سکھیکی: پنچائت کے فیصلے پر سسرالیوں نے بہو کی ٹانگ کاٹ ڈالی

01 جون 2012
سکھیکی (نامہ نگار) پنچایت کے فیصلے پر سسرالیوں نے بہو کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔ پولیس نے ایک ملزم کو حراست میں لےا ہے۔ مبینہ طور پر پنچائتی فیصلہ کرنے پر سسرالیوں نے بہو کی ٹانگ کاٹ کرقبرستان میں دبا دی۔ سکھیکی کے محلہ رحمت پورہ کی رہنے والی مسرت بی بی زوجہ خالد حسین دو بیٹوں اور اےک بیٹی کی ماں ہے مسرت بی بی کا خاوند سعودیہ میں رہتا ہے۔ سسرالیوں نے مسرت بی بی پر بدکاری کا الزام لگایا۔ درندہ صفت پنچائتیوں کے سامنے مسرت بی بی کی ٹانگ کو اس کے جسم سے جدا کر دیا گیا، علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا پنچائتی افراد میں برادری کے اللہ دتہ ، ریاض احمد ، محمد اختر وغیرہ شامل ہیں۔ ابھی تک پنچایت کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکا تا ہم پولیس سکھیکی نے ایک ملزم اختر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کی ٹانگ اس کے بھائی اختر نے کاٹی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسرت بی بی کو اس کے والدین اور سسرال والے جو ایک ہی گھر میں مشترکہ خاندانی نظام کے تحت رہتے ہیں اسے اپنا چال چلن درست کرنے کے لیے سمجھایا تو مسرت بی بی نے اپنی والدہ سے بد تمیزی کی جس پر غصے میں آکر اس کے چھوٹے بھائی اختر نے کلہاڑی کے وار کر کے اس کی ٹانگ کاٹ دی تھی۔