پاکستان میں قتل و غارت پر بھارتی مجھے طعنے دیتے تھے: ڈاکٹر خلیل چشتی

01 جون 2012
کراچی(رپورٹ: غزالہ فصیح) بھارت میں بیس سال مقدمہ بھگت کر پاکستان واپس آنے والے ڈاکٹر خلیل چشتی نے نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں قیام کے دوران پاکستان میں قتل و غارت اور ہنگامہ آرائی کی خبریں سن کر دل بہت دکھتا تھا۔ بھارتی مجھے کہتے تھے د یکھو تمہارے پاکستان میں یہ لوگ کیسے ایک دوسرے کو مار رہے ہیں‘ ڈاکٹر چشتی نے کہا بیس سال وطن سے دور رہ کر آزادی کی قدرو قیمت کا اندازہ ہوا۔ پاکستانیوں سے میری گزارش ہے خدارا ملک کی قدر کریں‘ تعصب ختم کرکے قومی سوچ اپنائیں‘ ورنہ بہت نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا 92ءمیں یہاں سے انڈیا گیا تو پاکستانی کرنسی بھارتی روپے کے برابر تھی‘ اب بھارتی روپے کی قیمت ہم سے دوگنی ہے‘ اشیائے خوردو نوش پاکستان کے مقابلے میں سستی ہیں۔ بھارت میں زراعت ترقی کررہی ہے‘ ڈاکٹر چشتی نے کہا عام بھارتیوں کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا‘ مجھے بڑے ا با یا چچا میاں کہہ کر بلاتے تھے۔ پاکستانی ٹیم انڈیا کے علاوہ کسی اور سے میچ جیت جاتی تو بھارتی مجھے مبارکباد دیتے تھے۔ انہوںنے کہا کہ گزرے بیس سالوں میں خاندان سے دوری کے علاوہ اپنے ریسرچ کے کام سے ملک کو فائدہ نہ پہنچانے کا افسوس ہے‘ کلام اقبال و رومی پڑھ کر وقت گزارتا تھا۔ ڈاکٹر چشتی نے کہا ٹانگ کی تکلیف دور ہوجائے تو پورا پاکستان گھومنا چا ہتا ہوں‘ نومبر میں پیشی کیلئے انڈیا جاﺅں گا دعا کریں‘ معاملہ ختم ہوجائے۔