بلوچستان پر کل جماعتی کانفرنس

01 جون 2012
بلوچستان علاقے کے لحاظ سے پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کا کل رقبہ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو سارے پاکستان کے رقبے کا 46 فیصد ہے۔ بلوچستان کی آبادی تقریباً 80 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں تقریباً 5 لاکھ ہزارہ اور باقی بروہی، پشتون اور بلوچ قبائل سے ہیں۔ پاکستان کے ساحلِ سمندر کی کل لمبائی 1100کلومیٹر ہے جس میں سے 711کلومیٹر ساحل بلوچستان صوبے میں ہے۔ بلوچستان کے 88%لوگ خطِ غربت سے بھی نیچے زندگیاں بسر کر رہے ہیں جبکہ پنجاب میں یہ شرح29 ، خیبر پختون خواہ میں 51اور سندھ میں 50فیصد ہے۔ بلوچستان کے مردوں کا لٹریسی ریٹ 23 اور خواتین کا صرف 7فیصد ہے جبکہ پنجاب کا لٹریسی ریٹ 50 فیصد ہے۔
سوئی کے مقام پر گیس کا انکشاف 1954ءمیں ہوا لیکن بلوچستان میں گیس 32 سال کے بعد 1986 ءمیں پہنچی لیکن 78 فیصد بلوچی آبادی آج بھی گیس کی نعمت سے محروم ہے۔ بلوچی بھائیوں کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے2005ءمیں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی جس نے35 سفارشات بھی تیار کیں لیکن ان میں کسی پر بھی عمل نہ کیا گیا۔ پھر جناب خورشید شاہ صاحب کی قیادت میں ایک اور کمیٹی بنائی گئی جس کی کارکردگی بھی کاغذی جمع تفریق تک محدود رہی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ 65 صوبائی اسمبلی کے ممبران میں سے58 وزیر یا مشیر ہیں ہر رکن صوبائی اسمبلی کو ہر سال علاقے کی فلاح کیلئے 25 کروڑ روپیہ دیا جاتا رہاہے لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ آج بھی70 فیصد سکول بند پڑے ہیں اور50 فیصد آبادی کیلئے صاف پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔ ہر 4198 لوگوں کیلئے صرف ایک ڈاکٹر میسر ہے۔
گورنر اور وزیراعلیٰ دونوں نواب ہیں جن کو گورنس کے اے بی سی کا بھی پتہ نہیں اور نہ ہی غربت و افلاس کی چکی میں پسے ہوئے محرومیوں کا شکار بلوچیوں کی چیخ و پکار موجودہ عیاش حکمرانوں کے کانوں تک پہنچتی ہے۔ اندرونی سنگین خطرات اور بیرونی بدترین مداخلت اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہر حالت میں بہترین بلوچی قائدین اور بلوچی دھرتی کے قابلِ فخر سپوتوں کو صوبائی مفادات کے تحفظ کیلئے ایوان اقتدار میں بٹھایا جائے لیکن بدقسمتی سے مرکزی حکومت نے اپنے اقتدار کی طوالت کیلئے بلوچستان میں ایسا چیف ایگزیکٹو لگا یا ہوا ہے‘ جو کئی دفعہ تقریبات میں بھی بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پچھلے چار سال میں صوبائی اسمبلی کے131 اجلاس ہوئے جن میں اوسطً71 فیصد ارکان غیرحاضر رہے اور 76 فیصد اجلاسوں میں وزیراعلیٰ شریک نہ ہو سکے۔
پیپلزپارٹی کے ایک صوبائی وزیر نے ر اقم کو بتایا کہ پچھلے چھ ماہ میں وزیراعلیٰ صرف سات دِن کیلئے اسلام آباد سے کوئٹہ گئے۔ بلوچستان اسمبلی کے بعض اجلاس ایسے بھی تھے جن میں صرف تین سے نو ارکان حاضر تھے۔ بلوچستان اسمبلی میں ابھی تک کوئی پارلیمانی کمیٹی نہیں بن پائی۔ یہی وجہ ہے کہ حالات بد سے بدتر ہو گئے۔ صرف 2011ءمیں 1476 دہشت گردی کے حملے ہوئے، گیس کی تنصیبات کو 134دفعہ اڑایا گیا، صرف ایک سال میں 291 لوگ اغوا ہوئے اور 1000 بلوچی اور غیربلوچی قتل ہوئے۔ کیا ان تمام مخدوش حالات کی ذمہ داری مرکزی یا صوبائی حکومت پر ڈالنے کی بجائے افواجِ پاکستان یا ایف سی پر ڈالنا حقیقت پسندی ہے؟
