A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

مشترکہ مفادات کی کونسل کا کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں بیان اور قومی مفادات کے تقاضے

01 جون 2012
حکومت کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے اور کس اتفاق رائے کی ضرورت ہے؟
مشترکہ مفادات کی کونسل نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب داخل کرایا ہے کہ کونسل کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر کسی قسم کا اعتراض نہیں اور اس حوالے سے کونسل کی جانب سے وفاقی حکومت کو سفارشات بھی بھجوائی جا چکی ہیں اور جیسے ہی حکومت اس ڈیم کی تعمیر کا حکم دیگی تو اس سلسلہ میں کام شروع کردیا جائیگا۔ یہ جواب کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے تحریک انقلاب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ درخواست میں گزشتہ روز داخل کرایا گیا۔ درخواست میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں توانائی کا شدید بحران ہے‘ جس کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جبکہ ملک میں ڈیمز کی تعمیر نہ ہونے سے ہر سال اربوں کیوسک پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ درخواست میں عدالت عالیہ سے کالاباغ کی جلد تعمیر کے احکام صادر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ملک میں آبی وسائل ہونے کے باوجود ڈیمز تعمیر نہ کرنے کی سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں ہی آج ملک توانائی کے بدترین بحران کا شکار ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے سابق اور موجودہ دور حکومت میں توانائی کے متبادل ذرائع تھرمل پاور پلانٹس اور رینٹل پاور پلانٹس پر تکیہ کرکے قومی خزانے پر بھی کھربوں روپے کا بوجھ ڈالا گیا۔ عوام پر بھی مہنگی بجلی کا بوجھ پڑا اور توانائی کی ضرورت بھی پوری نہ ہو سکی۔ اسکے برعکس اگر شروع دن سے ہی ہائیڈل بجلی پر انحصار کیا جاتا اور اس کیلئے سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں ڈیمز کی تعمیر کا آغاز کر دیا جاتا تو آج نہ صرف ہمیں توانائی کے سنگین بحران سے دوچارنہ ہونا پڑتا بلکہ ہم بجلی کی پیداوار میں خودکفیل بھی ہوتے اور اضافی بجلی برآمد کرکے زرمبادلہ میں بھی اضافہ کر رہے ہوتے۔
50ءکی دہائی میں جب بھارت کے ساتھ پانی کا تنازعہ شروع ہوا تو اسے طے کرانے کیلئے دونوں ممالک عالمی بنک کے پاس گئے جس کی نگرانی میں 1960ءمیں دونوں ممالک کے مابین سندھ طاس معاہدہ طے کیا گیا۔ اس میں تین دریاﺅں سندھ‘ چناب‘ جہلم پر پاکستان کو پہلے ہی ڈیمز تعمیر کرنے کی جو سہولت ملی‘ ہماری بیوروکریسی کی عاقبت نااندیشی اور حکمرانوں کی مصلحتوں کے باعث اس سے بھی فائدہ نہ اٹھایا جا سکا اور منگلا اور تربیلا ڈیم کے بعد یہاں سرے سے کوئی ڈیم تعمیر ہی نہیں ہو پایا۔ دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی منصوبہ بندی بھی اگرچہ جنرل ایوب کے دور حکومت میں ہوئی تھی تاہم اس پر پیپر ورک ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں شروع ہوا۔ یہ مجوزہ ڈیم مجموعی طور پر ساڑھے چار سے پانچ ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی استعداد رکھتا تھا اور اگر اسکی تعمیر بروقت ہو جاتی تو ہم اسکی تعمیر مکمل ہونے کے ساتھ ہی بجلی کی پیداوار میں خودکفالت حاصل کر لیتے جس کے بعد مزید ضرورت پڑنے پر سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں مزید ڈیم تعمیر کئے جا سکتے تھے مگر بھٹو کے دور حکومت میں ہی اے این پی نے کالاباغ ڈیم پر اپنی سیاست چمکانا شروع کر دی اور بے سروپا الزام لگا کر آغاز ہی میں اس ڈیم کی تعمیر رکوا دی جبکہ اس ڈیم کی تعمیر کی صورت میں نوشہرہ کے ڈوبنے کے الزامات آبی ماہرین نے اسی وقت مسترد کر دیئے تھے مگر اسکے باوجود اے این پی کی جانب سے اس ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اسے بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں جس کے بعد مخصوص مفادات کے حامل بعض قوم پرستوں کو بھی اس ڈیم کی مخالفت کا موقع مل گیا ۔ رہا بھارت تو اسکی تو شروع دن سے ہی پاکستان کو بھوکا پیاسا مارنے کی نیت ہے اور اسکے تحت ہی اس نے شہ رگِ پاکستان کشمیر پر اپنا تسلط جمایا تاکہ اسکے راستے پاکستان آنیوالے دریاﺅں کا پانی روک کر پاکستان کو بے دست و پا اور اسکی زرخیز دھرتی کو بنجر اور بانجھ بنایا جا سکے۔ وہ اپنی اس حکمت عملی اور سازش میں پوری طرح کامیاب رہا اور سندھ طاس معاہدے سے فائدہ اٹھا کر اس نے ہماری جانب آنیوالے دریاﺅں پر اب تک چھوٹے بڑے 170 ڈیمز تعمیر کرلئے ہیں‘ نتیجتاً ہمیں گزشتہ کئی سالوں سے خشک سالی کا سامنا ہے۔ دریائے راوی تو صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ ستلج‘ بیاس‘ سندھ اور جہلم کے دریاﺅں میں بھی بھارتی ڈیمز تعمیر ہونے سے ہماری جانب پانی کی سطح انتہائی کم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ہماری بیوروکریسی کے ہتھے چڑھے منگلا اور تربیلا ڈیم بھی تہہ میں سلٹ جمع ہونے سے اپنی افادیت کھو رہے ہیں جس کے باعث ہائیڈل بجلی کی پیداوار بتدریج کم ہو رہی ہے اور ہم توانائی کے سنگین بحران کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے توانائی کی پیداوار کیلئے ملک کی دھرتی پر موجود دیگر قدرتی وسائل سے بھی استفادہ نہیں کیا ۔تھرکول ہو یا پاکستان میں Copper کے ذخائر‘ کوئی ایسا پراجیکٹ نہیں جس کی کامیابی کا کریڈٹ حکومت لے سکتی ہو۔ توانائی کی وافر پیداوار کے حامل تمام منصوبوں کی فائلیں کسی نہ کسی کی میز پر رکی پڑی ہیں اور مطلوبہ فنڈز جاری کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ قوم پر مسلط کی جانیوالی مہنگی تھرمل بجلی اور رینٹل پاور پلانٹس سے کمشن اور کک بیکس کی بنیاد پر حکمرانوں کی اپنی تجوریاں بھرتی ہیں۔ سپریم کورٹ بھی رینٹل پاور پلانٹس کیس میں اس حکومتی روش کا سخت نوٹس لے چکی ہے مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے اور کرپشن کے کسی بھی الزام میں انکی جبینوں پر شرمندگی کے قطرے نمودار نہیں ہوتے۔ اب قومی ایٹمی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان قوم کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر حکومت انہیں موقع دے تووہ 90 دن کے اندر اندر ملک کو 8 سو سال تک کیلئے چین اور ایران سے بھی سستی بجلی پیدا کرکے دے سکتے ہیں۔یہ جادو کا چراغ کیا ہے‘ یہ بھی ڈاکٹر صاحب واضح کریں اور حکومت سے بھی گزارش ہے کہ اگر کسی کے پاس مسئلے کا حل ہے تو انکی بات غور سے سنی جائے۔ تاہم حکمرانوں نے عقل و خرد کی کسی بات پر دھیان نہ دینے کا تہیہ کر رکھا ہے جبکہ حکومتی اتحادی اے این پی کی خواہش اور اسکے دباﺅ پر کالاباغ ڈیم کی فائل بقول اے این پی کے قائدین دریا برد کردی گئی ہے۔ حالانکہ کالاباغ ڈیم وہ واحد منصوبہ ہے جس کی دیگر مجوزہ ڈیمز سے تعمیر بھی سب سے پہلے مکمل ہو سکتی ہے اور اس میں بجلی بھی زیادہ پیدا کرنے کی استعداد ہے۔ چونکہ اسکی تعمیر کے ابتدائی مراحل پر پہلے ہی اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں اس لئے اسکی تعمیر کے اخراجات بھی دیگر ڈیمز کی نسبت کم ہونگے‘ پھر کیوں سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کراس ڈیم کی تعمیر کا آغاز نہیں کردیا جاتا؟
اگر وزیراعظم گیلانی اس ڈیم کی تعمیر کیلئے چاروں صوبوں کے اتفاق رائے کو جواز بناتے ہیں تو یہ اتفاق مشترکہ مفادات کی کونسل کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے جو چاروں صوبوں کے مفادات کے تحفظ کی ضامن ہے اور کسی صوبے کے دوسرے صوبے کے ساتھ پیدا ہونیوالے تنازعہ کو طے کرانا بھی اسکے دائرہ اختیار میں ہے۔ اگر اس ادارے کو کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں تو کالاباغ ڈیم کیلئے اس سے بڑا قومی اتفاق رائے اور کیا ہو سکتا ہے جبکہ 1991ءکا وہ ”واٹر ایکارڈ“ بھی حکومت کی فائلوں میں موجود ہے جس کے تحت چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر متفق ہو کر اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اسکے باوجود حکومت کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں پس و پیش کرتی ہے تو سیاسی مصلحتوں کے سوا اسکی اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی مگر سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر آخر کب تک ملک کی تباہی و بربادی کی راہ ہموار کی جاتی رہے گی؟ اگر حکومت آج کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرتی ہے تو اسے آئندہ انتخابات میں سب سے بڑا سیاسی فائدہ بھی ہو سکتا ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے روبرو آئندہ تاریخ سماعت پر وفاقی حکومت کی جانب سے بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی یقین دہانی کرادی جائے۔ بصورت دیگر عدالت عالیہ خود اس ڈیم کی تعمیر کے احکام صادر کر دے تاکہ توانائی کے سنگین بحران کی زد میں آئے عوام کیلئے امید کی کوئی کرن پیدا ہو سکے۔ اس سے بڑی قومی خدمت اور کوئی نہیں ہو گی۔
ڈرونز کیخلاف منٹر کا موقف اور حکومتی ذمہ داری
معروف اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے ڈرون حملوں کی پالیسی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس بات کا احساس نہیں تھا کہ میرا بنیادی کام لوگوں کو مارنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق صدر اوباما نے بذات خود ہر سٹرائیک کی اپروول دیتے ہیں۔ ڈرون حملے ایک خاموش قاتل کی طرح انسانیت کا قتل عام کر رہے ہیں۔ اس کا محرک امریکہ ہے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ یمن میں بھی اس ظلم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہزاروں بے گناہ افراد ڈرون حملوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ امریکی سفیر کیمرون منٹر کو اگر اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں تو اقوام متحدہ میں جا کر اس کےخلاف آواز بلند کریں۔ اقوام متحدہ کو اس کا ازخود نوٹس بھی لینا چاہئے۔ پاکستان کو بھی امریکہ کی اس دہشت گردی پر اقوام متحدہ جانا چاہئے۔ ڈرون حملوں میں اب تک تین ہزار کے قریب افراد مارے جا چکے ہیں جن میں مبینہ دہشت گردوں کا کسی کو اندازہ نہیں۔ برطانیہ کے چینل فور کےمطابق اب تک ڈرون حملوں میں 2011ءتک 168 بچے بھی شہید ہوئے اور انسانی حقوق کے چیمپئن اور مضحکہ خیز نوبل پیس پرائز ونر امریکی صدر اوباما کے دور میں تو ریپبلکن صدر بش کے دونوں ادوار سے زائد ڈرون حملے کئے جا چکے ہیں۔کیمرون منٹر کے اعتراف کے بعد تو امریکی قوم کو اوباما کے اس ظلم کےخلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ امریکی قوم انسان توانسان پالتو جانوروں تک کے حقوق کے دفاع کو ضروری سمجھتی ہے۔ پاکستانی حکمران تو برائے نام سا احتجاج کرکے خاموش ہو جاتے ہیں۔اوپر سے احتجاج اور اندر سے اتفاق‘ یہی ہمارے حکمرانوں کا ٹریڈ مارک ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سلامتی کونسل میں احتجاج کیا جاتا لیکن سابق آمر پرویز مشرف نے امریکہ کو کھلی چھٹی دےکر ملکی سلامتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔ اب جمہوری حکومت بھی سابق آمر کی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈرونز کے ردعمل میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں نے امن و امان کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ امریکی سفیر کیمرون منٹر کے بیان کو بنیاد بنا کر سلامتی کونسل میں جائے اور ڈرون حملوں کےخلاف بھرپور موقف اپنا کر انہیں ہر حال میں بند کروایا جائے۔ اب صرف امریکہ ہی کے مفادات دنیا عزیز نہیں رکھ سکتی۔
نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کا قیام
صدر آصف علی زرداری نے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق بل 2012ءپر دستخط کر دیئے جس کے تحت عدالتی کارروائی میں مداخلت‘ فوج‘ خفیہ ایجنسیوں سے تفتیش ہو سکے گی۔ یہ خوش آئند اقدام ہے۔ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق قائم کر دیا گیا ہے تو اسکے تقاضے بھی حکومت پورا کرنے کی پابند ہونی چاہیے۔ اسکے ذریعے بلاجھجک ہر اس ادارے سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے جو انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب پایا جائے۔ یہ بات خود صدر محترم بھی جانتے ہیں کہ اس کمیشن کی تشکیل اور اختیارات کے حوالے سے بعض لوگ اپنے اپنے تحفظات رکھتے ہیں اس لئے یہ کام بڑی دیانت و امانت سے انجام دیئے جانے کا متقاضی ہے تاکہ کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کو وجود میں لانے کا عمل ضروری ہے۔ صدر نے اسکے پیرامیٹر بھی وضع کر دیئے جائیں اور بتا دیا ہے کہ کسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایت پر سول عدالت جیسے اختیارات کے ساتھ یہ کمیشن نوٹس لے گا اور ازالہ کریگا۔ جو کچھ بھی کمیشن کے دائرہ کار‘ انداز عمل اور اختیارات کی بابت کہا گیا ہے اگر ان پر عملدرآمد کو یقینی بھی بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسانی حقوق کے ناطے وطن عزیز کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو۔ اچھا ہو گا‘ اگر پہلی انکوائری‘ کمیشن بلوچستان میں کرے۔
پاکستان کی 6 یونیورسٹیاں ایشیا کی درجہ بندی میں شامل
یونیورسٹیوں کی عالمی درجہ بندی کرنے والی برطانوی کیو کاریلی سائمنڈز (کیو ایس) نے ایشیا کی بہترین 300 یونیورسٹیوں کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کی 6 یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔ گو بہترین 300 یونیورسٹیوں میں سے پاکستان سے تعلق رکھنے والی نسٹ یونیورسٹی کا 106ویں نمبر ہے باقی اس سے پیچھے ہیں تاہم تعلیمی میدان میں پاکستان کی یونیوسٹیوں کی طرف سے یہ اچھی اور مثبت پیشرفت ہے۔ کیو ایس نے جن 6 یونیورسٹیوں کو تین سو کی درجہ بندی میں شامل کیا ہے ان میں سے زیادہ تر پرائیویٹ ہیں، یہ سرکاری یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کےلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ تمام تر وسائل اور سہولتوں کے باوجود وہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے اس قدر پیچھے کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ تعلیمی اداروں میں سیاست کا عمل دخل تو نہیں ہے؟ تعلیمی اداروں میںمثبت غیر نصابی سرگرمیاں ضرور ہونی چاہئے لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر مار دھاڑ ہوتی اور معاملات قتل تک پہنچ جاتے ہیں۔ طلبہ کی پوری توجہ تعلیم پر ہونی چاہئے، تعلیم کے بغیر کوئی ملک اور معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، اس کا احساس والدین، اساتذہ، تعلیمی شعبوں کی انتظامیہ اور حکومت کو بھی ہونا چاہئے۔ آج ہی گرمیوں کی تقریباً تین ماہ کی چھٹیوں کا اعلان ہوا ہے۔ بچوں کو چھٹیوں اور تفریح کا خوگر نہ بنائیے تعلیم اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ جو یونیورسٹیاں ایشیا کی تین سو یونیورسٹیوں میں اپنا مقام نہیں بنا سکیں انکی انتظامیہ خود اندازہ کر لے کہ انکی کارکردگی پر کیا تبصرہ ہو سکتا ہے۔ گورنر صاحبان اپنے اپنے صوبے میں بطور چانسلر یونیورسٹیوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے اپنا کردار ادا کریں تو شاید اگلی مرتبہ درجہ بندی میں مزید یونیورسٹیاں بھی شامل ہو جائیں۔
5