حج کرپشن کیس کی تفتیش حسین اصغر کو نہ دیئے جانے پر سپریم کورٹ کی برہمی

01 جون 2012
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) عدالت عظمیٰ نے حج کرپشن کیس کی تفتیش، پولیس افسر حسین اصغر کو نہ دئیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ تحقیقاتی افسر حسین اصغر کے گلگت بلتستان میں بطور آئی جی تقرری کی منسوخی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو تحریری طور پر وضاحت پیش کرنا ہو گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی تو فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے 26 اگست 2011ءکو حسین اصغر کا تبادلہ منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا حالانکہ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حسین اصغر سے متعلق واضح حکم دیا تھا کہ معاملے کو جلد نمٹا دیا جائے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل نے سیکرٹری داخلہ کی طرف سے جواب دینا چاہا تو عدالت نے انہیں سیکرٹری داخلہ کی طرف سے پیش ہونے سے روکتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کے حکام ان کی جانب سے پیش ہو سکتے ہیں اور ایف آئی اے اپنے دائرہ کار میں کام کرتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حسین اصغر پاکستانی حکومت کے ملازم ہیں انہیں واپس لایا جائے۔ اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد نے حسین اصغر کے تبادلہ کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا لیکن سیکرٹری داخلہ نے عمل نہیں کیا کئی ماہ سے عدالتی حکم زیر التوا رکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ حسین اصغر کے تبادلے کی منسوخی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ چیف جسٹس نے وہاں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیق چانڈیو کو کہا کہ بلوچستان کیس میں پولیس افسر سے متعلق عدالتی حکم پر عمل ہو گیا لیکن اس کیس میں عدالتی حکم پر عمل نہیں ہو رہا، جس پر وہ عدالت کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 5 جون تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس کیس میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے وکیل بابر اعوان کا لائسنس معطل کیا گیا ہے لہذا وفاقی حکومت کسی اور کو اپنا وکیل نامزد کرے۔
حسیں اصغر