ایسے بھی ہیں مہرباں

01 جون 2012
ہیں لوگ و ہی جہاں میں اچھے ، آتے ہیں جو کام دوسروںکے‘ اسکی زندہ مثال سعودی عرب میں دیکھی ، بے شمار لوگ مقامی دیکھے جو انسانیت کی خدمت گمنام طریقے سے کرنے میں راحت اور فخر محسوس کرتے ہیں ، اگر اسطرح کی خدمت کرنےوالے اس دنیا میں نہ ہوں تو بے شمار لوگوںکا آسمان پر اللہ تعالیٰ ہو مگر زمین پر کوئی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ بندوبست کیا ہے کہ ہم سے کچھ لوگوں کو خدمت کی ذمہ داری سونپ کر انہیں اسطرف راغب بھی کیا ہے کہ وہ انسانوں کی خدمت کرتے ہوئے راحت محسوس کریں۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں ، قونصل خانوں میں ویلفیئر کے شعبے موجود ہوتے ہیں ، یہ شعبے وہاں نہائت کارآمد ہیں جہاں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ تعداد خلیجی ممالک میں زیادہ ہے۔صرف ٓسعودی عرب میں ایک اندازے کے مطابق بارہ لاکھ پاکستانی برسرروزگار ہیں اس میں تقریبا چھ لاکھ صرف مغربی حصے میں جس میں جدہ ، مکہ المکرمہ ، مدینہ المنورہ ، طائف، ینبع ، خمسیس مشیط ، اور دیگر کئی شہر شامل ہیں ، یہاں پاکستانی بے شمار مسائل کا شکار ہیں ، کچھ مسائل خود پیدا کرتے ہوتے ہیں اور کچھ واقعی سر پر آپڑتے ہیں ایسے میں زبان نے نابلد ہونا ، قانون سے آگاہی نہ ہونا، اپنے حقوق کا علم نہ ہونا سب سے بڑی مصیبت ہوتی ہے ۔ان معاملات کو حل کرنے کیلئے پہلے یہا ں ویلفیئر سیکشن میں تین افسران اورعملہ ہوا کرتا تھا ۔حکومت کے فیصلے اکثر نہ سمجھنے والے ہوتے ہیں ان افسران کی تعداد صرف دو کردی جبکہ مسائل میں اضافہ اپنی جگہ موجود ہے ، وسائل کی کمی ایک اہم عنصر ہے ۔نہ کوئی قانونی مشیر جو مقامی قوانین سے آگاہ ہو، نہ اس قسم کے دیگر سہولیات، جبکہ یہاںدیگر ممالک جنکے تارکین وطن کی تعداد پاکستانیوں سے کم ہے مثلا فلپائین، ہندوستان وغیرہ وہ لوگ اپنے ہم وطنوںکی بہتر خدمت اسلئے کرتے ہیں کہ وسائل موجود ہیں، فلپائین میں تقریبا تیس سے چالیس لوگ اپنی کمیونٹی کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیںجبکہ ہمارے ہاں دو افسران ہوتے ہیں جنکے ہمراہ مزید پانچ یا چھ افراد کی ٹیم ہوتی ہے جو یہاںکی لیبر عدالتوںمیں معاونت، مختلف اداروں کے درمیان خط و کتابت ، وغیرہ کے کام کرتی ہے ۔ایسے میں پاکستانیوںکی خدمت وہ ہی افسر کرسکتا ہے جو اس خدمت کو صرف تنخواہ کے عوض اپنی ڈیوٹی تصور نہ کرے بلکہ یہ سمجھے کہ اس ڈیوٹی پر مجھے اللہ تعالی نے اس لئے معمور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خواہش ہے کہ میری کوششوںسے اس کے مصیبت ذدہ اور پریشان حال لوگ اپنے مسائل حل کرسکیں او ر میں اسکا سبب بنوں۔یہ افسوسناک بات ہمارے مزاج میںشامل ہوچکی ہے کہ حکومتی عہدیدار اگر کسی بھی خدمت پر موجود ہے اس سے ہم شاکی رہتے ہیں اور تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ،اس میں کوتاہی کچھ کچھ بعض جگہوں پرحکومتی عہدیدار کی بھی ہوتی ہے جس سے یہ مزاج بنا ہے ۔ جدہ میں تین سال قبل وزارت محنت نے نائب قونصل کے عہدے پر جہانگیر مشتاق ورک تعنیات کیا جونوجوان ، تعلیم یافتہ ، محنتی ، خوش اخلاق ( یہ تینوں خاصیتین نہائت اہم ہیں ، گو کہ تعلیم یافتہ ہر افسر ہوتا ہے مگر تعلیم یافتہ اپنے طور طریقے سے بھی آنا ضروری ہے ، بے شمار تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جب آپ ملیں تو اس بہتر پرائمری کلاس پڑھا ہوا آدمی بہتر لگتاہے ) جہانگیر مشتاق نے ورلڈ بنک کی اسکالر شپ پربرطانیہ سے سرمایہ کاری اور فنانس میں ماسٹرز کیا ،بنیادی طور پر الیکٹرانک انجئینر ہیں فنانس اور آڈٹ سے متعلقہ بے شمار شعبوں ، جن میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان ، سیکریٹری اسٹبلشمنٹ کے ہمراہ ، وزارت دفاع میں آڈٹ کے شعبہ ،ECO کے ہمراہ ، وزارت خارجہ میں اہم ذمہ داری جو پاکستان کے دنیا بھر میں 120 مشن کی تنخواہوں کے معاملات ، وزارت خارجہ کے دنیا بھر میں چالیس مشن کی آڈٹ کی ذمہ داری کے حوالے سے دنیا بھر کے دورے کرچکے ہیں۔ اتنی اہم ذمہ داریاں انجام دینے کے باوجود طبیعت میں نہایت خندہ پیشانی ، جہانگیر مشتاق ورک یہاں تین سال بحیثیت وائس قونصل ویلفئیر خدمات انجام دینے کے بعد وطن عزیز اپنی نئی ذمہ داریا ں سنبھالنے جارہے ہیں ،خصوصی طور پر ویلفئیر کے شعبے کے حوالے سے ا س بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس میںعدالتی نظام ، کمیونٹی سے متعلق امور ، میزبان ملک کے سرکاری اداروں، اور قوانین سے آگاہی مسائل کے حل میں معاون ہوتی ہے مگر ہماری صورتحال کچھ اسطرح ہے کہ تین سال کی تعنیاتی میں دوسال ماحول اور قوانین سے آگاہی ہوتی ہے تیسرے سال سے واپس ٹرانسفر کی تیاری شرو ع ہوجاتی ہے ، یہ وہ شعبہ جہاں تعنیات تین سال سے زائد ہونا چاہئے تاکہ کمیونٹی کے مسائل زیادہ بہتر طور پر حل ہوسکیں۔ یہ بات نہائت اہم ہے کہ یہاں کمیونٹی ویلفئیر فنڈ کروڑوںروپے کی صورت میں موجود ہے جس پر کمیونٹی ویلفئیرافسرا ن کی دسترس صرف اتنی ہے کہ وہ قونصل جنرل کے اسکے کسی معقول استعمال مشورہ دے سکتے ہیں منظوری قونصل جنرل یا سفیر کی ذمہ داری ہے ، یہ ایک خواب ہے کہ کمیونٹی کو معلوم ہوسکے کہ کمیونٹی فنڈ کتنا ہے جو خود کمیونٹی کا دیا ہوا ہے ۔ میں نے سعودی عرب میں تیس سال سے زائد رہائش میں یہ جہانگیر مشتاق وہ پہلا افسر دیکھا ،جب دفتر میںملاقات ہوئی مصروف دیکھا، بے شمار مسائل کا شکار بے شمار پاکستانیوںکو درخواستوں کے ہمراہ انکے کمرے کے اندر اور باہر دیکھا ،انہیں ہر ایک کا مسئلہ خندہ پیشانی سے سنتے دیکھا ، ہمیشہ چاق و چوبند ،خوش لباس دیکھا ، کسی حادثے،یا ضرورت کے وقت اندرون جدہ ، یا بیرون جدہ ہسپتالوں ، عدالتوں میں پاکستانیوںکے مسائل کے حل کیلئے دن رات مصروف دیکھا ، سب سے اہم بات یہ کہ کسی بھی شخص کو انکی شکائت یاان سے ناراض نہ دیکھا ، کسی بھی ضرورت مند جو مسئلہ لیکر انکے کمرے میں دیکھا ، باہر آتے ہوئے اسے نہائت مطمئن دیکھا ۔وہ پاکستانی جو یہاں کسی نہ کسی مسئلہ آجر سے جھگڑاکرائم کی صورت میں جیل میں ہیں ،ان میں زیادہ تر اپنے آپکو معصوم ہی کہتے ہیں جہانگیر مشتاق جدہ ، اور دیگر شہروںمیں مہینے میں کم از کم آٹھ دورے کرکے حکام سے ان پاکستانی قیدیوںکے متعلق بات چیت کرتے تھے انکی رہائی یا سزامیں کمی کی تدابیر کرتے تھے۔ غیر قانونی رہائش یا کسی جرم کی شکل میں سزا پاکر یہاں سے تقریبا ڈھائی سو پاکستانی ہر ہفتہ پاکستان بھیجا جاتا ہے جسکی دستاویز،اسکے کفیلوں سے انکے بقایا جات کے وصولی ، نیز یہاں فوت ہوجانے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو مرحوم کے آجر سے اسکے مالی حقوق دلوانا یہ وہ کام ہیں جو آٹھ گھنٹوںپر محیط نہیں جو ڈیوٹی کے اوقات ہوتے ہیں یہ چوبیس گھنٹے کے کام ہوتے ہیں کیونکہ مشکل میں پھنسا ہو ا شخص ڈیوٹی کا وقت نہیں دیکھتا وہ کسی بھی لحمے ٹیلفون کرکے اپنا مسئلہ نہ صرف بتا تا ہے بلکہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ مسئلہ فوری حل بھی ہوجائے، غرض یہاں وئلفئیر کے شعبے میں بے شمار کام ہیں جو یہاں کچھ تحریر ہوئے ہیں اسکے علاوہ بھی بے شمار کام ہیں ، دراصل اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قونصیلٹ میں کام ہی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کا ہے بقیہ تو خارجی امور ، پاسپورٹ کے معاملا ت جو عمومی طور پر چل رہے ہیں ویلفئیر کا وہ شعبہ ہے جہاںوسائل نہیں ہیں اوردن رات کام کرنا ہے یہ کام وہی کرسکتا ہے جو اپنے اندر مادام ٹریسا ، یا عبدالستار ایدھی جیسی سوچ رکھتا ہو۔ حال ہی میںدو نئے قونصلرز ویلفئئیر ڈپارٹمنٹ میں آئے ہیں نوجوان ہیں ، ڈاکٹر مظہر الحق کاکا خیل، اور تھسیم الحق توقع ہے کہ وہ معاملات جوجہانگیر مشتاق یا نصراللہ وٹو ( سابقہ قونصل ) کرتے رہے ہیں اسی خندہ پیشانی جس سے جہانگیر مشتاق ورک کام کرتے رہے ہیں وہ بھی اس پیمانے پر پورا اتریں گے ، اگر وہ کمیونٹی کے کام کسی ” پرچی “ سفارش کے بغیر کرینگے انکی زندگی بھی مطمئین رہے گی اوراللہ تعالی بھی ساتھ دیگا، جو شخص ” پر چی “ لا سکتا ہے وہ اپنا کام بھی کراسکتاہے اسلئے کام انکا ہونا چاہئے جن میں ” پر چی “ لانے کی سکت بھی نہیں ہے ۔ انک پر چی ہمار ا قران ہے جس میںکہا گیا ہے کہ ضرورت مندوںکے کام آﺅ ، انکے مسائل حل کرو،اللہ تعالی نے جو ذمہ داری سونپی ہے اسے نہائت ایمانداری سے نبھاﺅ۔ آجکل جدہ صبح شام رات ،جہانگیر مشتاق کی الوداعی کا سلسلہ جاری ہے ، ان دعوتوں سے انکی مقبولیت کا اندازہ ہوتاہے ، گزشتہ دنوں کرسچین کمیونٹی ویلفئیر سوسائٹی نے جہانگیر مشتاق کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیاجس میںجدہ میں پاکستان کرسچین کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور جہانگیر مشتاق ورک کی کرسچین کمیونٹی کیلئے دی جانے والی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ، تقریب کی صدارت فورم کے سرگرم صدر پرویز یوسف نے کی جبکہ وہاں کرسچین کمیونٹی کے بابا ولیم کے ڈی بھی اسٹیج پر تھے ، کمیونٹی ارکین نے نئے آنے والے قونصلر کو خوش آمدید اور جہانگیر مشتاق کے لئے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا اور کمیونٹی کی خدمات پر انکا شکریہ ادا کیا۔