باہمت لیڈر (محمد نواز شریف) (دوسری قسط)

01 جون 2012
محمد عارف خان سندھیلہ
اسی معاہدے کے تحت بےنظےر بھٹو کی پےپلز پارٹی اور مےاں نواز شرےف کی مسلم لےگ نے مل کر جمہورےت کی بحالی کےلئے مشتر کہ لائحہ عمل طے کر کے سےاسی جدوجہد اور وطن واپسی کاطرےقہ استعمال کےا ۔بے نظےر بھٹو تو واپس آگئےں اور نواز شرےف جب ملک مےں آئے تو ان کے طےارے کولےنڈ کرنے کی مشکل سے اجازت ملی مگر انہےں اپنی سر زمےن پر قدم رکھنے کی اجازت نہےں ملی ۔اس دوران کئی گھنٹے انہےں طےارے مےں محبوس رکھا گےا جس کا راقم عےنی شاہد ہے۔راقم نے اس وقت بھی نوازشرےف کے چہرے پروطن سے محبت کے لازوال رنگ دےکھے اور پھر انہےں جبری طور پر اسی طےارے مےں واپس بھےج دےا گےا اور مجھ سمےت کئی مسلم لےگی کارکنوں کو گرفتار کر لےاگےا۔اس وقت کوئی قومی ادارہ اےسانہےں جو صحےح سلامت کام کر رہا ہو ۔ہر محکمہ کاانچارج قو می وسائل لوٹ کر صدرزرداری کے اکا ﺅنٹ بھر رہا ہے ۔غر ےب عوام کےلئے سستے سفر کی سہولت فراہم کرنے والی پاکستان رےلوے مکمل طور پر زبوں حالی کا شکارہو چکی ہے کئی کئی گھنٹے ہر ٹرےن کا لےٹ جائے مقام تک پہنچنا معمول بن چکا ہے ۔گاڑےوںکا منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے ہی تےل ختم ہو جانا عام با ت ہو گئی ہے۔نواز شرےف دور حکومت مےں سر پلس ہونے والی بجلی ان دنوں بھارت کو فروخت کرنے کی باتےں ہو تی تھےں آج بھارت سے بھی بجلی خر ےدنے کےلئے مذاکرات ہو رہے ہےں ۔بجلی گےس کی طوےل لوڈ شےڈ نگ کے ستائے ہوئے عوام سراپا احتجاج ہےں اور حکمرانوں کو ماسوائے قو می خزانہ لوٹنے اور اپنے اکاﺅنٹ بھرنے کے کچھ نظر نہےں آرہا ۔آئے روز عدالتی فےصلوں کا مذاق اڑاےا جا رہا ہے ۔سپرےم کورٹ کی طرف سے وزےراعظم کو تو ہےن عدالت کا مجر م ثابت ہونے کے بعد سےا سی حالا ت مےں اےک دم جس طرح تےزی آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے تھا کہ دےگر اپو زےشن جماعتوں نے حکومت اور وےر اعظم کے خلاف سخت اےکشن لےا مگر خلاف توقع جے ےو آئی (ف) پہلو بچا کر نکل گئی۔ جما عت اسلا می اور تحر ےک انصاف اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے اصول پر عمل پےرا ہے ۔صرف بےان با زی کی حد تک محدود ہےں ۔اس سارے عمل مےں اگر ملک مےں کوئی زوردارآواز گونج رہی ہے تو مےاں نواز شرےف اور مےاں شہبا ز شرےف کی ہے جو علی الاعلان حکومت اوروزےر اعظم کی اتھارٹی کو چےلنج کر رہے ہےں اور قوم کو اپنے ساتھ ملا کر گوزرداری گواور گو گےلانی گو کے نعرے کو عملی جامہ پہنا نے کےلئے سر گر م عمل ہےں ۔مےاں شہباز شرےف کے لہجے کی تلخی تو ان کی ہر تقرےر مےںنماےاں نظر آتی ہے وہ پنجا ب بھرمےں جہاں بھی جاتے ہےں صدراور وزےراعظم کو آڑے ہاتھوں لےتے ہےں ۔اب مےاں نواز شرےف بھی جو پہلے کا فی حد تک نرم خورہے اور فرےنڈلی اپوزےشن کے طعنے بھی سہتے رہے انہوں نے بھی سپرےم کورٹ کا فےصلہ آنے کے بعد جو عوامی رنگ اختےار کےا ہے اس کا مظاہرہ نہ صرف پنجا ب بلکہ سندھ مےں بھی نماےاں نظر آےا ہے جہاں نواز شرےف نے کھلے عام صدراور وزےراعظم کے خلا ف عوام کے جذبا ت کی ترجما نی کر تے ہوئے ان کی حکومت سے جان چھڑانے کی بات کی ہے نو بت ےہاں تک آچکی ہے کہ انہوں نے عوام کو اےک بار بھر لوڈ شےڈنگ ،مہنگائی ،بےروزگاری اور کرپشن کے خلا ف لانگ مارچ پرآما دہ بلکہ تےار ہو نے کا کہا ہے ۔اس سے محسو س ہو تا ہے کہ جون مےں بجٹ کے بعد سےاسی دنگل بھی شروع ہو سکتا ہے ۔نےٹو سپلائی بحالی بھی اس معاملے مےںآگ پر تےل چھڑکنے کا کام کر سکتی ہے ابھی تک تولگتا ہے کہ مسلم لےگ ن ہی تن تنہا حکومت کو للکار رہی ہے ۔دےکھنا ےہ ہے کہ مہنگائی ،لوڈ شےڈنگ اور کر پشن کے مارے عوام کب بپھرتے ہےں کےونکہ جب تک عوام خاموش بےٹھے رہےں گے ملک مےں کوئی تبدےلی نہےں آسکتی ۔ ملک مےں خوشگوار تبدےلی کےلئے عوام کو مےاں برادران کی آواز پر لبےک کہنا ہو گا اور چپ کا روزہ توڑ کر باہر نکلنا ہو گا ۔سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کی پاداش مےں عدالت عالےہ نے وزےراعظم کو 33 سےکنڈ کی سزا دے کرنئی تارےخ رقم کر ڈالی۔ (جاری ہے)