پاکستان منشیات کا گیٹ وے ہے: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

01 جون 2012
پشاور(بیورورپورٹ) پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان منشیات کاگیٹ وے ہے اور اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف کے2008 سے لے کر 2012کی رپورٹس کے مطابق 80 سے90 فیصد منشیات افغانستان سے ساری دنیا کو منتقل ہوتی ہے اور یہ منشیات افغانستان سے پاکستان کے راستہ سے سمگل ہوتی ہے یہ ریمارکس انہوں نے خواتین پروبیشن اینڈ پروکلیمیشن آفیسرکی جانب سے دائررٹ درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔ چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس فصیح الملک پرمشتمل ڈویژ ن بنچ نے دائررٹ درخواست پر سیکرٹری ہوم خیبر پی کے کو حکم جاری کیاکہ وہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کوصوبہ کے میل اور فی میل پروبیشن اینڈ پروکلیمیشن آفیسرزکے سروس سٹرکچرتیارکرکے صوبائی اسمبلی سے منظوری کیلئے فنانس بل پیش کرے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایاکہ عدالتی احکامات پرڈپٹی ڈائریکٹرپروبیشن اینڈپروکلیمیشن اتھارٹی کی پوسٹ تخلیق کی گئی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ گوکہ ہم چیمبرمیںہوتے ہیں لیکن ہمیں بہت ساری معلومات ہیں کہ یہ تاخیر اور مداخلت اس بندے کا کام ہے جیسے عدالت نے فی میل پروبیشن آفیسرز کو حراسمنٹ کے الزام میںہٹایا تھا، صوبہ میں18میل اورصرف 6فی میل پروبیشن آفیسرزہے اس لئے حکومت کوفی میل پروبیشن آفیسرزکی تعداد بڑھانی چاہئے، چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت مداخلت نہیںکرنا چاہتی اور ہم نے حکومت پرتین ماہ سے چھوڑاہے کہ وہ پروبیشن آفیسرزکیلئے سروس سٹرکچربنائے اور فی میل پروبیشن آفیسرزکی تعداد بڑھائے لیکن اس میں تاخیرکی جارہی ہے۔