یاد رفتگان تجھے روئے گا زمانہ برسوں

01 جون 2012
موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے فرار ممکن نہیں \\\" ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اس دارِ فانی میں سوائے اُس عظیم ذات کے ہر چیز کو فنا ہے ایک نہ ایک دن ہر شخصنے اس دارِ فانی کو چھوڑ کر کوچ کرنا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کا نظام ایسے ہی تاقیامت چلتا رہے گا۔ دنیا کے اس بے کنار ہجوم میں کچھ ایسے گوہر نایاب بھی ہوتے ہیں جب وہ موت کی چادر اوڑھ کر سوجاتے ہیں تو وہ امر ہو جاتے ہیں ایسے گوہر نایاب صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور زندہ جاوید رہتے ہیں ایسی ہی ایک ہمہ گیر شخصیت کا نام ڈاکٹرحافظ عبدالرشید اظہر ہے جو کہ 18مارچ کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی موت سے عالم اسلام کا ایک اور ستارہ بجھ گیا اگر انسان کی موت طبعی ہو تو وہ ایک قدرتی عمل ہے لیکن انہیں جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کو بھولنا ممکن نہیں ان کے اس بے رحم قاتلانہ واردات کے پیچھے اصل میں کسی کا ہاتھ ہے تاحال کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آ سکے ابھی تک جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کے مطابق کسی بڑے گروپ یا ایجنسی کا ہاتھ ہے ۔ نہ جانے وہ ظالم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ قتل کا تو بدلہ جہنم ہے جس نے بغیر کسی قصور کے ایک انسان کو قتل کیا گویا کہ اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا یہ گناہ تو خدا بھی معاف نہیں کرے گاکیونکہ یہ حقوق العباد ہے حکومتِ وقت کو چاہیے کہ ایسے اندھے قتل کا سُراغ لگا کر ان کے اصل قاتلوں کو کیفرِکردار تک پہنچائے یہ ایک علیحدہ بات ہے جو حکومت اپنی ہی فیملی کے قاتلوں کو گرفتارنہ کر سکی، وہ عوام کی کیا محافظ ہو گی۔ ایک عظیم مذہبی سکالر ہونے کے ناطے ان کی اسلام کے لیے کی گئی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کرنے کے بعد وہ مدینہ یونیورسٹی چلے گئے۔ اسلام آباد سعودی سفارت خانے میں ایک نامور ریسرچ سکالر کے طور پر کام کرتے رہے۔ طویل مشاہدے اور عمیق مشاہدے کے بنا پر ان کو ہر نیشنل اور انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا ایک ہمہ گیر شخصیت ہونے کے ناطے انہوں نے اسلام کے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھیں وہ اپنی تحریر میں منفرد ہے۔ خطابت میں یگانہ ان کے ذکر و عظ میں ایک رنگ ہوتا تھا۔ لہجہ ایسا کہ الفاظ اس کی تاثیر بیان کرنے سے قاصر،وہ بلا کے ذہین غریب پرور اور خوش اخلاق تھے وہ بغیر کسی لالچ کے غریبوں اور بیواﺅں کی بے دریغ مدد کرتے رہے ان کا یہ عظیم کارنامہ بھی اپنی ضرورت مندوں کے توسط سے پتہ چلا ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
(ڈاکٹر مطیبہ اویس احمد سعیدی)

”فیک نیوز“ کا زمانہ

ہم نے صحافت میں اپنے سینئرز اور بڑوں سے یہی سیکھا تھا کہ کسی اخبار میں خبر ...