کالا باغ ڈیم وقت کی ضرورت !

01 جون 2012
عبدالمجید منہاس
اس وقت ملک میں توانائی کا بحران نکتہ عروج پر ہے اس کی وجہ صرف اور صرف ےہ ہے کہ کسی بھی حکمران نے ملک مےں کالا باغ ڈےم سمےت چھوٹے بڑے کسی ڈےم کی تعمےر مےں دلچسپی نہیں لی۔ حقائق کا جائزہ لےا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1976 سے 2010ءکے35 سالوں مےں 1075 ملےن اےکڑ فٹ پانی سمندر مےں جا کر ضائع ہو چکا ہے۔ منگلا ڈےم، تربےلا ڈےم اور چشمہ میں مٹی جمع ہونے سے 35 سالوں مےں پانی ذخےرہ کرنے کی صلاحےت مےں 32 فےصد کمی واقع ہوچ کی ہے۔ پاکستان نے35 برسوں مےں اےک بھی نیا ڈےم تعمیر نہیں کیا جبکہ بھارت نے پاکستانی درےاوں پر ہر چار کلومےٹر کے فاصلے پر ڈےم بنا کر پاکستان کو صحرا مےں تبدیل کر دینے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی غفلت کے نتےجہ مےں پاکستان مےں اب تک دو کروڑ آٹھ لاکھ ایکڑ اراضی بنجر ہو چکی ہے۔ سال 2011ءمےں زےر تعمےرکرم تنگی ڈےم، منڈا ڈیم اور نےلم جہلم آزاد کشمےر ہادل پراجیکٹ سے بجلی کی پےداواری صلاحےت کو 969 مےگا واٹ تک لے جایا جا سکا ہے۔ خےبر پی کے مےں تربےلا توسےعی منصوبے کے ساتھ چترال مےں گولن گول ڈےم بناےا جا رہا ہے۔ اسی طرح دےامےر بھاشا ڈےم گلگت بلتستان مےں بجلی کی پےداواری صلاحےت 4500 مےگا واٹ اور پانی ذخےرہ کرنے کی صلاحےت8.1 ملےن اےکڑ ہے۔ ےہ منصوبے پاکستان کی ضرورت کے حوالے سے ناکافی ہےں اور اس کا حل صرف کالا باغ ڈےم کی فوری تعمےر کی صورت مےں ہے اور ےہ حقےقت ہے کہ وطن عزےزکے عوام کی اکثرےت کالا باغ ڈےم کی تعمےر کی خواہاں ہے جبکہ بھارت نواز مخصوص لابی اس کی تعمےر مےں رکاوٹ ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ مےں سندھ طاس واٹر کونسل کے چےئرمےن نے برملا اس بات کا انکشاف کےا تھا کہ اےک سابق وفاقی وزےر نے کالا باغ ڈےم کی تعمےر رکوانے کے لئے مبےنہ طور پر دو ارب بےس کروڑ روپے لئے کےونکہ کالا باغ بن جاتا تو بھارت کارگل ڈےم تعمےر نہےں کر سکتا تھا۔ گزشتہ سال امرےکی سےنٹ کی رپورٹ جان کےری کی سربراہی مےں تےار کرکے امرےکی صدر اوباما کو پےش کی گئی تھی اس مےں بتاےا گےا ہے کہ بھارت کو دریاوں پر بند باندھنے اور ڈیم بنانے سے روکا نہ گےا تو جنوبی اےشےا جنگ کی لپےٹ مےں آ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابےن 1960 کا سندھ طاس معاہدہ غےر موثر ہو چکا ہے اس پر ازسرنو عملدرآمد کو ےقےنی نہ بناےا گےا تو خطے مےں زبردست تنازع پےدا ہو سکتا ہے۔ بھارت کو واٹر کونسل نے معاہدے کے تحت مغربی درےاووں پر ہائےڈرو الےکٹرک پراجےکٹ کی سہولت دی تھی اس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وطن عزیز میںآج ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی آبی جارحےت کا منہ توڑ جواب دےنے کے لئے محب وطن قوتوں کو متحد کرکے حکومت جلد از جلد کالا باغ ڈےم کی تعمےر کا اعلان کرے کےونکہ گزشتہ سال آنے والے سےلاب کی تباہ کارےوں نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ کالا باغ ڈےم کی تعمےر ملکی مفاد میں اشد ضروری ہے۔ کالا باغ ڈےم جےسے منصوبہ کو متنازعہ بنانا کسی المےہ سے کم نہےں، اےسے منصوبے پر قومی جذبہ بروئے کار لانا چاہےے۔ کالا باغ ڈےم کی بروقت تعمےر نہ ہونے اور بھارت کی طرف سے درےائے چناب مےں پانی کا بہاوو روکنے کی وجہ سے پانی مےں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے ۔
کچھ عرصہ قبل واپڈا کے سابق چےئرمےن شمس الملک نے برملا اس بات کا اعتراف کےا تھا کہ توانائی کے بحران کا واحد حل کالا باغ ڈےم کی تعمےر مےں مضمر ہے۔ ملک میں ہر سال چھ روپے یونٹ کی لاگت سے 92 ملےن کلو واٹ بجلی پےدا ہو رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار کا بیشتر حصہ تھرمل ذرائع سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہو جائے تو اس سے نہ صرف عام صارفین کی مشکلات دور ہوں گی بلکہ حکومتی خزانے پر ناروا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کی افادےت سے اے اےن پی، اےم کےو اےم اور دےگر مخالفےن کو ملک کی ضرورےات اور کالا باغ ڈےم منصوبے کی افادےت سے آگاہ کرکے قائل کےا جائے ۔ لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزےز کو اندھیروں مےں ڈوبنے سے بچانے کے لئے کالا باغ ڈےم کی فوری تعمےر کا فےصلہ کیا جائے اور اسے سےاست کی نذر ہونے سے بچایا جائے کےونکہ ےہ وقت کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے کو سرد خانے کی نذر کرنے سے ملک مےں بجلی کا بحران مزید شدےد تر ہوتا جائے گا لہٰذا ملکی معےشت کو سہارا دےنے کے لئے اس کی تعمےرجنگی بنیادوں پر شروع کی جائے۔