”ظلم اور زاری“

01 جون 2012
نواز خان میرانی
میں کل سوچ رہا تھا کہ ظلم اور زاری ، گیلانی اور کیانی، الجبرا اور جیومیٹری یار اور بیلی، یہود اور ہنود، مشرف اور زرداری، عزت اور عصمت ، غیرت اور حمیت، دوا اور دارو، ظاہر اور باطن، جن اور انس وغیرہ اکٹھے کیوں بولے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ جہاں میں پڑھتا تھا۔ استاد دامن تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں شعر سنائے، جس میں ایک شعر یہ بھی تھاکہ”کڑی منڈے نال اینج لگی پھردی اے جیویں الجبرے نال جیومیٹری اے“ یعنی آج کل کی لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ اس طرح پھرتی ہیں اور جُڑی ہوئی ہیں جیسے الجبرے کیساتھ جیومیٹری ساتھ ہوتی ہے۔ مثلاً لیلی مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں وغیرہ بات ہو رہی تھی، ظلم اور زرداری کی، معاف کیجئے، ظلم اور زاری ہمارا موضوعِ سخن ہے۔ظلم کا مطلب ہے اندھیرے، تاریکی، بے انصافی، بے رحمی، زبردستی، زور، زیادتی، ستم، اور پاپ کہتے ہیں، ہمارے ملک میں ظلم کی ابتدا مشرف نے کی تھی، لوگوں نے اسے اسوقت محض اسلئے خوش آمدید کہا تھا کیونکہ اس نے احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔ مگر وہ نعرہ مستانہ، مست، بلکہ دھت آدمی کا نعرہ ثابت ہوا، احتساب کے نام پہ اس نے نیب کی بنیاد رکھی اور پھر مجرموں اور ملزموں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہوئے مک، مکا کا قانون لاگو کر کے کروڑوں کے نادہندگان سے لاکھوں روپے بٹور کے گرفتار ملزمان کی رہائی عمل میں لانی شروع کر دی گئی۔ یہ ظلم کی ابتدا تھی جو ابھی تک جاری ہے
ظلم کا دوسرا مطلب ہوتا ہے، اندھیرے اور تاریکی عملاً مشرف نے اس میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کر کے ملک کو پتھر اور دھات کے زمانے میں پہنچا دیا۔ اس سے جو ملک کی معیشت صنعت و حرفت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے اعداد و شمار کو شمار کرنا بھی کسی اکانومسٹ کیلئے بھی ممکن نہیں ظلم کا اور مطلب ہے بے رحمی زبردستی، زور، مشرف نے اپنے محسن میاں نواز شریف کے احسان کا بدلہ اس طرح سے دیا کہ انہیں بدتمیزی، بدزبانی اور شرم سے عاری جرنیل کو بھیج کر ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگوا کر اور جہاز میں سیٹ سے بندھوا کر انتہائی چھوٹے سے کمرے میں جہاں صرف ایک چارپائی کی جگہ تھی،کمرے کی چھت انتہائی نیچی، باتھ روم میں کموڈ کی ٹینکی کا مسلسل چلا کر ذہنی اذیت د ینے کا بندوبست، اس کے ساتھ ساتھ سانپ چھوڑ دینے کا عمل بھی جاری رکھا گیا، اسے ظلم کی انتہا کہتے ہیں کہ طاقت کے زور پر بے رحمی اور زبردستی کی گئی۔
ظلم و ستم کچھ اس طرح سے ڈھایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ کی مملکت کے منصف اعلیٰ کیساتھ جبر کے ساتھ تذلیل کا بندوبست اس طرح سے کیا گیاکہ انہیں دھکے دیے گئے، بال نوچے گئے، گھر کا پانی نہ بجلی بند کر کے کربلا کی یاد تازہ ایک سید زادے نے کی اور کروڑوں عوام کو انصاف پہنچانے والے کے ساتھ جاہلانہ ناانصافی کی گئی اور ان کے بچوں کیلئے تعلیم کے دروازے بند کر کے انہیں دھمکیوں سے سراسیمہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
زرداری نے اس کی بے بہا خدمات کے اعتراف اور اس کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کرا کے ہدیہ تبریک پیش کیا اور اس طرح سے ظلم کے ساتھ زاری، زرداری کی شکل میں سامنے آ گئی زاری کا مطلب ہے گریہ زاری، رونا پیٹنا اور عجز و نیاز، بجلی بند کر کے ، جاں بلب بستر مرگ پہ پڑے مریضوں کو مار کر ، مزدوروں کے گھروں میں فاقے ڈال کر، تاجروں اور صنعت کاروں کو ملک بدر کر کے بنگلہ دیش اور افریقی ممالک میں بھیجنے پر مجبور کرنے بھارت کو ڈیم بنانے کی اجازت دیکر اور اپنے ملک کو بنجر اور قحط زدہ بنا کر لاکھوں کسانوں کو رونے پیٹنے پر مجبور کر دیا گیا۔ جہاں تک عجز و نیاز کا تعلق ہے، حکمرانوں نے عجز کو کمال تک پہنچایا اور خدا کے حضور عجز و نیاز کی بجائے فرعون وقت کے سامنے عجز و نیاز، اس طرح سے کیا کہ حالت رکوع میں چلے گئے اور سینکڑوں کی کابینہ کو اپنے سامنے اسی حالت میں آنے کے انعام میں وزارتیں اور شہادتیں دینے کے بعد ایوارڈوں سے نوازا گیا اور نہو کرنے کی صورت میں بابر اعوان، ناہید خان اور قریشی کی طرح سزا دی گئی۔ مختصر یہ کہ ظلم اور زاری ہمارے عوام پر بری طرح سے بھاری ہے۔ اور عوام اب اچھی طرح سے سمجھنے لگے ہیں کہ ظلم اور زاری مشرف اور زرداری کو کہتے ہیں۔ اگر اس کا مطلب کوئی دوسرا ہے تو وہ سب کو سمجھا دے ہمیں تواتنا پتہ ہے کہ حضور کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کیلئے وہ پسند نہ کرے، جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے“ کیا حکمران ایسے زندگی گزار سکتے ہیں۔ جیسے کروڑوں عوام گذار رہے ہیں سرائیکی کا ایک شعر ہے
جیویں عمر نبھی اے شاکر دی
ہک منٹ نبھا پتہ لگ ویسی
مطلب یہ ہے کہ جیسے میری زندگی گزری ہے، ایک منٹ کیلئے ویسے گزارو تو تمہیں پتہ چل جائیگا!!!