بلور صاحب! یہ خواب شرمندہ تعبیر ہی رہے گا

01 جون 2012
نعیم احمد
پاکستان اس لحاظ سے اےک بدنصےب ملک ہے کہ جو لوگ اس کے قےام کو ناممکن بنانے کی سرتوڑ کوششےں کرتے رہے‘ قائداعظمؒ اور دےگر مشاہےر تحرےک آزادی کو طنز و تضحےک کا نشانہ بناتے رہے‘ پاکستان قائم ہوجانے پر اشک بہاتے رہے‘ جن کے بزرگوں نے اس ارضِ پاک مےں دفن ہونا بھی گوارا نہ کےا‘ آج اُن لوگوں کے سےاسی وارث وزارتوں سے لطف اندزو ہورہے ہےں۔ وہ اپنے بزرگوں کے افعال و نظرےات پر اظہارِ ندامت کے بجائے خود بھی اُن سے دستبردار ہونے پر تےار نہےں ہےں۔ حصولِ آزادی کےلئے مسلمانوں کی طرف سے جان و مال اور عزت و آبروکی لاکھوں قربانےاں اُن کی نظر مےں ذرّہ برابر وقعت نہےں رکھتےں اور وہ پاکستان اور بھارت کو ازسرنو اےک ملک بنا دےنے کی اپنی حسرتوں کو کسی نہ کسی صورت عملی جامہ پہنانے کےلئے کوشاں دکھائی دےتے ہےں۔ وطن عزےز کی کوکھ سے جنم لےنے والا اناج کھا کر بھی وہ اسے اپنی وفاﺅں کا مرکز نہ بناسکے۔
آج جب بھارت آبی جارحےت کے ذرےعے پاکستان کی سرسبز و شاداب زرعی زمےنوں کو بے آب و گےاہ رےگستانوں مےں تبدےل کرنے کے مذموم منصوبے پر پوری تندہی سے عمل پےرا ہے‘ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی سکےم کو امرےکہ اور افغانستان کے تعاون سے آگے بڑھا رہا ہے‘ مقبوضہ کشمےر مےں حرےت پسندوں کو آگ اور خون مےں نہلا رہا ہے تو اےسے مےں وفاقی وزےر رےلوے حاجی غلام احمد بلور کی جانب سے پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان اور بنگلہ دےش کی کنفےڈرےشن بنانے کی تجوےز چہ معنی دارد؟ اےسی تجوےز کسی عام شخص کی طرف سے آئے تو اُسے مذکورہ شخص کے تارےخی حقائق سے بے بہرہ ہونے کا شاخسانہ قرار دےا جاسکتا ہے لےکن کوئی اہم حکومتی وزےر اےسی جسارت کرے تو نظر اندازنہےں کےا جاسکتا۔ محکمہ¿ رےلوے بذات خود پٹڑی سے اُتر چکا ہے اور دشمن کے ساتھ ممکنہ جنگ کی صورت مےں دفاعی ساز و سامان کی ترسےل کے لحاظ سے انتہائی اہمےت کے حامل اِس محکمہ پر عالم نزع طاری ہے۔اِس کے باوجود حاجی غلام احمد بلور کا فرمانا ہے کہ مےں پاگل نہےں ہوں جو وزارت سے استعفیٰ دے دوں بلکہ مےں تو اگلی حکومت مےں بھی وزےر رےلوے کے منصب پر ہی فائز ہوں گا۔شاےد وہ بھول رہے ہےںکہ
چراغ کون سے بجھنے ہےں کِن کو رہنا ہے
ےہ فےصلے ابھی اَوروں کے اختےار مےں ہےں
لہٰذا وزےرموصوف کو چاہےے کہ خارجہ امور پر زور آزمائی فرمانے کی بجائے اپنی محکمہ کی اصلاحِ احوال پر توجہ دےں۔اُن کا ےہ کہنا تو سوفےصد بجا ہے کہ ”امن کی آشا اُن کی سےاست کی وجہ سے کامےاب ہورہی ہے“کےونکہ اُن کی جماعت عوامی نےشنل پارٹی کے مربی بھارت کی پاکستان کے خلاف ےہ اےک تزوےری پہل کاری (Strategic Initiative) ہے۔دراصل جب 28مئی 1998ءکو پاکستان اےٹمی طاقت بن گےا تو اِس کے ازلی دشمن بھارت کےلئے اسے عسکری لحاظ سے تسخےر کرنا ناممکن ہوگےا۔ اُس نے پاکستان کو جوہری طاقت کے طور پر بادل نخواستہ قبول تو کرلےامگر اُس نے پاکستان کو مغلوب کرنے کے دےگر ہتھکنڈے اختےار کرلےے۔ دراصل وزےر موصوف جس سےاسی جماعت کے پروردہ ہےں‘ اُس کے بھارت کے متعلق خےالات کوئی ڈھکے چھپے نہےں ہےں۔اِس پارٹی کے بانی خان عبدالغفار خان کو آل انڈےا کانگرےس کی طرف سے ”سرحدی گاندھی“ کا خطاب عطا فرماےا گےا تھا۔ وہ گاندھی کے خود ساختہ عدم تشدد کے فلسفے کے علمبردار تھے۔ جب اُن کی لاکھ مخالفت کے باوجود پاکستان معرضِ وجود مےں آگےا اور صوبہ سرحد کے غےور عوام نے بھی اُن کی تمناﺅں کے برعکس پاکستان سے الحاق کے حق مےں ووٹ دےے تو پھر اُنہوں نے بھارت کی اےماءاور افغانستان کی سرگرم تائےد و حماےت پر پختونستان کا شوشہ چھوڑ دےا۔
بھارت کی دونوں بڑی جماعتوں کانگرےس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشوروں مےں ےہ بات دوٹوک الفاظ مےں تحرےر ہے کہ وہ تقسےم ہند کو غلط سمجھتی ہےں اور اِسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرےں گی۔بھارتی قےادت نے آج تک پاکستان کے قےام کو قبول نہےں کےا۔اُن کے ذہنوں مےں ابھی تک اکھنڈ بھارت کا تصورسماےا ہوا ہے۔ پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان اور بنگلہ دےش کی کنفےڈرےشن کی تجوےز درحقےقت اُسی تصور کی آبےاری کی طرف اےک قدم ہے۔
بھارت کے ساتھ کنفےڈرےشن کا حامی وہی طبقہ ہے جو پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت کالا باغ ڈےم کی مخالفت کےلئے بھارت سے سالانہ اربوں روپے وصول کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس طرح آپ کی پارٹی کے بانی کی سرتوڑ مخالفت کے باوجود پاکستان قائم کردکھاےا‘ جس طرح اُن کا آزاد پختونستان قائم کرنے کا خواب اپنی موت آپ مر گےا‘ اُسی طرح آپ کا ےہ کنفےڈرےشن کا خواب بھی انشاءاللہ بے تعبےر ہی رہے گا۔