پاکستان قبائلی علاقے میں ایسٹ ترکمان اسلامک موومنٹ کیخلاف کارروائی کرے : چین

01 جون 2012
بیجنگ (اے پی اے) چین نے پاکستان سے دوبارہ کہا ہے کہ وہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے میں مبینہ طور پر موجود شدت پسند تنظیم ایسٹ ترکمان اسلامک موومنٹ کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے مزید موثر اقدامات کرے۔ چین کے وزیرخارجہ چینگ جوپنگ نے اس بات کا اظہار پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران کیا۔ چین کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد چین کے مسلمانوں کی اکثریت والے صوبے سنکیانگ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں جو ان کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ چینی حکام نے اس معاملے کو حالیہ دورے میں صدر آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اٹھایا۔ اس ملاقات میں سیکرٹری داخلہ کو بھی طلب کیا گیا تھا چینی حکام کا کہنا تھا کہ اس کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد زیادہ تر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں جہاں سے وہ تربیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی سرحد کے ساتھ والے چینی علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اعلیٰ حکام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وسطی ایشیائی ریاستوں جن میں ترکمانستان، آذربائیجان، تاجکستان اوردیگر ریاستیں بھی شامل ہیں، حکام سے ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کے نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔ اس تنظیم سمیت اس علاقے میں کام کرنے والی دیگر شدت پسند تنظیموں کے کرتا دھرتا افراد کے کوائف بھی اکٹھے کئے جائیں۔ پاکستانی حکام نے چینی حکام کو تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔
چین