پاکستان اور روس افغانستان کے حوالے سے مل کر کام کرنے پر متفق

01 جون 2012
اسلام آباد (مقبول ملک / سہیل عبدالناصر) پاکستان اور روس افغانستان میں امن اور استحکام کیلئے ملکر کام کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ باخبر سفارتی ذرائع نے ”دی نیشن“ کو بتایا ہے کہ روسی صدر کے افغانستان پر خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف جو آجکل پاکستان کے دورے پر ہیں نے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان اور باہمی تعلقات سمیت کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد روسی نمائندے کا دورہ اہمیت کا حامل ہے اور امریکہ کے 2014ءکے بعد بھی افغانستان میں قیام کے منصوبوں اور شنگھائی کانفرنس کے تناظر میں بھی یہ ملاقاتیں اہم ہیں۔دریں اثناءآرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی وسط جون میں روس کا سرکاری دورہ کریں گے۔ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے گزشتہ روز جنرل کیانی سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی اور ان کے مجوزہ دورہ ماسکو پر بھی تبادلہ خیالات کیا۔ روس میں قیام کے دوران جنرل کیانی روس کی اعلیٰ عسکری قیادت کے علاوہ صدر ولادی میر پیوٹن اور وزیراعظم کے ساتھ بھی ملاقاتیں کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور روس کے درمیان تعاون اور مشاورت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔ جنرل کیانی ایسے وقت روس کا دورہ کریں گے جب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے انخلاءکے سال کا تعین کر چکے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن بھی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ شنگھائی تعاون کونسل کے پلیٹ فارم سے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور روس نے اس اہم علاقائی اتحاد میں پاکستان کو مکمل رکنیت دینے کی حمایت کی ہے۔
کیانی