امریکہ ڈرون حملوں میں شہریوں کو مار کر جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے: برطانوی اخبار

01 جون 2012
لندن (خصوصی رپورٹ + خالد ایچ لودھی) امریکی سی آئی اے کی جانب سے پاکستان پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں 2004ءسے اب تک 3 ہزار ایک سو 45 کے لگ بھگ پاکستانی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ صرف صدر اوباما کے دور حکومت کے دوران 828 سویلین اور 175 معصوم بچے ڈرون حملوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ان حملوں میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی ہلاکتیں بہت کم ہوئیں۔ خود امریکہ پاکستان میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ انٹیلی جنس کی معمول کی اطلاعات کو جواز بنا کر پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کا سلسلہ اعلان کئے بغیر جنگ اور حکومت پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر یہ اقدامات عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں جس کی واضح مثال پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی سی آئی اے کا آپریشن ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور موجودہ صدر بارک اوباما دونوں ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اخبار کے مطابق اقوام متحدہ کے سابق عہدیدار فلپ السٹن اور سی آئی اے کے سابق کونسل جان رائنزو کا کہنا ہے ڈرون حملوں میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں قتل عام کے زمرے میں آتی ہیں اور ان حملوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات دائر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ میں قانونی ماہرین ان ڈرون حملوں میں اپنی جانیں گنوا دینے والوں کے ساتھ اپنی بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر جنگی جرائم کے مقدمات دائر کرنے کی غرض سے حکمت عملی وضع کر رہے ہیں۔