موجودہ بدترین حالات کی ساری کی ساری وجوہات سیاسی ہیں فوجی نہیں اور ان سیاسی غلطیوں کے مضمرات کو FC،CAF یا آرمی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے ہماری سیکورٹی کے قومی ادارے بدنام ہو رہے ہیں۔ قارئین! یہ ایک سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال بلوچستان صوبے کا کوئی والی وارث نہیں۔ آپ حیران ہونگے کہ ایک اندازے کے مطابق صوبے میں 19 ٹریلین کیوبک فیٹ گیس اور 6ٹریلین بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اسکے علاوہ سونے، تانبے اور خام لوہے کے ذخائر ہیں اور 771 کلومیٹر لمبے ساحلِ سمندر کے ساتھ 200 کلومیٹر گہری سمندری پٹی میں تو بے پناہ Sea food (سمندری خوراک) تیل اور گیس کے خزانے بھی پنہاں ہیں جن کے متعلق ہمارے حاکموں نے شائد کبھی سوچا بھی نہیں۔
بلوچستان کے مسئلے کی ایک لمبی تاریخ ضرور ہے لیکن موجودہ جمہوری حکومت کے دورِ میں حالات سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑ گئے، جس کی وجہ کمزور ترین حکمرانی، بدترین کرپشن، ناقابلِ بیان مرکزی اور صوبائی سیاسی قیادت کی نااہلیاں، طاقت کا ماوارئے آئین استعمال، فرقہ پرستی، لسانیت اور حد سے زیادہ بیرونی مداخلت ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ پہاڑوں پر موجود مری، بگٹی اور دوسرے قبائل کے لوگوں کی قابل احترام وزیراعلیٰ نواب رئیسانی سے ذاتی مخاصمت ہے جس کی وجہ سے تناﺅ میں اضافہ ہوا۔ اگر وزیراعلیٰ کو ہٹا دیا جائے تو بہت حد تک معاملات سدھر سکتے ہیں۔ بلوچستان کے مسئلے اور اسکے حل کیلئے بلائی گئی سپریم کورٹ بار کی طرف سے کل جماعتی کانفرنس ایک بہت اچھا قدم تھا۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف واحد قومی قائد تھے جو نہ صرف اس کانفرنس میں شامل ہوئے بلکہ گھنٹوں بیٹھ کر بہت ساری اچھی اور کچھ بالکل لغو تقاریر بھی سنیں‘ اُنکی خواہش کےمطابق میں بھی اس کانفرنس میں اُنکے ساتھ تھا۔
عمران خان صرف چند منٹوں کیلئے تقریر کرنے آئے اور تقریر کے اختتام پر یہ کہہ کر روسٹرم سے سیدھے ہی باہر نکل گئے کہ اُنکی کچھ اور ضروری مصروفیات ہیں۔عمرا ن خان کی تقریر تو بہت مختصر اور مثبت تھی لیکن انہوں نے بدقسمتی سے بلوچستان کے معاملے پر اور اسکے حل پر کوئی گہری گفتگو نہ کی۔ میں سوچ رہا تھا کہ عمران خان کو پہلے تو کانفرنس میں بیٹھ کر ساری تقاریر بھی سننی چاہئیںتھیں۔ کانفرنس کے اختتام پر اُن کو نہ صرف میڈیا سے گھلنے ملنے کا موقع ملتا بلکہ میاں نواز شریف، قاضی حسین احمد، رضا ربانی، مشاہد حسین اور پروفیسر ابراہیم کے علاوہ بہت سارے اہم وفود سے علیک سلیک بھی ہو جاتی۔ جو قومی یکجہتی اور اُنکے اپنے سیاسی مفادات کیلئے بھی بہتر ہوتا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔
مشاہد حسین کی تقریر اچھی تھی‘ ان کا موجودہ حکمرانوں کے بارے میں ”لُٹو تے پھٹو“ والا فقرہ بڑا معنی خیز تھا لیکن بدقسمتی سے اب وہ حکمران اتحاد میں شامل ہیں، حامد میر نے بھی بڑی مدلل اور جامع تقریر کی جوبہت اچھی ریسرچ پر مبنی تھی۔ حامدنے وہاں بیٹھے ہوئے سرداروں اور نوابوں کو کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ لوگ بلوچی عوام کے نمائندہ نہیں۔ حامد میر نے رضا ربانی سے مخاطب ہو کر کہا کہ بُرا نہ مانیں حکومت بھی اپنا کام صحیح انداز میں نہیں کر رہی لیکن بدقسمتی سے عاصمہ جہانگیر اور چند اور مقررین نے فوج پر سنگین الزمات سے اپنی تقاریر کا آغاز کیا اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر برستے ہوئے اپنی تقاریر کا اختتام کیا۔ اُنکی تقاریر سے ظاہر ہوتا تھا کہ اگر کوئی پاکستان کا دشمن نمبر ون ہے تو وہ سلالہ سے گیاری تک ملک کے دفاع کی خاطر اپنا خون نچھاور کرنےوالے فوجی، سیول آرمڈ فورسز اور ہمارے ISI جیسے انٹیلی جنس کے ادارے ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ چند ہندوستان نواز خواتین وحضرات کے علاوہ پوری قوم اُنکے اس نقطہ نظر کو ماننے کےلئے بالکل تیار نہیں۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ بار کے منتظمین نے ایف سی بلوچستان کے آئی جی یا آئی ایس آئی کے متعلقہ ڈائریکٹر کو وہاں نہیں بلایا۔ کاش کہ متعلقہ چیف منسٹر ، FC بلوچستان اور آئی ایس آئی کے صوبائی ڈائریکٹر سب سے پہلے کانفرنس کے آگے زمینی حقائق پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے، اسکے بعد خود بیٹھ کرساری تقاریر سنتے اور پھر بعد میں جوابات دیتے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور یکطرفہ ٹریفک اور فوج پر گولہ باری شدت سے جاری رہی۔ میں یہ بھی توقع کر رہا تھا کہ حکومتی وفد کے سربراہ رضا ربانی جب روسٹرم پر آئینگے تو وہ یہ کہیں گے کہ افواج پاکستان اور انٹیلی جنس کے ادارے حکومت کا حصہ ہیں ان پر تنقید کا مطلب حکومت پر تنقید ہے‘ اس لئے اٹھائے گئے نکات کا جواب حکومت کی طرف سے میں دوں گا۔
قارئین! ماضی میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی غلطیوں کی پردہ پوشی بہت بڑی بددیانتی ہو گی۔ یہ غلطیاں شاید بدقسمتی سے آج بھی ہو رہی ہونگی لیکن سوچنا یہ چاہےے تھا کہ بلوچستان کے36 اضلاع میں سے خضدار، قلات، پنجگور، تربت، آواران اور گوادر میں دہشت گردی، اغوا اور قتل و غارت حد سے زیادہ ہے۔ ان علاقوںمیں قانون نافذ کرنےوالے اداروں پر بھی زبردست حملے ہورہے ہیں۔ ایسی صورت میں بھی قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو ماوارئے آئین کوئی قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں۔ اگر وہ ایسا کر رہے ہیں تو اُسکی سخت ترین گرفت ہونی چاہےے اور اب تو خوش قسمتی سے ملک اور صوبے میں عوامی جمہوری حکومت ہے ، جس کوانسانی حقوق کا تحفظ اور اپنے اداروں کو کنٹرول میں رکھنا ہے اگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو اُس کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ عمران خان نے بھی یہی بات کہی اور میاں محمد نوازشریف نے بھی اپنی اختتامی تقریر میں اُن فوجی آمروںکا ذکر کیا، جنہوں نے نہ صرف اُنکے اقتدار پر شب خون مارا بلکہ منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں پہنائیں لیکن میاں صاحب نے نہایت خوبصورتی سے یہ نکتہ واضح کیا کہ اس ظلم کے باوجود اُنہوں نے سیاسی طورپر مقابلہ کیا اور وہ اور اُنکی جماعت کے لوگ ہتھیار اٹھا کر شدت پسند نہیں بنے چونکہ یہ ملک کسی ایک آمر کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ ادارے خراب نہیں، ان اداروں کی پاکیزگی کو ماضی میں چند افراد نے مجروح کیا، جن کو موجودہ حکومت نے گارڈ آف آنر دیا۔ اُنہوں نے سپریم کورٹ بار کے صدر جناب یاسین آزاد کا شکریہ ادا کیا، اکبر بگٹی کے قاتلوں کو پکڑنے کی بات کی اور گم شدہ افراد کی بازیابی کیلئے اپنے تعاون کا یقین دلایا لیکن قارئین کانفرنس کے مقاصد کا حصول اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک مرکزی اور صوبائی قیادت میں مثبت تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں۔
باتیں کرنےوالے بہت ہیں، مخلصی سے مسائل کا حل تلاش کرنےوالا کوئی نہیں۔ علامہ اقبالؒ کے اس شعر پر کالم ختم کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں