انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے موضوع پر اہم اجلاس

01 جون 2012
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر انسانی حقوق کونسل میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی، ناروے، ترکی، فرانس نے مقبوضہ کشمیر میں روز لاتعداد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مکمل انسانی حقوق دینے اور آزادانہ زندگی گزارنے کی حمایت کر دی۔گذشتہ روز انٹرنیشنل انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس یو پی آر انڈیا کے اجلاس کے موقع پر90ممالک نے بجٹ میں حصہ لیا۔ بدقسمتی سے اس اہم اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کسی فرد نے پاکستان کی نمائندگی نہیں کی۔ یو پی آرانڈیا کا یہ اجلاس بھارت میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہوا تھا۔انٹرنیشنل انسانی حقوق کمیشن نے ممبران ممالک کے اندر انسانی حقوق کا جائزہ لینے کے لئے یو پی آر کا سلسلہ شروع کیا ہے۔اس سے قبل 2005ء میں یہ اجلاس منعقد ہو چکا ہے۔ 4سال بعد منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس سے قبل بھارت و دیگر ممبر ممالک ایک دوسرے کے حق میں زبردست لابنگ کرتے ہوئے نظر آئے۔ بھارت کو ایک چیلنچ کا سامنا تھاجو70رکنی وفد کے ہمراہ اٹارنی جنرل آف انڈیا کی قیادت میں موجود تھا۔ دوسری طرف کشمیریوں کی بات کرنے کے لئے حسب روایت کشمیر سنٹرز کے سربراہان موجود تھے جنہوں نے بھارتی وفد کو اجلاس میں زبردست سوالات کئے اور منہ توڑ جوابات دیے ہیں جس سے بھارتی وفد بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ کشمیر سنٹر برسلز کے چیئرمین بیرسٹر عبدالمجید ترمبو اور پروفیسر نذیر سال نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کے سفارت کاروںسے ملاقاتوں کے دوران ان تک کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا فیٹ ٹیسٹ پہنچایا اور آل پارٹی گروپ آن کمشیر کے لارڈز نذیر احمد کا تحریری خط بھی ان سفارت کاروں تک پہنچایا۔ اس خط میں لارڈ نذیر احمد نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کے مختلف پہلوﺅں کی نشاندہی کی تھی۔انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھارتی موقف سننے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے نقطہ نظر میں بھارتی موقف سننے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے نقطہ نظر پیش کیااور بھارت کے اندر انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کی۔ ممبر ممالک نے 2008ء یو پی آر اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے پر زور دیاگیااور اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حراستی ہلاکتیں گمشدہ افراد، کالے قوانین جس میں آرمڈ فورسز پاور ایکٹ اور سزائے موت پر پابندی جیسے معاملات حل طلب ہیں۔ اس موقع پر بیرسٹر عبدالمحمید ترمبو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یو پی آر انڈیا کا اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس میں کشمیر سنٹرز نے بھرپور انداز میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ممبر ممالک کے نوٹس میں لائے ہیں۔
کشمیر میں رائج کالے قوانین حراستی ہلاکتیں چارٹر اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ اچھی طرح واقف ہے اور توقع ہے کہ جب یو پی آر 2012ء کی تجاویز مرتب ہوں گی ان میں کشمیریوں کے خدشات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ کشمیر سنٹرز یو پی آر کے موقع پر سفارت کاروں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ اور یہ سلسلہ اجلاس کے ختم ہونے تک جاری رہے گا تاکہ کشمیریوں کے حق میں ایک موثر لابنگ کی جائے اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کو بے نقاب کیا جا سکے۔ کشمیر سنٹر لندن کے سربراہ پروفیسر نذیر شامی نے یو پی آر کی یو این او میکنزم کو اس حوالے سے اہم قرار دیا کہ اس میں مختلف ممالک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے اور ان زیادتیوں کو جو عوام کے ساتھ روا ہیں بے نقاب کرنے میں موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھی زیادتیاں روا رکھی گئی ہیں ان کا منبع وہ کالے قوانین ہیں جن میں بھارتی افواج کو لوگوں پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔اس لئے ان قوانین کو کالعدم قرار دینے کے لئے مختلف ممالک کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ یادرہے کہ یو پی آر انڈیا کے بعد یو پی آر پاکستان 2012ء اکتوبر میں منعقد ہو گا جس میں پاکستان میں لاتعداد انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے بحث ہو گی۔ترکی کے سفارت کار اور جرمن فرانس کے نمائندگان نے بعد ازاں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ انسانوں کو ان کی زندگیاں گزارنے کا حق ملے اس کے لئے آج کا اجلاس انتہائی اہم ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