مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

01 جون 2012
مکرمی! میں گورنمنٹ ہائی سکول دیر میں استاد ہوں‘ میں اس سکول میں بطور سائنس ایجوکیٹر H.S.S.E ہمراہ نوے ساتھیوں کے جو کہ اسی ضلع کے دوسرے سکولوں میں پڑھا رہے ہیں‘ ضلعی گورنمنٹ کے نظام کے تحت کام کر رہے ہیں‘ ہم لوگ 2007 ءسے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔ میری تعلیم بی ایس‘ بی ایڈ ہے میری تنخواہ 4500/- ہے‘ جبکہ ہمارے سکول کے V.iv\\\'s آٹھ ہزار سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں۔ ہمارا کیس 2009ءسے راولپنڈی ہائی کورٹ میں ہے ‘ مشکل یہ ہے کہ نہ تو پنجاب گورنمنٹ ہمیں ریگولر کر رہی ہے‘ اور نہ عدالت ہمارے کیس کا فیصلہ سنا رہی ہے ۔ دوسال ہونے کو ہیں کہ ہمارا کیس عدالت میں ہے۔ چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ وہ ہمارے مسئلے کا نوٹس لیں۔(عامر اقبال گورنمنٹ ہائی سکول دیرتحصیل حضرو ضلع اٹک)
فاتح انصاف وزیراعظم اور جمہوریت کی فتح
مکرمی! عدلیہ نے جب وزیراعظم کو سوئس حکام کو خط لکھنے کو کہا تو فرمانے لگے پی ایم ہوں Peon نہیں۔ یوسف رضا صاحب خود کو وزیراعظم سمجھتے ہیں لیکن اپنے عمل سے انہوں نے خود کو ایوان صدر کا پیئن ہی ثابت کیا ہے۔ یوسف رضا صاحب اپنی چار سالہ کارکردگی سے اچھے PM پرائم منسٹر ثابت نہ ہو سکے تو عدلیہ نے ان کو PM کی مناسبت سے POSTMAN-PM کا کردار ادا کرنے کو کہا تو موصوف غصہ کر گئے۔ یوسف رضا کو سوچنا چاہئے کہ عہدہ پی ایم کا ہو یا PEON کا مسئلہ کرپشن کا ہے جو اس ملک میں PM سے PEON تک پھیل چکی ہے۔ جب عدلیہ نے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کی تو موصوف کہنے لگے کوئلے کے کاروبار میں ہاتھ تو کالے ہو نگے لیکن ہاتھوں کی کالک دھونے کے بجائے چہرے پر پھیرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ بات ہاتھ کالے کرنے تک محدود نہیں اب تو سیاہ دلوں کے ساتھ امریکی غلامی میں ڈالروں کے عوض بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگے جا رہے ہیں۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی....
اب جبکہ وزیراعظم صاحب عدلیہ سے سزا یافتہ ہو چکے ہیں۔ فاتح انصاف وزیراعظم صاحب خائن لوگوں کے ہاتھوں آئین کی تباہی کو جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے سیاستدان اس ملک میں آئین کے مطابق قرآن و سنت کی بالادستی قائم کریں پھر پارلیمنٹ کا ہر فرد عظیم ہستی ہو گا۔ عوام سمجھ لیں کہ جو سیاستدان پاکستان میں نظام اسلام کو پس پشت ڈال کر پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بالا دستی کی بات کرے وہ بددیانت جھوٹا اور مکار ہے۔ (واجد ظہور، لاہور)
جب مسلمان زندگی کے اس پہلو پر توجہ دیں گے
مکرمی! جب دینی مدرسوں میں سائنس کی تعلیم ہو گی.... معاشی، معاشرتی علوم اور ٹیکنالوجی کی تدریس ہو گی۔ دینی عاملین کے ساتھ سائنس کے معلمین ہوںگے.... رب کے کلام کی طاقت ساتھ ہو گی۔
انہی مدرسوں سے مستقبل کے سائنسدان اور ماہرین اٹھیں گے۔ دنیا کو بدل دیں گے، نیکی کی حکومت ہو گی.... انسانیت کی بہتر ی ہو گی.... بھلائی ہو گی۔ ((رانا احتشام ربانی)