دوستی

01 جون 2012
امام غزالی ارشاد فرماتے ہےں: انسان تےن طرح کے ہوتے ہےں۔ بعض غذا کی طرح جن کے بغےر چارہ نہےں، بعض دوا کی طرح ہوتے ہےں۔ جن کی ضرورت خاص اوقات مےں پڑتی ہے۔ بعض بےماری کی طرح ہوتے ہےں، جن کی ضرورت کبھی محسوس نہےں ہوتی۔ شعورو آگہی کے ساتھ روشناسِ خلق رہنے مےں بھی بڑی افادےت ہے۔ مختلف اشخاص مےں جو برائےاں نظر آئےں انسان ان سے بچے۔ نےک وہی ہے جو دوسروں سے نصےحت پکڑے۔ کیونکہ مومن مومن کا آئےنہ ہوتا ہے۔ حضرت عےسیٰ علےہ السلام سے استفسار کےا گےا ہے کہ آپ نے ادب کس سے سےکھا، آپ نے فرماےا، مجھے کسی نے ادب نہےں سکھاےا، صرف جاہل کی جہالت دےکھ کر مےں نے اسے ترک کردےا۔ حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم کافرمان ہے کہ اگر آدمی اس بات کو ترک کر دے جو دوسروں سے اسے بری محسوس ہوتی ہے تو اسے کسی ادب سکھانے والے کی ضرورت نہےں رہتی اور اسکے اخلاق خودبخود سنور جاتے ہےں۔ حقوق صحبت اور دوستی کے بارے مےں اےک اور اہم بات ےہ ہے کہ جب تم کسی معاملے مےں کسی کو شرےکِ کار بناﺅ تو صحبت کے حقوق کو ملحوظ ِخاطر رکھو۔ جنابِ سرورکا ئنات صلی اللہ علےہ وسلم فرماتے ہےں: بھائی ہاتھوں کی طرح ہوتے ہےں جو اےک دوسرے کو دھوتے ہےں۔ اےک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علےہ وسلم نے جنگل مےں دومسواک لےے جن مےں اےک ٹےرھا اور دوسرا سےدھا تھا۔ آپ کے ساتھ اس وقت اےک صحابی تھے۔ آپ نے سےدھا مسواک اُس صحابی کو عناےت فرماےا اور ٹےرھا اپنے لےے رکھ لےا۔ انھوں نے خدمت اقدس مےں گزارش کی، ےارسول اللہ سےدھا مسواک آپ کا ہی حق تھا۔ آپ نے فرماےا جو اےک لمحہ کا بھی ساتھی بنے تو اس سے پوچھا جائےگاکہ اس اےک لمحہ مےں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ صحبت کے حقوق اداکےے ہےں ےا نہےں۔ آپ نے ارشاد فرماےا کہ دو ساتھی کبھی اےک دوسرے کے دوست نہےں کہلا سکتے۔ جب تک انکی صحبت اللہ تعالیٰ کیلئے نہ ہو ےا وہ باہم نرمی سے پےش نہ آئےں۔ آج ہمارے معاشرے مےں جنسِ سے اےثارو محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔ خودغرضی کا چلن عام ہو رہا ہے۔ بالعموم دےکھا جاتاہے کہ کاروبار مےں باہمی اشتراک وتعاون زےادہ عرصہ تک چلتا نہےں اور اسکی وجہ بھی عام طور پر ےہی ہوتی ہے کہ کہ اےک شراکت دار دوسرے کو دھوکہ دےتا ہے اور جب بھی اسے موقع ملتا ہے اےثار سے کام لےنے کے بجائے خود غرضی سے کام لےتا ہے۔ اےسے مےں نبی کرےم صلی اللہ علےہ وسلم کے ارشادات ہمارے رہنما ہےں۔ پہلے تو ےہ کہ رفاقت کا انتخاب کر تے ہوئے احتےاط ودانش سے کام لےنا چاہےے اور پھر اعتماد واےثار کو اپنا شعار بنانا چاہےے۔
کوئی ساتھ ہو تو مزارہے کہ اکےلے لطفِ سفر نہےں
کسی ہم قدم کی ہے جستجو کسی ہم سفر کی تلاش