بلین روپے سے زائد کا قومی بجٹ پیش کریں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں وفاقی بجٹ کا اعلان کرینگے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائیگی۔ بجٹ دستاویزات سینٹ میں بھی پیش کی جائیں گی۔ بجٹ کے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کریگی۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مشاورت کیلئے اجلاس بلائے گئے ہیں۔ بجٹ کی نمایاں باتوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی اضافہ کیا جائیگا۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی مقاصد کیلئے 360 بلین روپے کا ترقیاتی پروگرام مرتب کیا ہے جو بجٹ کے ساتھ منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا۔ مجموعی ترقیاتی منصوبہ 873 بلین روپے کا ہے جس میں 513 بلین روپے صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کئے جائینگے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف دئیے جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس سے چھوٹ کیلئے آمدنی کی حد بڑھا کر 4 لاکھ روپے کی جائے گی۔ تنخواہ دار طبقہ کیلئے ٹیکس کی سلیب میں کمی کی جا رہی ہے۔ تاجر طبقہ کیلئے ٹرن اوور ٹیکس کی شرح میں کمی کا امکان ہے جو موجودہ ایک فیصد کی شرح سے کم کرکے 0.5 فیصد کئے جانے کا امکان ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس میں جاری استثنیات کو واپس لینے، ہاﺅسنگ سیکٹر میں سرگرمیوں کو بڑھانے کیلئے پیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی گھٹانے اور متعدد دوسری اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو کم کرنے یا ختم کرنے کی تجویز ہے۔ اسلام آباد میں جائیداد کی خریدوفروخت پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے نفاذ کا امکان ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی میں ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ جی ایس ٹی کا یکساں 16 فیصد کا ریٹ جاری رکھا جائیگا۔ بجٹ میں توانائی کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جائیگی۔ پانی و بجلی کے متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کیلئے خطیر رقوم مختص کرنے کے علاوہ سرکلر ڈیٹ کے مسئلہ پر قابو پانے کیلئے اقدامات بجٹ کا حصہ ہوں گے۔ ٹیکس کے نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی تاہم ٹیکس گزاروں کی تعداد کو بڑھانے کیلئے گوشوارہ داخل کرنے کی پابندی پر عملدرآمد کیلئے متعدد اقدامات کئے جائیں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نئے بجٹ میں ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں کمی بیشی کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق موبل آئل اور اس کی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ موبل آئل پر 17 روپے فی لٹر اور گریس پر 25 روپے فی کلو ڈیوٹی عائد ہے۔ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس شرح میں کمی 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں پر ریگولیٹری 50 فیصد ڈیوٹی مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔ نئے بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں 5 فیصد کمی کا امکان ہے۔ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 200 روپے تک فی ٹن کم کرنے، پرتعیش اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی جا رہی ہے۔ ٹیکسٹائل کے 3 شعبوں میں سیلز ٹیکس ختم کرنے پر غور متوقع ہے۔ الکوحل مشروبات پر 6 فیصد سے ڈیوٹی بڑھا کر 50 فیصد کرنے، 24 ادویات کے خام مال پر ڈیوٹی شرح کم کرنے یا ختم کرنے کی تجویز ہے۔ میک اپ سامان پر ڈیوٹی کم کرنے، بیرون ملک سفر کے بزنس کلاس پر ڈیوٹی بڑھانے، گرین ہا¶س اور زرعی فارم کی مشینری پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق بجٹ کے حجم کا تخمینہ 29 کھرب 57 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ کئی اشیا پر ڈیوٹیوں میں کمی اور کئی پر جی ایس ٹی کی چھوٹ ختم ہونے کا امکان ہے۔ ملک کی یہ پہلی جمہوری حکومت ہو گی جو پانچواں بجٹ پیش کرے گی۔ چینی، سگریٹس مہنگی، ادویات، سیمنٹ، ایل پی جی، گریس، موبل آئل سمیت کئی خام مال اور مشینری سستے ہونے کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 23 کھرب 35 ارب روپے ہو گا جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 737 ارب روپے ہو گا۔ این ایف سی کے تحت صوبوں کو وفاقی ٹیکس محاصل سے 1421 ارب روپے دئیے جائیں گے۔ دفاعی بجٹ کی مد میں 545 ارب روپے قرض اور سود کی ادائیگی کے لئے 933 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ سبسڈی کی مد میں 180 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ صوبوں کو گرانٹس کی مد میں 57 ارب روپے دئیے جائیں گے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 360 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی بجٹ خسارے کا ہدف ایک ہزار 15 ارب تجویز کیا گیا ہے، حکومت آئندہ سال 874 ارب روپے کے ملکی قرضے لینے کا ارادہ رکھتی ہے، نجکاری پروگرام آئندہ سال منجمد رکھنے کی تجویز ہے، اس مد میں آمدن صفر رکھی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے اخراجات کی مد میں 240 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پانچ لاکھ سے اوپر کی آمدن پر دس فیصد الگ سے ٹیکس لاگو ہو گا۔