پرسکون زندگی کا لائحہ عمل

01 جون 2012
ڈاکٹر احمد علی سراج
جسمانی حیات کا دارومدار دل پر ہے۔ زندگی کی بقا بھی دل سے وابستہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دماغ بھی دل کے تابع ہے کیونکہ دل میں خیال پلاننگ عشق اور محبت ہے مگر دماغ کی سوچ سے اس کی تفصیل محنت جنم لیتی ہے۔ دل اپنے خیال کو دماغ کے حوالے کرتا ہے اور پھر اصل خیال کا بیج دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ خیال پاک ہے تو دماغ بھی اس نظریہ خیال میں اس کی ترتیب و پروگرام کو منصوبہ بندی سے مرتب کرتا ہے اور اگر دل میں خیال برا اور خطرناک ہے تو دماغ اس پروگرام کو آخری شکل دیکر گناہ کراتا ہے۔
اس لئے اصل دل کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جس کا پہلا علاج ایمان کامل یقین صادق کے ساتھ مضبوط اور پیوست کرنا چاہئے۔ اگردل ایماندار بن گیا تو دماغ ایمان کی دولت سے بھر ا دل کی وجہ سے جسمانی اعضا کو اسلام پر چلانے میں معاونت کرتا ہے۔ رسول کریم نے ارشاد فرمایا انسان کے بدن میں ایک گوشت کا لوتھراہے وہ ا گر صحیح ہو تو سارا انسان صحیح ہے وہ اگر غلط ہے تو سارا بدن سارا انسان غلط ہے۔ فرمایا وہ تمہارا دل ہے۔
انما الاعمال بنیات۔(حدیث) ترجمہ:انسان کے تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ روح، ایمان اور نیت کا محل دل ہے۔ حیات، زندگی دل کی دھڑکن کے ساتھ وابستہ ہے اور دل کی اصلاح ا یمان کی محنت کے ساتھ ہے۔ رسول کریم نے امت کو اس دعا کا تحفہ دیا۔”اے دلوں کو پلٹنے والے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما۔ یہ رسول کریم کی عظیم مسنون دعاﺅں میں دعا ہے۔ آ پ نے ارشاد فرمایا جب کسی پر نصیحت اثر نہ کرے تو وہ جان لے اس کا دل ایمان سے خالی ہے اور جس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں اور آخرت کی فکر نہیں وہ انتہائی نقصان اٹھانے والا ہے۔ عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے اور بے وقوف کا دل اس کی زبان میں ہوتا ہے۔
دل میں نیت کا درست ہونا اور اخلاص سے دل کی نیتوں کو پاک کرنا ضروری ہے کیونکہ دل کا خیال آنکھ کو دیکھنے کی قوت دیتا ہے اگر دل چاہے کہ چلوں تو پاﺅں کو زبان سے نہیں دل کے خیال سے چلنے کی قوت ملتی ہے۔ کسی چیز کے پکڑنے میں ہاتھوں کو لفظوں کا حکم نہیں دیا جاتا بلکہ دل کا جذبہ ہاتھ میں کام شروع کرتا ہے۔ اس لئے انسانی اقلیم بدن کا بادشاہ دل ہے۔ بدن کی ساری حکومت دل سے چل رہی ہے اور جنت میں جانے والا دل صاف ستھرا ہو گا۔ غلیظ اور سیاہ دل جنت میں نہیں جائیگا اس لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاءکرام علیھم ا لسلام کے ذریعے انسانوں کے دلوں کی اصلاح کی تاکہ معاشرتی معاشی تمدنی اور تہذیبی حیات کو درست کیا جا سکے۔دنیا میں ہر انسان سکون قلب چاہتا ہے۔ بعض انسانوں کو آرام و راحت کی تمام اسائش و سائل مہیاہوتی ہیں مگر اس کو سکون قلب نہیں اور بعض مومنوں کو اگر دنیا کی آسائش اور راحت کے سامان میسر نہیں لیکن ان کے د ل میں ذکر الٰہی سے سکون ہے تو اس سکون کو خریدا یا بیچا نہیں جا سکتا۔ دل کا روحانی بائی پاس اللہ کے ذکر میں اور نعمتوں کے شکر میں ہے۔ علم تصوف میں دل کی وہ دنیا ہے جو ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آتی مگر اس کا ہماری زندگی سے ایک گہرا تعلق ہے۔ دل اور روح تصوف میں لطیف قوتیں ہیں اس کو سنوارنا اور بنانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ دل اور روح صحت مند بھی ہوتی ہیں اور کبھی کبھی گناہوں کی وجہ سے بیمار ہو جاتی ہیں۔ اس طرح ایمان اور اعمال کے ذریعے اس کا بائی پاس ہوتا ہے۔ علم دین، ذکر اللہ اور مجالس اہل اللہ سے دل کا علاج ہوتا ہے پھر اس طرح دل میں میل کچیل کو دور کرنے کیلئے مراقبہ اور محاسبہ فکر آخرت کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔
پرسکون اور پرلطف زندگی کیلئے صوفیا کرام نے اصول مرتب کئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ جس سے دنیا میں رسوائی نہیں اور آخرت میں کامیابی ہے۔ -1اپنے راز کی حفاظت اور کسی سے تعرض نہیں کرنا۔-2زبان پر ذکر کی کثرت اور لوگوں سے لایعنی اور فضول گفتگو سے گریز کرنا۔ -3فرائض کی پابندی کے ساتھ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر بجا لانا۔-4نفس و شیطان کے شر سے بچنا اور گناہوں سے دور رہنا۔-5مخلوقات پر شفقت کا برتاﺅ اور خلق کی طرف سے اذیت کو صبر سے برداشت کرنا۔-6تکبر اور اکڑ سے بچنا اور تواضع اختیار کرتے ہوئے پاکیزہ رہنا۔ان مندرجہ بالا اوصاف سے انسان کا سینہ شمع معرفت سے روشن ہو جاتا ہے۔