بجٹ ڈرامہ۔۔۔ کتنا تلخ، کتنا شیریں؟

01 جون 2012
احمد جمال نظامی
آمدہ وفاقی بجٹ 2012-13ءکیسا ہو گا اس کا اندازہ گورنر سٹیٹ بینک یٰسین انور کے غیرملکی جریدے کو دیئے گئے انٹرویو سے لگایا جا سکتا ہے جس میں موصوف نے برملا پیشین گوئی کی ہے کہ سرکاری اخراجات بجلی اور دیگر اجناس پر سبسڈی تجارتی خسارے میں نمایاں اضافے اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث آئندہ مالی سال مالیاتی دباو مزید بڑھ جائے گا۔ آئندہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران ذخائر کی مالیت 8ارب ڈالر تک گرنے کا خدشہ ہے جو دو ماہ کی درآمدی ضرورت کے لئے بھی ناکافی ہوں گے۔ حکومت رواں مالی سال اپنے کسی بھی ہدف کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے پورے مالی سال کے دوران سرمایہ کاری میں 48.2فیصد کمی آئی جبکہ معاشی ترقی کی شرح بھی 3.7فیصد رہی۔ زرعی شعبہ کی ترقی 3.4کی بجائے 3.1، پیداواری شعبہ میں ترقی 3.7 کی بجائے 3.6، صنعتی یونٹ میں شرح نمو 2فیصد کی بجائے 1.8فیصد رہی۔ یعنی حکومت کا پورا مالی سال وہ اہداف پیش نہ کر سکا جس کے دعوے وفاقی بجٹ برائے مالیاتی سال 2011-12ءکو پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کئے تھے اور اس کے بعد پوری حکومتی مشینری بشمول وزیراعظم اور صدرمملکت بار بار ایسی بھڑکیں لگاتے رہے کہ حکومت معاشی ہدف پورے کر رہی ہے اور معیشت کی ترقی کا دور دورہ ہے جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ پورے مالی سال کے دوران نہ ہی تجارتی خسارہ پورا کیا جا سکا، نہ افراط زر کی شرح پر قابو پایا جا سکا، غیرملکی قرضہ جات پر سود در سود قسطیں پڑتی رہیں اور حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے نئے نوٹ چھاپتی رہی جس سے مہنگائی کی شرح میں خطرناک کن اضافہ ہوا جبکہ حکومت نے اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے سٹیٹ بینک سے 442ارب کے قرضے لئے جس سے معیشت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس وقت اتنی بدترین صورتحال ہے کہ صوبہ پنجاب جو صنعتی پیداوار کے حوالے سے ملک کا گڑھ ہے اس صوبے میں 14 سے 16گھنٹوں تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ایسی چومکھی صورتحال ہے کہ صنعتکار اپنی صنعتیں دوسرے ملک لے جانے پر مجبور ہیں۔ مزدور طبقہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر ماتم کدہ ہے اور جو سڑکوں پر ماتم نہیں کر رہے وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے بوجھ دبنے کے بعد وہ جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے پر مجبور ہیں۔ خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اپنے گردے فروخت کر رہے ہیں آنکھوں کی فروخت کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زندہ انسان شوکیس سجانے لگے ہیں مگر ہماری حکومت کو اب تک عام آدمی اور ملک کی معیشت سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ عام آدمی پر کیا بیت رہی ہے اور وہ کس طرح سسک سسک کر اپنی زندگی بسر کر رہا ہے۔ حکومت کے لبوں پر صرف ایک ہی مسکراہٹ ہے کہ وہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے پانچ سال پورے کرنے والی جمہوری حکومت ہو گی۔ جبکہ دوسری طرف حکمرانوں کو اپنے سیاسی معاملات سے فرصت نہیں۔ وزیراعظم ہر حال میں عدالت کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مگن ہیں، تمام وزراءحتیٰ کہ صدرمملکت عدالت عظمیٰ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جبکہ دوسری طرف گذشتہ روز برطانیہ میں عالمی جیوریٹس کانفرنس میں ہمارے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا مگر حکمران آزاد عدلیہ کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ صرف اور صرف اپنی شاہ خرچیوں اور اللوں تللوں میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی دو وقت کی روٹی کو نہ صرف ترس رہا ہے بلکہ اس کے لئے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہو چکا ہے اس ملک میں اس سے زیادہ ستم ظریفی اور حکمرانوں کی اپنی رعایا پر ظلم کی انتہا کیا ہو گی کہ بجلی آتی نہیں اور بجلی کے بل پہلے سے کہیں زیادہ بھیجے جا رہے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی بجلی کے نرخوں میں 2.33روپے یونٹ کا اضافہ کیا گیا تھا اور اب تازہ خبر آئی ہے کہ اپریل کے لئے بجلی 1.94روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی نیپرا نے منظوری دے دی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ وہ واحد ایشو ہے جس پر عوام مزدور اور صنعت کار بلاسیاسی تفریق کے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور ان دنوں بھی نکلے ہوئے ہیں۔ وہ ہر حال میں چاہتے ہیں کسی نہ کسی طرح بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور اس خاتمے کی صورت میں ملک کے اندر صنعت کی بحالی سے خوشحالی آئے۔ زراعت کا شعبہ ترقی کی جانب گامزن ہو، تجارتی سرگرمیاں پھلے پھولیں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو تاکہ ملک سے افراط زر پر قابو پا کر مہنگائی کو کنٹرول میں کیاجا سکے جس سے عام آدمی سکھ کا سانس لے اور اس کی زندگی کم از کم انسان کی زندگی بن جائے وگرنہ اس وقت تو آج کے انسان کے لئے حکمرانوں نے جانوروں سے بدتر زندگی بنا لی ہے۔ خیر بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پائے بغیر ہم اپنی معیشت کو سنبھالا نہیں دے سکتے اور جس طرح گورنر سٹیٹ بینک نے پشین گوئی کی ہے اس میںکوئی شک نہیں کہ آئندہ مالی سال کے دوران بھی ہمارے معاشی اہداف پورے نہیں ہوں گے اور حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت کی طرف سے اس مرتبہ 21کھرب 57ارب کا بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں 1125ارب خسارے کا بجٹ ہو گا۔ آمدن کا تخمینہ 30کھرب روپے رکھا گیا ہے صوبوں کو 1421ارب جاری کئے جائیں گے اور قرضوں کی مد میں 933ارب رکھے گئے ہیں جو بھی ہو اتنا طے ہے کہ حکومت اس بجٹ کے دوران بھی کئے گئے اپنے دعووں کو عملی شکل نہیں دے سکے گی اور شاید گورنر سٹیٹ بینک کا یہ کہنا تلخ ضرور سہی مگر درست ہے کہ حکومت کو ایک مرتبہ بھی آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینا پڑے گی۔