یہاں موجود ہزاروں ، لاکھو ںپاکستانیوںکی طرح ہماری دعائیں جہانگیر مشتاق ورک کے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ انہیںکامیابیاں عطافرمائے اور اپنے ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ عطاکرے ۔ آمین۔ جہانگیر مشتاق نے ایک ملاقات میٰں بتایا کہ میری یہاںتعنیات کے دوران اپنی ہمت اور وسائل سے بڑھ کر کام کرنے کو کوشش کی،میرے کام میں جہاں کمیونٹی نے بھر تعاون کیا وہیں سفیر پاکستان ، قونصل جنرل،اورمیرے رفقاءقونصلرز نیز میڈیا ،پاکستان جرنلسٹ فورم نے میرے بازو ں اور ہمت کے طور پر میرے ساتھ تعاون کیا،امید ہے کہ کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے یہ تعاون نئے آنے والے قونصلرز ڈاکٹر مظہر الحق ، اور تہسیم الحق کے ہمراہ بھی رہے گا۔
خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعیزیز کی حکومت کے سات سال ہونے پر تقریب
خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو اقتدار سنبھالے ہوئے سات سال مکمل ہورہے ہیں ، سعودی حکومت اپنے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کا جتنا خیال کرتی ہے شائدہی کوئی اور ملک اپنے ہم وطنوں کا اتنا خیال کرتی ہو ۔ اللہ تعالی کے کرم سے یہاں تیل اور سونے کے قدرتی پیدوار کی وجہ سے اللہ تعالی نے سعودی حکمرانوں کو یہ شرف بخشا ہے کہ وہ نہ صرف حرمین میں آنے والے ہر سال لاکھوں زائیرین کی دیکھ بھال کرتے ہوئے انکی خدمت کریں بلکہ یہاں روزگار کے مواقع فراہم کرکے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ذرمبادلہ پہنچانے کا کام کرتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے یہاں سعودی حکومت اپنے ہم وطنوںکیلئے تعیلم ، تعمیر ،سائینس، انڈسٹری ، سرمایہ کاری کیلئے بڑے بڑے پراجیکٹ لگا کر انکے اور ملک کے مسقبل کو کامیابی کی طرف لیجارہی ہے ۔ گزشتہ دنوں شہزادہ سلطان بن ناصر بن عبدالعزیز نے ایک تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر تقریب کو شرف بخشا جس میں مکہ وزارت اطلاعات کے سعود ال محتمی ، ڈاکٹر عدنان الھاشمی ، اور سعودی کاروباری حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، تقریب میں خادم الحرمین الشریفین کی اپنے رعایا کی بہتری اور سعودی عرب کی ترقی کیلئے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا ، تقریب میں پاکستانی سماجی کارکن محترمہ خدیجہ ملک جنکے بچے مقامی شہریت رکھتے ہیں اور انکی والدہ جدہ اور مکہ المکرمہ میں بے شمار سماجی کام انجام دیتی کے صاحبزادوں عبدالعزیز، اور عبدالسلام نے مہمان خصوصی شہزادہ سلطان بن ناصر بن عبدالعزیز کو خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعیزیز کی ایک بڑی اور خوبصورت تصویر پیش کی ۔مہمانوںنے ان بچوںکی کاوش کی تعریف کی ۔ انہوںنے کہا یہ تصویر خادم الحرمین الشریفین کی رعایا میں انکی محبت کا ثبوت ہے ۔