مقروض ترین نوٹ چھاپ حکومت

01 جون 2012
قیوم نظامی
وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے طویل ترین مدت گزارنے والے وزیراعظم بن گئے ہیں اور انہوں نے شہید ملت لیاقت علی خان کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ پہلے وہ اس فخر کا اظہار بھی کیا کرتے تھے کہ وہ تاریخ کے پہلے متفقہ وزیراعظم ہیں۔ قومی اسمبلی کے تمام ارکان نے ان کو اعتماد کا ووٹ دیا۔ تاریخ کے یہ نئے ریکارڈ قابل فخر ہی سہی مگر ان کا تعلق وزیراعظم کی ذات سے ہے اس سے قوم کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جہاں تک عوامی اور قومی خدمات کا تعلق ہے ان میدانوں میں بھی وزیراعظم نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں جو عوام کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2008ءمیں منصب سنبھالا تھا اس وقت پاکستان پر 6.5 کھرب روپے کا قرضہ تھا اور آج پاکستان 12.88 کھرب روپے کا مقروض ہے۔ ڈالر 62روپے کا تھا جو آج 93 روپے کا ہوچکا ہے۔
سٹیٹ بنک کے گورنر یاسین انور نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ”پاکستان کی میکرواکنامک صورتحال کے باعث کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی بجائے نوٹ چھاپ کر اور مرکزی بنک سے قرضے لے کر حکومت چلا رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ آئندہ 3 ماہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی 60 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ حکومت کو بیل آﺅٹ کے لیے دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس چانا پڑے گا۔ حکومت رواں مالی سال میں مرکزی بنک سے 442 ارب روپے قرض حاصل کرچکی ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک نے کہا کہ انہیں خود مختاری حاصل ہے مگر اس قدر نہیں کہ حکومتی چیک واپس کرسکیں۔ اندیشہ ہے کہ اگلے سال تک زرمبادلہ کے ذخائر نصف رہ جائیں گے“۔ نیب کے چیرمین فصیح بخاری کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ حکومت کے تین شعبوں میں 500 ارب روپے روزانہ کرپشن ہورہی ہے۔
جب گیلانی صاحب وزیراعظم بنے اس وقت 4 سے 6 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اب جبکہ وہ چار سال گزارچکے ہیں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 سے 18 گھنٹے ہوچکا ہے جبکہ بجلی کی قیمت 5.44 روپے فی یونٹ سے 10.41روپے تک بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کے عوام سڑکوں پر آکر حکومت کا ماتم کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے قومی ادارے تکنیکی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ پی آئی اے کا سالانہ خسارہ 2008 میں 4 ارب روپے تھا۔ 2012 میں 92 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ ریلوے کا خسارہ 17 ارب سے 96 ارب اور سٹیل ملز کا 11 ارب سے 138 ارب روپے تک بڑھ چکا ہے۔وزیراعظم پاکستان کو مکمل اختیارات اور تسلسل کے ساتھ حکومت کرنے کا سازگار موقع ملا انہیں 18 ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کی صورت میں سیاسی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں مگر وہ ان سیاسی کامیابیوں سے معاشی کامیابیاں حاصل نہ کرسکے اور ان کی حکومت نے تاریخ کی مقروض ترین اور سب سے زیادہ نوٹ چھاپنے والی حکومت کا ریکارڈ حاصل کرلیا۔ گیلانی صاحب فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے طویل عرصہ حکومت کرنے کا لیاقت علی خان کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ اور عوام ان کو شہید ملت کی طرح محبت اور عقیدت سے یاد رکھیں گے یا انہیں تاریخ کے سزایافتہ اور کرپشن کے الزامات میں ملوث وزیراعظم کے طور پر ہی یاد کیا جائے گا۔ حکمران کی کامیابی کا تعین مدت سے نہیں بلکہ کارکردگی سے کیا جاتا ہے۔ جب لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا تو انہوں نے شیروانی کے نیچے پھٹی پرانی قمیض پہن رکھی تھی۔سزا یافتہ وزیراعظم کو شہید ملت سے موازنہ کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔
پاکستان کے نامور صحافی رﺅف کلاسرا نے اپنی کتاب ”ایک سیاست کئی کہانیاں“ میں تحریر کیا ہے کہ جب گیلانی صاحب اڈیالہ جیل کے قیدی تھے” ان کے پاس بچوں کے لیے بھی فیسوں کے پیسے نہیں تھے انہوں نے اپنی ایک گاڑی اور قیمتی گھڑی بیچ کر اپنے مالی معاملات چلانے کی کوشش کی تھی“(صفحہ نمبر 337) ۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق گزشہ چار سال کے دوران ان کے خاندان کے اثاثے مبینہ طور پر 700 گنا بڑھ چکے ہیں۔ ملک کی نصف آبادی (نو کروڑ) کو دو وقت کا کھانا میسر نہیں ہے۔ غربت کی بناءپر لوگ ہر روز خودکشیاں کررہے ہیں مگر حکمران ہر روز نئے سوٹوں اور نئی ٹائیوں کے ساتھ عوام کے سامنے جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ کرپشن کی داستانیں سن سن کر اور حکمرانوں کے رنگ برنگے سوٹ اور ٹائیاں دیکھ دیکھ کر نوجوان انتقامی جذبے کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں۔ حکمران زمینی حقائق سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ جب اقتدار کا نشہ اترے گا تو حکمرانوں کو آٹے دال کا بھاﺅ معلوم ہوجائے گا۔
تم جسم کے خوش رنگ لباسوں پہ ہو نازاں
میں روح کو محتاج کفن دیکھ رہا ہوں
وزیراعظم گیلانی کے بارے میں رﺅف کلاسرا کا یہ تجزیہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوا۔ ”گیلانی صاحب قوم کی قسمت بدل سکیں یا نہ بدل سکیں لیکن خدا نے ان کی، ان کے بچوں، رشتے داروں اور دوستوں کی قسمت ضرور بدل دی ہے۔ اس سے زیادہ گیلانی صاحب کی نہ خواہش ہے اور نہ ہی طلب“۔ (صفحہ نمبر 351)