اب ملک‘ سسٹم اور عوام پر رحم کھایئے

لاہور ہائیکورٹ کے وسیع تر بنچ نے اکثریت رائے سے صادر ہونے والے فیصلہ کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کی 16 اپریل کی کارروائی اور 30 اپریل کو وزیراعلیٰ کے منصب پر حمزہ شہباز کے حلف کو ختم کرکے ’’رن آف الیکشن‘‘ کے طریق کار کے تحت آج یکم جولائی کو وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دیا جس میں منحرف ارکان کی حیثیت سے ’’دی سیٹ‘‘ ہونے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان پنجاب اسمبلی کے ووٹ شمار نہیں ہونگے تو عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کی بنیاد پر چائے کے کپ میں بہت زوردار طوفان دوبارہ اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگرچہ صوبائی اقتدار کی راہداریوں میں عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کی بنیاد پر بادی النظر میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا‘ تاہم ملک میں پچھلے چار مہینے سے جاری سیاسی خلفشار کو دوبارہ سر اٹھانے کا ضرور موقع ملا ہے جس کی بنیاد پر حکومتی اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کی قیادتیں ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورننگ کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی تگ و دو میں دن بھر مصروف رہیں۔ اس ایکسرسائز میں اگر بھد اُڑی ہے اور ابھی تک اُڑ رہی ہے تو وہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور عدالتی فیصلوں کی عملداری کی ہے۔
اصولی طورپر تو سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک نمٹانے کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد 11 اپریل سے امور حکومت و مملکت کے حوالے سے تمام صفیں درست ہو جانی چاہئیں تھیں اور ملک میں آئین و قانون و انصاف کی عملداری کا غلبہ اب تک نظر آنا چاہئے تھا مگر پنجاب کے معاملہ نے نہ صرف معاملات کو سلجھنے نہ دیا بلکہ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری سے انحراف کے شاہکار اقدامات اٹھائے جاتے نظر آنے لگے چنانچہ اعلیٰ عدلیہ میں بھی رونقیں لگیں اور نئی نئی آئینی اور قانونی موشگافیاںبیک وقت فضا مکدر اور روشن بناتی رہیں مگر گتھیاں سلجھانے والا سرا کسی ہاتھ کی جانب سے مضبوطی سے نہ تھامے جانے کے باعث صوبائی اقتدار کی راہداریوں میں آنکھ مچولی کا کھیل جاری رہا۔
پنجاب کی سیاست میں مچائے جانے والے اس اودھم میں بنیادی اور بڑا کردار سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کا رہا ہے جنہوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے مراحل میں اپوزیشن کی صفوں میں جاتے جاتے اچانک پلٹا کھایا اور عمران خان سے ملاقات کرکے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ انہیں پنجاب کے جس منصب کیلئے پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے حمایت کا یقین دلایا گیا‘ اسی منصب پر نامزدگی کیلئے ان کا اس وقت کی اپوزیشن قیادتوں کے ساتھ بھی اتفاق ہو چکا تھا اور وہ اس اتفاق کے ساتھ خود کو وابستہ کئے رکھتے تو گزشتہ چار ماہ سے پنجاب اسمبلی اورانتظامیہ میںجودھماچوکڑی ہو رہی ہے‘ اس کی کبھی نوبت ہی نہ آتی اور چودھری پرویزالٰہی وزارت اعلیٰ پنجاب کے جھولے بھی جھول رہے ہوتے‘ مگر یہ معمہ آج تک نہیں سلجھ سکا کہ چودھری پرویزالٰہی کی ایک دم کیسے کایا کلپ ہو گئی جبکہ ان کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں رواداری کی سیاست کی مثال بنے چودھری خاندان میں واضح طورپر پھوٹ پیدا ہو گئی اور آج چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کی سیاسی راہیں عملاً الگ الگ ہو چکی ہیں۔
چودھری پرویزالٰہی جیسے زیرک سیاستدان کے دل میں قومی سیاست کو خلفشار کی جانب دھکیلنے کا سودا کیوں سمایا۔ اس کی گرہیں بھی یقینا کسی نہ کسی مرحلہ میں کھل جائیں گی مگر آئین و قانون کی حکمرانی اور عدالتی فیصلوں کی عملداری سے انحراف کا جو داغ ان کے دامن پر لگ چکا ہے‘ وہ ان کی مستقبل کی سیاست میں بھی ان کا پیچھا کرتا رہے گا۔ میرے خیال میں یہ کسی کو زیر کرنے سے زیادہ اپنی انا کی تسکین کامعاملہ تھا جس میں اپنی ہی مستحکم بنائی گئی بہت سی قدریں اپنے ہی ہاتھوں پامال کر دی گئی ہیں۔ اس سیاست میں گزشتہ چار ماہ کے دوران جو کچھ ہوا‘ وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اس میں عثمان بزدار کے استعفے کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملہ میں جس انتشار و اودھم کا راستہ اختیار کیا گیا‘ وہ پنجاب اسمبلی کی تاریخ کے یقینا سیاہ ابواب  میں شامل ہوگا۔ یہ انتخابی عمل بھی لاہور ہائیکورٹ کے احکام کے تحت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی صدارت میں شروع ہوا جسے سپیکر پنجاب اسمبلی نے سبوتاژ کرکے درحقیقت ہائیکورٹ کے احکام کی دھجیاں بکھیریں۔ پھر گورنر پنجاب کے منصب پر جو دھماچوکڑی مچائی۔ اس میں آئین و قانون کی عملداری  بے بسی کی تصویر بنی نظر آتی رہی۔ حمزہ شہباز شریف پنجاب اسمبلی کے 16 اپریل کے اجلاس میں 197 ووٹ لیکر منتخب ہو گئے تو پندرہ روز تک ان کی حلف برداری ہی نہ ہونے دی گئی اور پھر 30 اپریل کو ہائیکورٹ کے حکم کے تحت انہوں نے حلف اٹھایا تو کابینہ کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جانے لگیں۔ چنانچہ صوبائی انتظامیہ بھی گومگو میں پڑی رہی کہ ان کیلئے کسی ایک کا ساتھ دینے  کے معاملے میں ’’حسینی‘‘ اور ’’یزیدی‘‘ قافلے میں امتیاز پیدا کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے تو قائم مقام گورنر پنجاب کا منصب سنبھالنے کا آئینی تقاضا نبھانے سے بھی گریز کیا۔ اس کے بعد پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا مرحلہ آیا تو سپیکر نے اسے بھی سبوتاژ کرنے کیلئے راستے نکالنا شروع کر دیئے۔ چنانچہ پنجاب اسمبلی کی یہ ’’اچھوتی‘‘ مثال بھی تاریخ میں رقم ہوچکی ہے کہ بیک وقت اسمبلی کے دو الگ الگ اجلاس دو الگ الگ مقامات پر منعقد ہوتے رہے۔ یقینا ان الگ الگ اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی اپنی اپنی مفاداتی سیاست کے تحت درفنطنیاں چھوڑی جاتی رہیں گی۔ جس طرح اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے حوالے سے اچھل کود کیساتھ ساتھ غم و غصہ کا اظہار بھی جاری ہے۔
بے شک عدالت عالیہ کے اس فیصلہ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور حلف سے متعلق 16 اپریل اور 30 اپریل کی کارروائیاں ختم کرکے فریقین کو وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے دوبارہ گنتی کی جانب جانے کا کہا گیا ہے۔ جس کیلئے گورنر پنجاب کو آج یکم جولائی کو بطور خاص شام چار بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور کل 2 جولائی کو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کی ہدایت کی گئی ہے اور ساتھ ہی اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر سردار مزاری کو پابند کیا گیا ہے کہ و ہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں منحرف ہونے کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونے والے ارکان کے ووٹ شمار نہیں کریں گے۔ اس طرح آج کے اجلاس میں ہائوس کے اندر جتنے بھی ارکان موجود ہونگے‘ وہ رن آف الیکشن کے طریق کار کے تحت وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے  دوبارہ گنتی کے پراسس میں شریک ہونگے۔ ان حاضر ارکان میں سے چودھری پرویزالٰہی اور حمزہ شہباز میں سے وزارت اعلیٰ کا جو امیدوار زیادہ ووٹ لے گا وہ وزیراعلیٰ کے منصب پر منتخب ہو جائے گا۔
اس وقت پنجاب اسمبلی کے ہائوس میں ڈی سیٹ ہونے والے ارکان بشمول مخصوص نشستوں والی پانچ خواتین ارکان کو نکال کرجو بھی پوزیشن بنتی ہے‘ اس میں 177 نشستیں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی ہیں اور 173 نشستیں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے پاس ہیں‘ چنانچہ وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں مسلم لیگ (ن) کا پلڑا اب بھی بھاری نظر آتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ہونے والے اس رن آف الیکشن کو سبوتاژ کرنا یا اس کا نتیجہ اپنے حق میں تبدیل کرنا یقینا اب پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے  بس میں نہیں ہوگا۔ اگر اجلاس میں 16 اپریل جیسا اودھم مچایا گیا تو متعلقین لامحالہ توہین عدالت کی کارروائی کی زد میں آئیں گے۔  اسی طرح سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظرمیں کسی ایک فریق کی جانب سے کسی دوسرے فریق کے اندر سے کسی رکن کو خرید کر اپنے ساتھ ملانا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ چنانچہ  ووٹوں کی گنتی کے موقع پر پوزیشن وہی رہے گی جو اس وقت موجود ہے اور یہ پوزیشن مسلم لیگ (ن) کی چار پانچ ووٹوں کی برتری ظاہر کر رہی ہے۔ تو جناب! سیاست میں اودھم مچانے اور آئین و قانون سے کھلواڑ کرنے کے اس کھیل میں آپ کے ہاتھ پلے کیا آیا۔ آپ خود ہی اپنے اقدامات پر تاسف کا اظہار کر لیجئے۔ اب تو آپ کے پاس عدالتی فیصلوں کی  بھد اڑانے کی بھی گنجائش نہیں رہی کیونکہ عدالت عالیہ کی جانب سے درخواستوں کی منظوری پر آپ نے جتنا جشن منایا ہے اور اسی فیصلہ کی بنیاد پر اپنے مخالفین پر جتنی پھبتیاں کس لی ہیں‘ اس کے بعد مزید اودھم مچانے آپ کس منہ سے باہر نکلیں گے۔ اس گناہِ بے لذت میں؎
کعبے کس منہ سے جائو گے غالب
تو جناب اب بس کر دیجئے۔اس ملک‘ عوام اور سسٹم پر رحم کھایئے ورنہ تاریخ آپ پر ہرگز رحم نہیں کھائے گی۔